خطبہ (72) میں امام علی علیہ السلام نے اس وقت کی صورت حال پر روشنی ڈالی جب لوگوں نے عثمان بن عفان کی بیعت کا ارادہ کیا۔ یہ خطبہ ایک اہم تاریخی موقع پر دیا گیا، جب مسلمانوں کے درمیان خلافت کے حوالے سے اختلافات بڑھ رہے تھے۔ امام علیہ السلام نے اس خطبے کے ذریعے اپنی خلافت کے حق کا دفاع کیا اور یہ واضح کیا کہ انہیں اس منصب کے لیے سب سے زیادہ حق دار سمجھا جاتا ہے۔
امام نے فرمایا کہ جب تک مسلمانوں کے امور کا نظم و نسق برقرار رہے گا، وہ خاموش رہیں گے، حالانکہ ان کی ذات ظلم و ستم کا نشانہ بنی ہوئی ہے۔ یہ ان کی صبر و استقامت کی مثال ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ اپنی ذاتی خواہشات کو مسلمانوں کی بھلائی پر ترجیح دیتے ہیں۔ امام کا یہ قول ہمیں سکھاتا ہے کہ کبھی کبھار خاموش رہنا اور صبر کرنا بھی ایک بڑی طاقت ہے۔
امام علی علیہ السلام نے اپنی خاموشی کو ایک طرح کی قربانی قرار دیا، جس کا مقصد اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے۔ یہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہمیں اپنی ذاتی خواہشات سے زیادہ اجتماعی بہتری کے لیے سوچنا چاہیے۔ امام کی یہ باتیں ہمیں اس بات کی طرف بھی متوجہ کرتی ہیں کہ انسان کو اپنی فضیلت کا دعویٰ کرتے وقت ہمیشہ اللہ کی رضا کو مقدم رکھنا چاہیے۔
اس خطبے سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ امام علی علیہ السلام کی شخصیت میں ایک خاص قسم کی زہد اور سادگی ہے۔ انہوں نے دنیاوی زینت اور آرائش کو ترک کر دیا، جو کہ ایک عظیم اخلاقی سبق ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم دنیاوی چیزوں کی محبت میں اتنے مگن نہ ہوں کہ ہم اپنی روحانی ترقی کو بھول جائیں۔
