خطبہ خطبہ : 89

خطبہ (89) : آسمان و زمین کی خلقت اور زمین کے پانی پر بچھائے جانے کے بارے میں (89- (خطبہ اشباح) آسمان و زمین کی خلقت)

خطبہ (۸۹)
یہ خطبہ‘‘ اشباح‘‘ [۱] کے نام سے مشہور ہے اور امیر المومنین علیہ السلام کے بلند پایہ خطبوں میں شمار ہوتا ہے۔ اسے ایک سائل کے جواب میں ارشاد فرمایا تھا جس نے آپؑ سے یہ سوال کیا تھا کہ: آپؑ خلاق عالم کے صفات کو اس طرح بیان فرمائیں کہ ایسا معلوم ہو جیسے ہم اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ اس پر حضرتؑ غضب ناک ہو گئے اور فرمایا:
تمام حمد اس اللہ کیلئے ہے کہ جو فیض و عطا کے روکنے سے مالدار نہیں ہو جاتا اور جود و عطا سے کبھی عاجز و قاصر نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ اس کے سوا ہر دینے والے کے یہاں داد و دہش سے کمی واقع ہوتی ہے اور ہاتھ روک لینے پر انہیں برا سمجھا جا سکتا ہے۔ وہ فائدہ بخش نعمتوں اور عطیوں کی فراوانیوں اور روزیوں (کی تقسیم) سے ممنون احسان بنانے والا ہے۔ ساری مخلوق اس کا کنبہ ہے، اس نے سب کے رزق کا ذمہ لیا ہے اور سب کی روزیاں مقرر کر رکھی ہیں [۲] ۔ اس نے اپنے خواہش مندوں اور اپنی نعمت کے طلب گاروں کیلئے راہ کھول دی ہے۔ وہ دست ِطلب کے نہ بڑھنے پر بھی اتنا ہی کریم ہے جتنا طلب و سوال کا ہاتھ بڑھنے پر۔
وہ ایسا اوّل ہے جس کیلئے کوئی قبل ہے ہی نہیں کہ کوئی شے اس سے پہلے ہو سکے اور ایسا آخر ہے جس کیلئے کوئی بعد ہے ہی نہیں تاکہ کوئی چیز اس کے بعد فرض کی جا سکے۔ وہ آنکھ کی پتلیوں کو (دور ہی سے) روک دینے والا ہے کہ وہ اسے پا سکیں یا اس کی حقیقت معلوم کر سکیں۔ اس پر زمانہ کے مختلف دور نہیں گزرتے کہ اس کے حالات میں تغیر و تبدل پیدا ہو۔ وہ کسی جگہ میں نہیں ہے کہ اس کیلئے نقل و حرکت صحیح ہو سکے۔
اگر وہ چاندی اور سونے جیسی نفیس دھاتیں کہ جنہیں پہاڑوں کے معدن (لمبی لمبی) سانسیں بھر کر اچھال دیتے ہیں اور بکھرے ہوئے موتی اور مرجان کی کٹی ہوئی شاخیں کہ جنہیں دریاؤں کی سیپیاں کھل کھلا کر ہنستے ہوئے اُگل دیتی ہیں، بخش دے تو اس سے اس کے جو دو عطا پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور نہ اس کی دولت کا ذخیرہ اس سے ختم ہو سکتا ہے اور اس کے پاس پھر بھی انعام و اکرام کے اتنے ذخیرے موجود رہیں گے جنہیں لوگوں کی مانگ ختم نہیں کر سکتی۔ اس لئے کہ وہ ایسا فیاض ہے جسے سوالوں کا پورا کرنا مفلس نہیں بنا سکتا اور گِڑ گڑا کر سوال کرنے والوں کا حد سے بڑھا ہوا اصرار بخل پر آمادہ نہیں کر سکتا۔
اے (اللہ کی صفتوں کو) دریافت کرنے والے دیکھو! کہ جن صفتوں کا تمہیں قرآن نے پتہ دیا ہے (ان میں) تم اس کی پیروی کرو اور اسی کے نور ہدایت سے کسب ِضیا کرتے رہو اور جو چیزیں کہ قرآن میں واجب نہیں اور نہ سنت پیغمبرؐ و آئمہؑ ہُدیٰ میں ان کا نام و نشان ہے اور صرف شیطان نے اس کے جاننے کی تمہیں زحمت دی ہے، اس کا علم اللہ ہی کے پاس رہنے دو اور یہی تم پر اللہ کے حق کی آخری حد ہے۔
