خطبہ (73) میں امام علی علیہ السلام نے بنی امیہ کی جانب سے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا ذکر کیا ہے۔ یہ خطبہ اس وقت دیا گیا جب بنی امیہ نے آپ پر یہ الزام لگایا کہ آپ نے عثمان بن عفان کے قتل میں حصہ لیا۔ یہ ایک اہم تاریخی موقع تھا، کیونکہ یہ واقعہ اسلامی تاریخ میں ایک بڑی فتنہ و فساد کی علامت بن گیا۔ امام علی علیہ السلام نے اس خطبے میں اپنے ایمان کی پختگی اور اسلامی خدمات کا ذکر کیا، جو کہ ان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ہے۔
امام نے فرمایا کہ ان کی علمی اور ایمانی حیثیت نے بھی بنی امیہ کو ان پر جھوٹے الزامات لگانے سے نہیں روکا۔ یہ بات اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بعض اوقات لوگ علم و فضیلت کے باوجود اپنی جہالت کی بنا پر دوسروں پر بہتان لگاتے ہیں۔ امام علی علیہ السلام نے اس بات پر زور دیا کہ اللہ کی طرف سے جو نصیحتیں ہیں، وہ ان کی اپنی باتوں سے زیادہ مؤثر ہیں۔
خطاب میں امام نے یہ بھی فرمایا کہ وہ ان بے دین لوگوں کے خلاف حجت پیش کریں گے، اور قرآن کو ہر شک و شبہ کے معاملے میں پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ایک اہم اصول ہے جو آج بھی مسلمانوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے کہ ہر معاملے میں قرآن کی طرف رجوع کیا جائے۔
امام کا یہ خطبہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہمیں اپنی نیتوں کی صفائی رکھنی چاہیے اور ہر معاملے میں اللہ کی رضا کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ اس کے علاوہ، یہ بھی واضح ہے کہ جھوٹے الزامات کا سامنا کرنے کے باوجود صبر اور استقامت کا مظاہرہ کرنا ضروری ہے۔
