Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 69

تفصیلی وضاحت — خطبہ (69) : اہل عراق کی مذمت میں فرمایا:۔ (69- اہل عراق کی مذمت میں فرمایا)

خطبہ (69) میں امام علی علیہ السلام اہل عراق کی مذمت کرتے ہیں، جس میں وہ ان کی حالت کو ایک حاملہ عورت کی مثال دیتے ہیں جو مردہ بچہ پیدا کرتی ہے۔ یہ تشبیہ ان کی بے حسی اور نااہلی کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ خطبہ اس وقت دیا گیا جب امام علی (ع) کو اہل عراق کی جانب سے بے وفائی اور عدم وفاداری کا سامنا تھا۔ امام نے یہ خطبہ اس وقت دیا جب وہ کوفہ کی طرف آ رہے تھے اور لوگوں کی جانب سے ان پر الزامات لگائے جا رہے تھے۔

امام علی (ع) کا کہنا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے نہیں آئے بلکہ حالات کی مجبوری کی وجہ سے آئے ہیں۔ یہ ان کی مجبوری اور عزم کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں سے فرار نہیں ہوئے۔ امام نے اہل عراق کے درمیان پھیلنے والی افواہوں کا ذکر کیا کہ وہ ان پر جھوٹ بولنے کا الزام لگا رہے ہیں۔ یہ ان کی بے بنیاد باتوں کی مذمت ہے اور امام کی صداقت کی گواہی ہے۔

خطاب میں امام علی (ع) نے یہ بھی فرمایا کہ ان کی باتیں ایسی ہیں کہ اہل عراق انہیں سمجھ نہیں پا رہے ہیں۔ یہ ان کی علمی و فکری کمزوری کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ امام نے کہا کہ وہ علم کے قیمتی خزانے دے رہے ہیں، مگر لوگ ان کی قدر نہیں کر رہے۔ یہ ایک بڑی حقیقت ہے کہ علم کی قدر نہ کرنے کی وجہ سے لوگ اپنی ترقی اور کامیابی کے مواقع کھو دیتے ہیں۔

امام علی (ع) نے اہل عراق کو یہ بھی یاد دلایا کہ ایک دن وہ ان کی باتوں کی حقیقت کو سمجھیں گے۔ اس میں یہ سبق ہے کہ انسان کو صبر اور تحمل سے کام لینا چاہیے، اور وقت کے ساتھ ساتھ حقائق واضح ہو جاتے ہیں۔ یہ خطبہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہمیں علم کی تلاش میں کبھی بھی سست نہیں ہونا چاہیے اور ہر موقع پر علم کی قدر کرنی چاہیے۔