اور اس بات کو یاد رکھو کہ علم میں راسخ و پختہ لوگ وہی ہیں کہ جو غیب کے پردوں میں چھپی ہوئی ساری چیزوں کا اجمالی طور پر اقرار کرتے (اور ان پر اعتقاد رکھتے) ہیں، اگرچہ ان کی تفسیر و تفصیل نہیں جانتے اور یہی اقرار انہیں غیب پر پڑے ہوئے پر دوں میں درانہ گھسنے سے بے نیاز بنائے ہوئے ہے۔ اور اللہ نے اس بات پر ان کی مدح کی ہے کہ جو چیز ان کے احاطہ علم سے باہر ہوتی ہے اس کی رسائی سے اپنے عجز کا اعتراف کر لیتے ہیں اور اللہ نے جس چیز کی حقیقت سے بحث کرنے کی تکلیف نہیں دی اس میں تعمق و کاوش کے ترک ہی کا نام رسوخ رکھا ہے۔ لہٰذا بس اسی پر اکتفا کر و اور اپنے عقل کے پیمانہ کے مطابق اللہ کی عظمت کو محدود نہ بناؤ، ورنہ تمہارا شمار ہلاک ہونے والوں میں قرار پائے گا۔
وہ ایسا قادر ہے کہ جب اس کی قدرت کی انتہا معلوم کرنے کیلئے وہم اپنے تیر چلا رہا ہو اور فکر ہر طرح کے وسوسوں کے ادھیڑ بن سے آزاد ہو کر اس کے قلمرو مملکت کے گہرے بھیدوں پر آگاہ ہونے کے درپے ہو اور دل اس کی صفتوں کی کیفیت سمجھنے کیلئے والہانہ طور پر دوڑ پڑے ہوں اور ذاتِ الٰہی کو جاننے کیلئے عقلوں کی جستجو و تلاش کی راہیں حدِّ بیان سے زیادہ دور تک چلی گئی ہوں تو اللہ اس وقت جب وہ غیب کی تیرگیوں کے گڑھوں کو عبور کر رہی ہوتی ہیں، ان سب کو (ناکامیوں کے ساتھ) پلٹا دیتا ہے۔ چنانچہ جب اس طرح منہ کی کھا کر پلٹتی ہیں تو انہیں یہ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ ایسی بے راہ رویوں سے اس کی معرفت کا کھوج نہیں لگایا جا سکتا اور نہ فکر پیماؤں کے دلوں میں اس کی عزت کے تمکنت و جلال کا ذرا سا شائبہ آ سکتا ہے۔
وہ وہی ہے کہ جس نے مخلوقات کو ایجاد کیا بغیر اس کے کہ کوئی مثال اپنے سامنے رکھتا اور بغیر اس کے کہ اپنے سے پہلے کسی اور خالق و معبود کی بنائی ہوئی چیزوں کا چربہ اتارتا۔ اس نے اپنی قدرت کی بادشاہت اور ان عجیب چیزوں کے واسطہ سے کہ جن میں اس کی حکمت و دانائی کے آثار (منہ سے) بول رہے ہیں اور مخلوق کے اس اعتراف سے کہ وہ اپنے رکنے تھمنے میں اس کے سہارے کی محتاج ہے، ہمیں وہ چیزیں دکھائی ہیں کہ جنہوں نے قہراً دلیل قائم ہو جانے کے دباؤ سے اس کی معرفت کی طرف ہماری راہنمائی کی ہے اور اس کی پیدا کردہ عجیب و غریب چیزوں میں اس کی صنعت کے نقش و نگار اور حکمت کے آثار نمایاں اور واضح ہیں۔ چنانچہ ہر مخلوق اس کی ایک حجت اور ایک برہان بن گئی ہے۔ چاہے وہ خاموش مخلوق ہو، مگر اللہ کی تدبیر و کار سازی کی ایک بولتی ہوئی دلیل ہے اور ہستی صانع کی طرف اس کی راہنمائی ثابت و برقرارہے۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ جس نے تجھے تیری ہی مخلوق سے ان کے اعضاء کے الگ الگ ہونے اور تیری حکمت کی کارسازیوں سے گوشت و پوست میں ڈھکے ہوئے ان کے جوڑوں کے سروں کے ملنے میں تشبیہ دی، اس نے اپنے چھپے ہوئے ضمیر کو تیری معرفت سے وابستہ نہیں کیا اور اس کے دل کو یہ یقین چھو بھی نہیں گیا کہ تیرا کوئی شریک نہیں۔ گویا اس نے پیرو کاروں کا یہ قول نہیں سنا جو اپنے مقتداؤں سے بیزاری چاہتے ہوئے یہ کہیں گے کہ: ’’خدا کی قسم! ہم تو قطعاً ایک کھلی ہوئی گمراہی میں تھے کہ جب ہم سارے جہاں کے پالنے والے کے برابر تمہیں ٹھہرایا کرتے تھے‘‘۔
وہ لوگ جھوٹے ہیں جو تجھے دوسروں کے برابر سمجھ کر اپنے بتوں سے تشبیہ دیتے ہیں اور اپنے وہم میں تجھ پر مخلوقات کی صفتیں جڑ دیتے ہیں اور اپنے خیال میں اس طرح تیرے حصے بخرے کرتے ہیں جس طرح مجسم چیزوں کے جوڑ بند الگ الگ کئے جاتے ہیں اور اپنی عقلوں کی سوجھ بوجھ کے مطابق تجھے مختلف قوتوں والی مخلوقات پر قیاس کرتے ہیں۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ جس نے تجھے تیری مخلوق میں سے کسی کے برابر جانا اس نے تیرا ہمسر بنا ڈالا اور تیرا ہمسر بنانے والا تیری کتاب کی محکم آیتوں کے مضامین اور ان حقائق کا جنہیں تیری طرف کے روشن دلائل واضح کررہے ہیں منکر ہے۔ تو وہ اللہ ہے کہ عقلوں کی حد میں گھر نہیں سکتا کہ ان کی سوچ بچار کی زد پر آ کر کیفیات کو قبول کر لے اور نہ ان کے غور و فکر کی جو لانیوں میں تیری سمائی ہے کہ تو محدود ہو کر ان کے فکری تصرفات کا پابند بن جائے۔
[اسی خطبہ کا ایک حصہ یہ ہے]
اس نے جو چیزیں پیدا کیں ان کا ایک اندازہ رکھا مضبوط و مستحکم اور ان کا انتظام کیا عمدہ و پاکیزہ اور انہیں ان کی سمت پر اس طرح لگایا کہ نہ وہ اپنی آخری منزل کی حدوں سے آگے بڑھیں اور نہ منزل منتہا تک پہنچنے میں کوتاہی کی۔ جب انہیں اللہ کے ارادے پر چل پڑنے کا حکم دیا گیا تو انہوں نے سرتابی نہیں کی اور وہ ایسا کر ہی کیوں کر سکتی تھیں، جب کہ تمام امور اسی کی مشیت و ارادہ سے صادر ہوئے ہیں۔
وہ گوناگوں چیزوں کا موجد ہے بغیر کسی سوچ بچار کی طرف رجوع کئے اور بغیر طبیعت کی کسی جولانی کے کہ جسے دل میں چھپائے ہو اور بغیر کسی تجربہ کے کہ جو زمانہ کے حوادث سے حاصل کیا ہو اور بغیر کسی شریک کے کہ جو ان عجیب و غریب چیزوں کی ایجاد میں اس کا معین و مددگار رہا ہو۔ چنانچہ مخلوق (بن بنا کر) مکمل ہو گئی اور اس نے اللہ کی اطاعت کے سامنے سر جھکا دیا اور (فوراً) اس کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے بڑھی، نہ کسی دیر کرنے والے کی سی سست رفتاری دامن گیر ہوئی اور نہ کسی حیل حجت کرنے والے کی سی سستی اور ڈھیل حائل ہوئی۔ اس نے ان چیزوں کے ٹیڑھے پن کو سیدھا کر دیا اور ان کی حدیں معین کر دیں اور اپنی قدرت سے ان متضاد چیزوں میں ہم رنگی و ہم آہنگی پیدا کی اور نفسوں کے رشتے (بدنوں سے) جوڑ دیئے اور انہیں مختلف جنسوں پر بانٹ دیا جو اپنی حدوں، اندازوں، طبیعتوں اور صورتوں میں جُدا جُدا ہیں۔ یہ نو ایجاد مخلوق ہے کہ جس کی ساخت اس نے مضبوط کی ہے اور اپنے ارادے کے مطابق اسے بنایا اور ایجاد کیا۔
[اسی خطبہ کا ایک جز یہ ہے آسمان کے وصف میں]
اس نے بغیر (کسی چیز سے) وابستہ کئے اس کے شگافوں کے نشیب و فراز کو مرتب کر دیا اور اس کے دراڑوں کی کشادگیوں کو ملادیا اور انہیں آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ جکڑ دیا اور اس کے احکام کو لے کر اترنے والوں اور خلق کے اعمال کو لے کر چڑھنے والوں کیلئے اس کی بلندیوں کی دشوار گزاری کو آسان کر دیا۔ ابھی وہ آسمان دھوئیں ہی کی شکل میں تھے کہ اللہ نے انہیں پکارا تو (فوراً) ان کے تسموں کے رشتے آپس میں متصل ہو گئے۔ اس نے ان کے بند دروازوں کو بستہ ہونے کے بعد کھول دیا اور ان کے سوراخوں پر ٹوٹتے ہوئے تاروں کے نگہبان کھڑے کر دیئے اور انہیں اپنے زور سے روک دیا کہ کہیں وہ ہوا کے پھیلاؤ میں ادھر ادھر نہ ہو جائیں اور انہیں مامور کیا کہ وہ اس کے حکم کے سامنے سر جھکائے ہوئے اپنے مرکز پر ٹھہرے رہیں۔ اس نے فلک کے سورج کو دن کی روشن نشانی اور چاند کو رات کی دھندلی نشانی قرار دیا ہے اور انہیں ان کی منزلوں پر چلایا ہے اور ان کی گزرگاہوں میں ان کی رفتار مقرر کر دی ہے، تاکہ ان کے ذریعہ سے شب و روز کی تمیز ہو سکے اور انہی کے اعتبار سے برسوں کی گنتی اور (دوسرے) حساب جانے جا سکیں۔
پھر یہ کہ اس نے آسمانی فضا میں اس فلک کو آویزاں کیا اور اس میں اسی کی آرائش کیلئے منے منے موتیوں ایسے تارے اور چراغوں کی طرح چمکتے ہوئے ستارے آویزاں کئے اور چوری چھپے کان لگانے والوں پر ٹوٹتے ہوئے تاروں کے تیر چلائے اور ستاروں کو اپنے جبرو قہر سے ان کے دھڑے پر لگایا کہ کوئی ثابت رہے اور کوئی سیار، کبھی اتار ہو اور کبھی ابھار اور کسی میں نحوست ہو اور کسی میں سعادت۔
[اسی خطبہ کا ایک جز یہ ہے فرشتوں کے وصف میں]
پھر اللہ سبحانہ نے اپنے آسمانوں میں ٹھہرانے اور اپنی مملکت کے بلند طبقات کو آباد کرنے کیلئے فرشتوں کی عجیب و غریب مخلوق پیدا کی۔ ان سے آسمان کے وسیع راستوں کا گوشہ گوشہ بھر دیا اور اس کی فضا کی وسعتوں کا کونا کونا چھلکا دیا اور ان وسیع اطراف کی پہنائیوں میں تسبیح کرنے والے فرشتوں کی آوازیں قدس و پاکیزگی کی چار دیواریوں اور عظمت کے گہرے حجابوں اور بزرگی و جلال کے سرا پردوں میں گونجتی ہیں اور اس گونج کے پیچھے جس سے کان بہرے ہو جاتے ہیں تجلیات نور کی اتنی فراوانیاں ہیں کہ جو نگاہوں کو اپنے تک پہنچنے سے روک دیتی ہیں۔ چنانچہ وہ ناکام و نامراد ہو کر اپنی جگہ پر ٹھہری رہتی ہیں۔
