خطبہ (71) میں امام علی علیہ السلام کی گفتگو کا پس منظر اس وقت کا ہے جب مروان بن حکم کو جنگ جمل کے دوران گرفتار کیا گیا۔ مروان نے امام حسن اور امام حسین علیہما السلام سے درخواست کی کہ وہ اس کی سفارش کریں۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اسلامی معاشرے میں سیاسی کشیدگی عروج پر تھی، خاص طور پر عثمان بن عفان کے قتل کے بعد۔ امام علی علیہ السلام نے مروان کو رہا تو کیا، لیکن اس کی بیعت کو مسترد کر دیا۔
اس خطبے میں اہم موضوعات میں سیاسی بصیرت، وفاداری، اور قیادت کی ذمہ داری شامل ہیں۔ امام علی علیہ السلام نے واضح کیا کہ مروان کی بیعت کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ اس نے پہلے ہی بیعت کی تھی اور اس کی وفاداری مشکوک ہے۔ انہوں نے مروان کے بارے میں کہا کہ اس کی بیعت ایک 'یہودی قسم کا ہاتھ' ہے، جو اس کی غیر مستقل مزاجی اور وفاداری کی کمی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
امام نے یہ بھی فرمایا کہ مروان اور اس کے بیٹے قوم پر سختی کریں گے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ قیادت کی ذمہ داری صرف اہل اور وفادار افراد کے سپرد ہونی چاہیے۔ یہ بات ہمیں اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ سیاسی معاملات میں احتیاط برتنا ضروری ہے اور ہمیں ایسے لوگوں کی حمایت نہیں کرنی چاہیے جن کی نیت مشکوک ہو۔
اس خطبے کا ایک اہم سبق یہ ہے کہ قیادت کا انتخاب کرتے وقت ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ لوگ جنہیں ہم منتخب کرتے ہیں، ان کی وفاداری اور نیت کا کیا حال ہے۔ امام علی علیہ السلام نے ہمیں یہ سکھایا کہ ہمیں ان لوگوں سے دور رہنا چاہیے جو صرف اپنے مفادات کے لیے کام کرتے ہیں۔
