Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 67

تفصیلی وضاحت — خطبہ (67) : اپنے اصحاب کی مذّمت میں فرمایا:۔ (67- اپنے اصحاب کی کجروی اور بے رخی کے بارے میں فرمایا)

خطبہ (67) : اپنے اصحاب کی مذّمت میں فرمایا:۔ (67- اپنے اصحاب کی کجروی اور بے رخی کے بارے میں فرمایا)

یہ خطبہ امام علی علیہ السلام کی اپنی جماعت کے بارے میں سخت تنقید پر مشتمل ہے۔ یہ خطبہ اس وقت پیش کیا گیا جب امام علی (ع) کی خلافت کو چیلنج کیا جا رہا تھا اور ان کے حامیوں کی حوصلہ شکنی اور بے حسی واضح تھی۔ امام (ع) نے اپنے ساتھیوں کی کمزوریوں اور ان کی بزدلی کی نشاندہی کی ہے، خاص طور پر جب دشمن کی طرف سے کوئی خطرہ آتا ہے۔

امام علی (ع) نے اپنے ساتھیوں کی مثال اس طرح دی ہے جیسے خالی کوہان والی اونٹیں یا پھٹے پرانے کپڑے، جو کسی کام کے نہیں رہ گئے۔ یہ تشبیہ ان کی بے حسی اور غیر فعال رویے کی عکاسی کرتی ہے۔ وہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھیوں میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ دشمن کا سامنا کریں، اور وہ خود کو محفوظ رکھنے کے لیے اپنے گھروں میں دبک جاتے ہیں۔

امام (ع) نے یہ بھی فرمایا کہ اگر ان کے پاس ایسے مددگار ہوں تو وہ ذلیل ہونے کے لیے مقدر ہیں۔ یہ ایک طاقتور پیغام ہے کہ جب تک انسان خود کو مضبوط نہیں کرے گا، اسے کبھی بھی کامیابی نہیں ملے گی۔ امام (ع) نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ وہ جانتے ہیں کہ ان کی اصلاح کیسے کی جا سکتی ہے، لیکن وہ اپنی روح کو بگاڑ کر ان کی اصلاح نہیں کرنا چاہتے۔

یہ خطبہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ حق کی پہچان اور اس کی حمایت کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ ہمیں اپنی کمزوریوں پر قابو پانا چاہیے اور حق کی راہ پر چلنے کے لیے ثابت قدم رہنا چاہیے۔ امام علی (ع) کی اس تنقید سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ بزدلی اور بے حسی سے کبھی بھی کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی۔

← اصل متن پر واپس جائیں