اللہ نے ان (فرشتوں) کو جُدا جُدا صورتوں اور الگ الگ پیمانوں پر پیدا کیا ہے۔ وہ بال و پَر رکھتے ہیں اور اس کے جلال و عزت کی تسبیح کرتے رہتے ہیں اور مخلوق میں جو اس کی صنعتیں اجاگر ہوئی ہیں انہیں اپنی طرف نسبت نہیں دیتے اور نہ یہ اِدّعا کرتے ہیں کہ وہ کسی ایسی شے کو پیدا کر سکتے ہیں کہ جس کے پیدا کرنے میں وہ منفرد و یکتا ہے، ’’بلکہ وہ اس کے معزز بندے ہیں جو کسی بات کے کہنے میں اس سے سبقت نہیں کرتے اور وہ اسی کے کہنے پر چلتے ہیں‘‘۔
اللہ نے انہیں وہاں اپنی وحی کا امانتدار اور اپنے اوامر و نواہی کی ودیعتوں کا حامل بنا کر رسولوں کی طرف بھیجا ہے اور شک و شبہات کے خدشوں سے انہیں محفوظ رکھا ہے۔ تو ان میں سے کوئی بھی اس کی رضا جوئی کی راہ سے کترانے والا نہیں اور اس نے اپنی توفیق و اعانت سے ان کی دستگیری کی اور خضوع و خشوع کی عجز و شکستگی سے ان کے دلوں کو ڈھانپ دیا ہے اور تسبیح و تقدیس کی سہولتوں کے دروازے ان کیلئے کھول دیئے ہیں اور اپنی توحید کے نشانوں پر ان کیلئے روشن مینار نصب کئے ہیں۔
نہ گناہوں کی گرانباریوں نے انہیں دبا رکھا ہے، نہ شب و روز کی گردشوں نے ان پر (سواری کیلئے) پالان ڈالے ہیں اور نہ شکوک و شبہات نے ان کے ایمان کے استحکام پر تیر چلائے ہیں اور نہ ان کے یقین کی پختگیوں پر (اوہام و) ظنون نے دھاوا بولا ہے اور نہ ان کے درمیان کبھی کینہ و حسد کی چنگاریاں بھڑکی ہیں اور نہ حیرانی و سراسیمگی ان کے دلوں میں سرایت کی ہوئی معرفت اور ان کے سینے کی تہوں میں جمی ہوئی عظمت خداوندی و ہیبت ِجلال الٰہی کو چھین سکی ہے، نہ کبھی وسوسوں نے ان پر دندان آز تیز کیا ہے کہ ان کے فکروں کو زنگ و تکدر سے آلودہ کر دیں۔
ان میں کچھ وہ ہیں جو اللہ کے پیدا کردہ بوجھل بادلوں اور اونچے پہاڑوں کی بلندیوں اور گھٹا ٹوپ اندھیروں کی سیاہیوں کی صورتوں میں ہیں اور ان میں کچھ وہ ہیں جن کے قدم تحت الثریٰ کی حدوں کو چیر کر نکل گئے ہیں تو وہ سفید جھنڈوں کے مانند ہیں جو فضا کی وسعت کو چیرتے ہوئے آگے بڑھ گئے ہیں اور ان پھریروں کے آخری سرے تک ایک ہلکی ہوا چل رہی ہے جو انہیں روکے ہوئے ہے۔
ان فرشتوں کو عبادت کی مشغولیتوں نے ہر چیز سے بے فکر بنا دیا اور ایمان کے ٹھوس عقیدے ان کیلئے اللہ کی معرفت کا وسیلہ بن گئے ہیں اور یقین کامل نے اوروں سے ہٹا کر اسی سے ان کی لو لگا دی ہے۔ اللہ کی طرف کی نعمتوں کے سوا کسی غیر کے عطا و انعام کی انہیں خواہش ہی نہیں ہوتی۔
