خطبہ 66 میں امام علی علیہ السلام نے محمد ابن ابی بکر کی شہادت پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ یہ خطبہ اس وقت دیا گیا جب محمد ابن ابی بکر کو مصر کی حکومت سونپی گئی اور بعد میں ان کے خلاف بغاوت کی گئی جس کے نتیجے میں وہ شہید ہوگئے۔ امام نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ ہاشم ابن عتبہ کو مصر کا والی بناتے تو وہ دشمنوں کو کبھی بھی میدان خالی نہیں چھوڑتے۔
اس خطبے میں ایک اہم پہلو یہ ہے کہ امام نے محمد ابن ابی بکر کی قابلیت اور محبت کا ذکر کیا۔ انہوں نے یہ واضح کیا کہ یہ بات ان کی مذمت کے لئے نہیں کہی گئی بلکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ محمد ابن ابی بکر ان کے لئے بہت عزیز تھے۔ امام کی یہ بات ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ کبھی کبھی حالات کی بنا پر ہمیں ایسے فیصلے کرنے پڑتے ہیں جو ہمیں پسند نہیں ہوتے۔
امام علی علیہ السلام کا یہ خطبہ ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ قیادت میں بصیرت اور حکمت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہاشم ابن عتبہ کی مثال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ایک مضبوط اور تجربہ کار رہنما کس طرح دشمنوں کے خلاف بہتر طور پر لڑ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، یہ بھی ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قیادت میں ذاتی تعلقات اور محبت کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
اس خطبے کے ذریعے امام نے یہ بھی واضح کیا کہ کسی کی شہادت یا ناکامی کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ناکام رہنما تھے۔ بلکہ یہ حالات کی ستم ظریفی ہو سکتی ہے۔ ہمیں اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے رہنماؤں کی قدر کرنی چاہئے اور ان کی محنت اور قربانیوں کو سمجھنا چاہئے۔
