Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 89

تفصیلی وضاحت — خطبہ (89) : آسمان و زمین کی خلقت اور زمین کے پانی پر بچھائے جانے کے بارے میں (89- (خطبہ اشباح) آسمان و زمین کی خلقت)

خطبہ (89) : آسمان و زمین کی خلقت اور زمین کے پانی پر بچھائے جانے کے بارے میں (89- (خطبہ اشباح) آسمان و زمین کی خلقت)

یہ خطبہ‘‘ اشباح‘‘ کے نام سے مشہور ہے اور امیر المومنین علیہ السلام کے بلند پایہ خطبوں میں شمار ہوتا ہے۔ اسے ایک سائل کے جواب میں ارشاد فرمایا تھا جس نے آپؑ سے یہ سوال کیا تھا کہ: آپؑ خلاق عالم کے صفات کو اس طرح بیان فرمائیں کہ ایسا معلوم ہو جیسے ہم اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ اس پر حضرتؑ غضب ناک ہو گئے اور فرمایا: تمام حمد اس اللہ کیلئے ہے کہ جو فیض و عطا کے روکنے سے مالدار نہیں ہو جاتا اور جود و عطا سے کبھی عاجز و قاصر نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ اس کے سوا ہر دینے والے کے یہاں داد و دہش سے کمی واقع ہوتی ہے اور ہاتھ روک لینے پر انہیں برا سمجھا جا سکتا ہے۔ وہ فائدہ بخش نعمتوں اور عطیوں کی فراوانیوں اور روزیوں (کی تقسیم) سے ممنون احسان بنانے والا ہے۔ ساری مخلوق اس کا کنبہ ہے، اس نے سب کے رزق کا ذمہ لیا ہے اور سب کی روزیاں مقرر کر رکھی ہیں۔

اس خطبے میں امام علی علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بے شمار صفات کا ذکر کیا ہے، جیسے کہ وہ سب سے پہلے اور سب سے آخر ہیں، اور ان کی قدرت کے بارے میں وضاحت کی ہے کہ وہ کسی جگہ پر نہیں ہیں کہ ان کا کوئی مقام ہو۔ اس کے علاوہ، امام نے یہ بھی بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کرنے کی صفت کبھی کم نہیں ہوتی، چاہے لوگ کتنی ہی طلب کریں، اس کی سخاوت میں کوئی کمی نہیں آتی۔ یہ بات ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہمیں اللہ کی رحمت اور عطا کی امید رکھنی چاہیے، چاہے ہماری حالت کیسی بھی ہو۔

امام نے اس خطبے میں یہ بھی واضح کیا کہ علم میں راسخ لوگ وہ ہیں جو غیب کے پردوں میں چھپی ہوئی چیزوں کا اجمالی طور پر اقرار کرتے ہیں، اور جو چیزیں ان کے احاطہ علم سے باہر ہیں، ان پر غور و فکر کرنے کی بجائے اللہ کی حکمت پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہمیں اپنی عقل کی حدوں کو سمجھنا چاہیے اور اللہ کی عظمت کو اپنی سوچ کی بنیاد پر محدود نہیں کرنا چاہیے۔

اس خطبے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ امام علی علیہ السلام نے لوگوں کو یہ ہدایت دی کہ وہ ان صفات پر توجہ دیں جو قرآن میں بیان کی گئی ہیں، اور جو چیزیں قرآن یا سنت میں نہیں ہیں، ان کے بارے میں علم حاصل کرنے کی کوشش نہ کریں۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے دین کے اصولوں پر قائم رہنا چاہیے اور غیر ضروری بحثوں سے بچنا چاہیے۔

امام علی علیہ السلام کی یہ خطبہ ہمیں اللہ کی عظمت، اس کی صفات، اور علم کی حدود کے بارے میں ایک جامع بصیرت فراہم کرتا ہے۔ یہ ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ اللہ کی معرفت کا راستہ اس کی صفات کے بارے میں علم حاصل کرنے اور اس کی رحمت پر یقین رکھنے میں ہے، اور ہمیں اپنی عقل کی حدود کو پہچاننا چاہیے۔

← اصل متن پر واپس جائیں