خطبہ (۸۶) میں امام علی (علیہ السلام) نے امت مسلمہ کے مختلف فرقوں کی تقسیم اور ان کے اندر پیدا ہونے والی غلط فہمیوں پر روشنی ڈالی ہے۔ یہ خطبہ اس وقت کی تاریخی پس منظر میں اہم ہے جب اسلامی معاشرہ مختلف نظریات اور فرقوں میں بٹ رہا تھا۔ امام علی (ع) نے اس خطبہ میں اللہ کی حکمت کا ذکر کیا ہے کہ وہ کسی سرکش کو سزا دینے سے پہلے اسے مہلت دیتا ہے، اور کسی قوم کو ہدایت دینے سے پہلے انہیں آزمائشوں میں مبتلا کرتا ہے۔
امام (ع) نے فرمایا کہ جو مشکلات اور مصیبتیں تمہیں پیش آئیں ہیں، ان سے سبق سیکھنا ضروری ہے۔ یہ بات واضح کرتی ہے کہ انسان کو اپنی حالت پر غور کرنا چاہیے اور اپنی غلطیوں سے سیکھنا چاہیے۔ ہر شخص سمجھدار نہیں ہوتا، اور نہ ہی ہر سننے والا سننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ایک اہم پیغام ہے کہ ہمیں اپنی عقل اور سمجھ بوجھ کا استعمال کرنا چاہیے۔
امام علی (ع) نے مختلف فرقوں کی غلطیوں پر حیرت کا اظہار کیا ہے، جو دین کے بنیادی اصولوں سے دور ہو چکے ہیں۔ انہوں نے ان کی خودپسندی کی نشاندہی کی ہے کہ ہر فرقہ اپنی خواہشات کے مطابق دین کی تشریح کرتا ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں دین کی اصل تعلیمات کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور اپنی خواہشات کو دین پر غالب نہیں آنے دینا چاہیے۔
یہ خطبہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ دین کی سچائی کو جانچنے کے لیے ہمیں نبی اور ان کے جانشینوں کے نقش قدم پر چلنا چاہیے۔ یہ ایک روحانی سبق ہے کہ ہمیں اپنے دل کی سننی چاہیے اور اپنی آنکھوں اور کانوں کو حقیقت کی طرف کھولنا چاہیے۔
آخر میں، امام علی (ع) نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ہمیں اپنی آراء پر اعتماد کرنے کے بجائے صحیح علم اور معتبر ذرائع سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔ یہ پیغام آج بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا اس وقت تھا، کہ ہمیں اپنے ایمان کی بنیاد کو مضبوط کرنا چاہیے اور فرقوں کی تقسیم سے بچنا چاہیے۔
