Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 65

تفصیلی وضاحت — خطبہ (65) : سقیفہ بنی ساعدہ کی کاروائی سننے کے بعد فرمایا (65- سقیفہ بنی ساعدہ کی کاروائی سننے کے بعد فرمایا)

خطبہ ۶۵ میں امام علی علیہ السلام نے سقیفہ بنی ساعدہ کے واقعات کے بعد انصار اور قریش کے درمیان ہونے والے مباحثے کا ذکر کیا ہے۔ یہ خطبہ اس وقت کا ہے جب پیغمبر اکرم ﷺ کی وفات کے بعد مسلمانوں میں قیادت کے مسئلے پر اختلافات پیدا ہوئے تھے۔ سقیفہ بنی ساعدہ میں انصار نے یہ تجویز پیش کی کہ ایک امیر ان میں سے ہو اور ایک قریش سے۔ امام علی علیہ السلام نے اس تجویز پر سوال اٹھایا کہ اگر انصار کی قیادت کا حق تھا تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں وصیت کیوں کی تھی؟

امام علیہ السلام نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے انصار کے بارے میں کہا تھا کہ ان میں جو اچھا ہو اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قیادت کا حق صرف انصار کا نہیں ہے، بلکہ یہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے جس میں سب کو شامل کیا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ، امام نے قریش کے دعوے کا بھی ذکر کیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی نسل سے ہیں، لیکن امام نے اس بات پر تنقید کی کہ انہوں نے اس شجرہ کی حقیقت کو نظرانداز کیا اور اس کے پھلوں کو ضائع کر دیا۔

یہ خطبہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ قیادت کا حق صرف نسل یا قبیلے کی بنیاد پر نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لئے علم، کردار اور عوام کی خدمت کی بنیاد پر منتخب کیا جانا چاہیے۔ امام علی علیہ السلام نے اس خطبے میں عدل و انصاف کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا ہے۔ یہ بات آج کے دور میں بھی اہم ہے جہاں قیادت کے مسائل پر بحث ہوتی ہے۔

اس خطبے کا ایک اہم عملی سبق یہ ہے کہ ہمیں اپنی قیادت کے انتخاب میں صرف خاندانی پس منظر کو نہیں دیکھنا چاہیے، بلکہ اس شخص کی قابلیت، کردار اور عوامی خدمت کی بنیاد پر انتخاب کرنا چاہیے۔ امام علی علیہ السلام کی یہ تعلیمات ہمیں ایک بہتر معاشرے کی تشکیل کی طرف رہنمائی کرتی ہیں۔