خطبہ (88) میں امام علی علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی صفات پر روشنی ڈالی ہے۔ یہ خطبہ ایک ایسے وقت میں دیا گیا جب اسلامی معاشرہ مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہا تھا۔ امام علی علیہ السلام نے اللہ کی بے نظیر صفات کی وضاحت کی اور اس کی رحمت اور عذاب کے توازن کو بیان کیا۔ یہ خطبہ نہ صرف اللہ کی عظمت کو بیان کرتا ہے بلکہ انسان کی خود احتسابی کی اہمیت پر بھی زور دیتا ہے۔
امام علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی صفات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ بغیر نظر آنے کے جانے پہچانے ہیں، جو کہ اس کی بے نظیر قدرت کی علامت ہے۔ اس کے علاوہ، اللہ کی علم اور قدرت کا ذکر کرتے ہوئے امام علیہ السلام نے بتایا کہ وہ ہر چیز کو جانتا ہے، یہاں تک کہ انسان کی چھپی ہوئی نیتیں بھی۔ یہ بات ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اللہ کی نظر ہر وقت ہمارے اعمال پر ہے، اور ہمیں اپنے اعمال کا محاسبہ خود کرنا چاہیے۔
امام علیہ السلام نے اللہ کی رحمت اور عذاب کا توازن بھی بیان کیا۔ وہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی رحمت وسیع ہے لیکن اس کا عذاب بھی سخت ہے۔ یہ ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ ہمیں اللہ کی رحمت کی امید رکھنی چاہیے لیکن اس کے عذاب سے بھی ڈرتے رہنا چاہیے۔ یہ دونوں پہلو ہمیں اللہ کی عبادت میں متوازن رہنے کی ترغیب دیتے ہیں۔
ایک اہم پیغام جو امام علیہ السلام نے اس خطبہ میں دیا ہے وہ خود احتسابی کا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ ہمیں اپنے نفس کا محاسبہ کرنا چاہیے قبل اس کے کہ ہمارا محاسبہ کیا جائے۔ یہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اگر ہم خود اپنی غلطیوں کو نہیں سمجھیں گے تو دوسروں کی نصیحت بھی ہمیں فائدہ نہیں دے گی۔
یہ خطبہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ اللہ پر توکل کرنا اور اس کی راہ میں خرچ کرنا ہمیں انعامات عطا کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، شکر گزاری کی اہمیت بھی بیان کی گئی ہے، کہ جو شخص اللہ کا شکر ادا کرتا ہے، اللہ اس کی جزا دیتا ہے۔ یہ سب باتیں ہمیں ایک بہتر انسان بننے کی ترغیب دیتی ہیں۔
