خطبہ 58 میں امام علی علیہ السلام نے خوارج کو مخاطب کرتے ہوئے ان کے مستقبل کی مشکلات اور ان کے غلط راستے پر چلنے کی پیشنگوئی کی ہے۔ یہ خطبہ اس وقت دیا گیا جب خوارج، جو کہ ایک مخصوص گروہ تھا، امام علی علیہ السلام کے خلاف بغاوت پر اتر آئے تھے۔ یہ واقعہ تقریباً 657 عیسوی میں پیش آیا جب امام علی علیہ السلام کی خلافت کے دوران خوارج نے جنگ نہروان میں شرکت کی اور بعد میں امام کے فیصلوں سے نالاں ہو کر ان کے خلاف ہو گئے۔
امام علیہ السلام نے فرمایا کہ ان پر سخت آندھیاں آئیں گی اور ان میں کوئی اصلاح کرنے والا باقی نہیں رہے گا۔ یہ ایک علامت ہے کہ جب قومیں اپنی اصلاح کی کوشش نہیں کرتیں تو ان کے درمیان سے رہنمائی کرنے والے لوگ ختم ہو جاتے ہیں۔ اس میں یہ پیغام بھی ہے کہ انسان کو ہمیشہ اپنے ایمان کی حفاظت کرنی چاہیے اور کسی بھی حالت میں کفر کی گواہی نہیں دینی چاہیے۔
امام نے ان کو اپنے پرانے بدترین ٹھکانوں کی طرف لوٹنے کا کہا، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انہیں اپنی غلطیوں کا ادراک کرنا چاہیے اور ان کی اصلاح کرنی چاہیے۔ یہ ایک اہم سبق ہے کہ انسان کو اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے ان کی اصلاح کرنی چاہیے، ورنہ وہ ذلت اور رسوائی کا شکار ہو جائے گا۔
یہ خطبہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہمیں اپنے ایمان کی حفاظت کرنی چاہیے، اور اگر ہم کسی غلط راستے پر چل رہے ہیں تو ہمیں فوراً اپنی اصلاح کرنی چاہیے۔ امام علی علیہ السلام کی یہ باتیں آج بھی ہمارے لئے رہنمائی کا ذریعہ ہیں کہ ہم اپنی زندگی میں صحیح راستے کا انتخاب کریں اور اللہ کی رضا کے حصول کے لئے کوشش کریں۔
