خطبہ (۶۸) میں امام علی علیہ السلام نے ایک اہم موقع پر یہ کلام فرمایا جب وہ شبِ ضربت کے وقت رسول اللہ ﷺ کے سامنے جلوہ فرما ہوئے۔ یہ موقع اس وقت کا ہے جب امام علی کو اپنی امت کی جانب سے مختلف قسم کی کجرویوں اور دشمنیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ خطبہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ امام علی نے اپنی امت کی حالت پر کتنا افسوس محسوس کیا اور انہوں نے کس طرح رسول اللہ ﷺ سے رہنمائی طلب کی۔
اس خطبے کا ایک اہم موضوع یہ ہے کہ امام علی نے اپنے لیے بد دعا کرنے کے بجائے اللہ سے دعا کی کہ ان کے بدلے انہیں بہتر لوگ عطا کیے جائیں۔ یہ ایک بہت بڑی روحانی تعلیم ہے کہ ہمیں ہمیشہ اپنے دشمنوں کے لیے بد دعا کرنے کے بجائے ان کے لیے بھلائی کی دعا کرنی چاہیے۔ یہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہمیں اپنے دل میں محبت اور خیرخواہی رکھنی چاہیے، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔
امام علی کی یہ دعا کہ "اللہ مجھے ان کے بدلے میں ان سے اچھے لوگ عطا کرے" اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی رحمت اور ہدایت کی طلب میں رہتے تھے۔ یہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہمیں اپنے مسائل کا حل اللہ کی طرف دیکھ کر تلاش کرنا چاہیے۔
خطبہ میں 'اَوَد' اور 'لَدَد' کے الفاظ کی تشریح بھی کی گئی ہے، جو کہ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ امام علی نے اپنی امت کی حالت کو کتنا سنجیدگی سے لیا۔ یہ الفاظ ہمیں یہ سمجھاتے ہیں کہ ان کی کجروی اور دشمنی کی نوعیت کیا تھی۔ یہ خطبہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ فصاحت اور بلاغت کا استعمال کس طرح ایک اہم پیغام کو مؤثر بناتا ہے۔
