خطبہ (87) میں امام علی علیہ السلام نے اس وقت کی دنیا کی حالت کا ذکر کیا جب اللہ نے اپنے پیغمبر ﷺ کو بھیجا۔ یہ وہ وقت تھا جب رسولوں کا سلسلہ رکا ہوا تھا اور تمام قومیں ایک طویل نیند میں تھیں۔ اس دور میں فتنوں کا آغاز ہو چکا تھا، جنگوں کی آگ بھڑک رہی تھی، اور دنیا کی رونق ختم ہو چکی تھی۔ یہ ایک ایسی دنیا تھی جہاں ہر چیز بکھری ہوئی تھی، ہدایت کے مینار مٹ چکے تھے، اور لوگ گمراہی کے پرچم تلے تھے۔ امام علیہ السلام نے اس وقت کی دنیا کی حالت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس کے پھل فتنہ تھے اور اس کی غذا مردار تھی۔
امام نے اس خطبے میں لوگوں کو عبرت حاصل کرنے کی دعوت دی اور انہیں یاد دلایا کہ ان کے باپ اور بھائی بھی انہی بد اعمالیوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ یہ ایک اخلاقی درس ہے کہ انسان کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا اور اس کے نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔ امام نے واضح کیا کہ لوگوں کا زمانہ ان کے زمانے سے زیادہ پیچھے نہیں ہے، اور یہ کہ ان کے اور ان کے درمیان صدیوں کا فاصلہ نہیں ہے۔ یہ بات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ تاریخ کے سبق کو سمجھنا ضروری ہے۔
امام علی علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا کہ جو باتیں رسول اللہ ﷺ نے لوگوں تک پہنچائیں، وہی باتیں آج بھی لوگوں کو سنائی جا رہی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دین اسلام کی بنیادیں ہمیشہ ایک جیسی رہی ہیں اور ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ امام نے اس بات کی وضاحت کی کہ لوگوں کو ان کی آنکھیں اور دل دیے گئے ہیں جیسے کہ پہلے لوگوں کو دیے گئے تھے۔ یہ ایک روحانی پیغام ہے کہ ہر دور کے لوگوں کو ہدایت کی ضرورت ہے اور یہ ہدایت ہمیشہ موجود رہی ہے۔
امام نے اس خطبے کے آخر میں لوگوں کو خبردار کیا کہ وہ دنیا کی عارضی چمک دمک سے دھوکہ نہ کھائیں کیونکہ یہ سب ایک محدود سایہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیاوی چیزیں عارضی ہیں اور ان کی حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے۔ یہ نصیحت ہمیں بتاتی ہے کہ ہمیں اپنی زندگیوں میں مستقل چیزوں کی تلاش کرنی چاہیے، جیسے کہ ایمان اور اخلاقی اقدار۔