انہوں نے معرفت کے شیریں مزے چکھے ہیں اور اس کی محبت کے سیراب کرنے والے جام سے سرشار ہیں اور ان کے دلوں کی تہ میں اس کا خوف جڑ پکڑ چکا ہے، تو انہوں نے لمبی چوڑی عبادتوں سے اپنی سیدھی کمریں ٹیڑھی کر لی ہیں اور ہمہ وقت اسی کی طلب میں لگے رہنے کے باوجود ان کے تضرع و عاجزی کے ذخیرے ختم نہیں ہوتے اور قرب الٰہی کی بلندیوں کے باوجود خوف و خشوع کے پھندے ان (کے گلے ) سے نہیں اترتے۔
نہ ان میں کبھی خود پسندی پیدا ہوتی ہے کہ وہ اپنے گزشتہ اعمال کو زیادہ خیال کرنے لگیں اور نہ جلال پروردگار کے سامنے ان کے عجز و انکسار نے یہ موقع آنے دیا ہے کہ وہ اپنی نیکیوں کو بڑا سمجھ سکیں۔ ان میں مسلسل تعب اٹھانے کے باوجود بھی سستی نہیں آنے پاتی اور نہ ان کی طلب و رغبت میں کبھی کمی پیدا ہوئی ہے کہ وہ اپنے پالنے والے کے توقعات سے روگرداں ہو جائیں اور نہ مسلسل مناجاتوں سے ان کی زبان کی نوکیں خشک ہوتی ہیں اور نہ کبھی ایسا ہوا ہے کہ وہ دوسرے اشغال کی وجہ سے تضرع و زاری کی آوازوں کو دھیما کر لیں اور نہ عبادت کی صفوں میں ان کے شانے آگے پیچھے ہو جاتے ہیں اور نہ وہ آرام و راحت کی خاطر اس کے احکام کی تعمیل میں کوتاہی کر کے اپنی گردنوں کو ادھر سے ادھر کرتے ہیں، نہ ان کی کوششوں کے عزم پر غفلت کی نادانیاں حملہ آور ہوتی ہیں، اور نہ ان کی (بلند) ہمتوں میں فریب دینے والے وسوسوں کا گزر ہوتا ہے۔
انہوں نے احتیاج کے دن کیلئے صاحب عرش کو اپنا ذخیرہ بنا رکھا ہے اور جب دوسرے لوگ مخلوقات کی طرف اپنی خواہشوں کو لے کر بڑھتے ہیں تو یہ بس اسی سے لو لگاتے ہیں۔ وہ اس کی عبادت کی انتہا کو نہیں پہنچ سکتے۔ انہیں عبادت کا والہانہ شوق (کسی اور طرف لے جانے کے بجائے) ان کی قلبی امید و بیم کے ان ہی سر چشموں کی طرف لے جاتا ہے جن کے سوتے کبھی موقوف نہیں ہوتے۔ خوف کھانے کے وجوہ ختم نہیں ہوئے کہ وہ اپنی کوششوں میں سستی کریں اور نہ دنیا کے طمعوں نے انہیں جکڑ رکھا ہے کہ وہ دنیا کیلئے وقتی کوششوں کو اپنی اس جدوجہد پر ترجیح دیں اور نہ انہوں نے اپنے سابقہ اعمال کو کبھی بڑا سمجھا ہے اور اگر بڑا سمجھتے تو پھر امیدیں خوف خدا کے اندیشوں کو ان (کے صفحہ دل) سے مٹا دیتیں اور نہ شیطان کے ورغلانے سے ان میں باہم اپنے پروردگار کے متعلق کبھی کوئی اختلاف پیدا ہوا اور نہ ایک دوسرے سے کٹنے (اور بگاڑ پیدا کرنے) کی وجہ سے پراگندہ و متفرق ہوئے اور نہ آپس میں حسد رکھنے کے سبب سے ان کے دلوں میں کینہ و بغض پیدا ہوا اور نہ شک و شبہات میں پڑنے کی وجہ سے تتر بتر ہوئے اور نہ پست ہمتیوں نے ان پر کبھی قبضہ کیا۔
وہ ایمان کے پابند ہیں، انہیں اس کے بندھنوں سے کجی، روگردانی سستی یا کاہلی نے کبھی نہیں چھڑایا۔ سطح آسمان پر کھال کے برابر بھی ایسی جگہ نہیں کہ جہاں کوئی سجدہ کرنے والا فرشتہ یا تیزی سے تگ و دو کرنے والا ملک نہ ہو، پروردگار کی اطاعت کے بڑھنے سے ان کے علم میں زیادتی ہی ہوتی رہتی ہے اور ان کے دلوں میں اس کی عزت کی عظمت و جلالت بڑھتی ہی جاتی ہے۔
[اسی خطبہ کا ایک حصہ یہ ہے جس میں زمین اور اس کے پانی پر بچھائے جانے کی کیفیت بیان فرمائی ہے]
(اللہ نے) زمین کو تہ و بالا ہونے والی مہیب لہروں اور بھر پور سمندروں کی اتھاہ گہرائیوں کے اوپر پاٹا، جہاں موجیں موجوں سے ٹکرا کر تھپیڑے کھاتی تھیں اور لہریں لہروں کو دھکیل کر گونج اٹھتی تھیں اور اس طرح پھین دے رہی تھیں جس طرح مستی و ہیجان کے عالم میں نر اونٹ۔ چنانچہ اس متلاطم پانی کی طغیانیاں زمین کے بھاری بوجھ کے دباؤ سے فرو ہو گئیں اور جب اس نے اپنا سینہ اس پر ٹیک کر اسے روندا تو سارا جوش و خروش ٹھنڈا پڑ گیا اور جب اپنے شانے ٹکا کر اس پر لوٹی تو وہ ذلتوں اور خواریوں کے ساتھ رام ہو گیا۔ کہاں تو اس کی موجیں دندنا رہی تھیں کہ اب عاجز و بے بس ہو کر تھم گیا اور ذلت کی لگاموں میں اسیر ہو کر مطیع ہو گیا اور زمین اس طوفان خیز پانی کے گہراؤ میں اپنا دامن پھیلا کر ٹھہر گئی اور اس کے اٹھلانے اور سر اٹھانے کے غرور اور تکبر سے ناک اوپر چڑھانے اور بہاؤ میں تفوق و سر بلندی دکھانے کا خاتمہ کر دیا اور اس کی روانی کی بے اعتدالیوں پر ایسے بند باندھے کہ وہ اچھلنے کودنے کے بعد(بالکل بے دم) ہو کر ٹھہر گیا اور جست و خیز کی سر مستیاں دکھا کر تھم گیا۔
جب اس کے کناروں کے نیچے پانی کی طغیانی کا زور و شور سکون پذیر ہوا اور اس کے کاندھوں پر اونچے اونچے اور چوڑے چکلے پہاڑوں کا بوجھ لد گیا تو (اللہ نے) اس کی ناک کے بانسوں سے پانی کے چشمے جاری کر دیے جنہیں دور و دراز جنگلوں اور کھدے ہوئے گڑھوں میں پھیلا دیا اور پتھروں کی مضبوط چٹانوں اور بلند چوٹیوں والے پتھریلے پہاڑوں سے اس کی حرکت میں اعتدال پیدا کیا۔ چنانچہ اس کی سطح کے مختلف حصوں میں پہاڑوں کے ڈوب جانے اور اس کی گہرائیوں کی تہ میں گھس جانے اور اس کے ہموار حصوں کی بلندیوں اور پست سطحوں پر سوار ہو جانے کی وجہ سے اس کی تھرتھراہٹ جاتی رہی۔
اور اللہ نے زمین سے لے کر فضائے بسیط تک پھیلاؤ اور وسعت رکھی اور اس میں رہنے والوں کو سانس لینے کو ہوا مہیا کی اور اس میں بسنے والوں کو ان کی تمام ضروریات کے ساتھ ٹھہرایا۔
پھر اس نے چٹیل زمینوں کو کہ جن کی بلندیوں تک نہ چشموں کا پانی پہنچ سکتا ہے اور نہ نہروں کے نالے وہاں تک پہنچنے کا کوئی ذریعہ رکھتے ہیں، یونہی نہیں رہنے دیا، بلکہ ان کیلئے ہوا پر اٹھنے والی گھٹائیں پیدا کیں جو مردہ زمین میں زندگی کی لہریں دوڑا دیتی ہیں اور اس سے گھاس پات اُگاتی ہیں۔اس نے ابر کی بکھری ہوئی چمکیلی ٹکڑیوں اور پراگندہ بدلیوں کو یکجا کر کے اَبر محیط بنایا اور جب اس کے اندر پانی کے ذخیرے حرکت میں آ گئے اور اس کے کناروں میں بجلیاں تڑپنے لگیں اور برق کی چمک سفید اَبروں کی تہوں اور گھنے بادلوں کے اندر مسلسل جاری رہی تو اللہ نے انہیں موسلا دھار برسنے کیلئے بھیج دیا۔ اس طرح کہ اس کے پانی سے بھرے ہوئے بوجھل ٹکڑے زمین پر منڈلا رہے تھے اور جنوبی ہوائیں انہیں مسل مسل کر برسنے والے مینہ کی بوندیں اور ایک دم ٹوٹ پڑنے والی بارش کے جھالے برسا رہی تھیں۔
جب بادلوں نے اپنا سینہ ہاتھ پیروں سمیت زمین پر ٹیک دیا اور پانی کا سارا لدا لدایا بوجھ اس پر پھینک دیا تو اللہ نے افتادہ زمینوں سے سر سبز کھیتیاں اُگائیں اور خشک پہاڑوں پر ہرا بھرا سبزہ پھیلا دیا۔ زمین بھی اپنے مرغزاروں کے بناؤ سنگار سے خوش ہو کر جھومنے لگی اور ان شگوفوں کی اوڑھنیوں سے جو اسے اوڑھا دی گئی تھیں اور ان شگفتہ و شاداب کلیوں کے زیوروں سے جو اسے پہنا دیئے گئے تھے، اترانے لگی۔ اللہ نے ان چیزوں کو لوگوں کی زندگی کا وسیلہ اور چوپائیوں کا رزق قرار دیا ہے اور اسی نے زمین کی سمتوں میں کشادہ راستے نکالے ہیں اور اس کی شاہراہوں پر چلنے والوں کیلئے روشنی کے مینار نصب کئے ہیں۔
جب اللہ نے فرشِ زمین بچھا لیا اور اپنا کام پورا کر لیا تو آدم علیہ السلام کو دوسری مخلوق کے مقابلہ میں برگزیدہ ہونے کی وجہ سے منتخب کر لیا اور انہیں نوع انسانی کی فرد اوّل قرار دیا اور انہیں اپنی جنت میں ٹھہرایا جہاں دل کھول کر ان کے کھانے پینے کا انتظام کیا اور جس سے منع کرنا تھا اس سے پہلے ہی خبردار کر دیا تھا اور یہ بتا دیا تھا کہ اس کی طرف قدم بڑھانے میں عدول حکمی کی آلائش ہے اور اپنے مرتبہ کو خطرہ میں ڈالنا ہے، لیکن جس چیز سے انہیں روکا تھا انہوں نے اسی کا رخ کیا، جیسا کہ پہلے ہی سے اس کے علم میں تھا۔ چنانچہ توبہ کے بعد انہیں جنت سے نیچے اتار دیا، تاکہ اپنی زمین کو ان کی اولاد سے آباد کرے اور ان کے ذریعے بندوں پر حجت پیش کرے۔ اللہ نے آدم علیہ السلام کو اٹھا لینے کے بعد بھی اپنی مخلوق کو ایسی چیزوں سے خالی نہیں رکھا جو اس کی ربوبیت کی دلیلوں کو مضبوط کرتی رہیں اور بندوں کیلئے اس کی معرفت کا ذریعہ بنی رہیں اور یکے بعد دیگرے ہر دور میں وہ اپنے برگزیدہ نبیوں اور رسالت کے امانتداروں کی زبانوں سے حجت کے پہنچانے کی تجدیدکرتا رہا، یہاں تک کہ ہمارے نبی محمد ﷺ کے ذریعہ وہ حجت (پوری طرح) تمام ہو گئی اور حجت پورا کرنا اور ڈرا دیا جانا اپنے نقطۂ اختتام کو پہنچ گیا۔
اس نے روزیاں مقرر کر رکھی ہیں [۳] ، (کسی کیلئے ) زیادہ اور (کسی کیلئے) کم اور اس کی تقسیم میں کہیں تنگی رکھی ہے اور کہیں فراخی اور یہ بالکل عدل کے مطابق تھا۔ اس طرح کہ اس نے جس جس صورت سے چاہا امتحان لیا ہے۔ رزق کی آسانی یا دشواری کے ساتھ اور مال دار اور فقیر کے شکر اور صبر کو جانچا ہے۔ پھر اس نے رزق کی فراخیوں کے ساتھ فقر و فاقہ کے خطرے اور اس کی سلامتیوں میں نت نئی آفتوں کے دغدغے اور فراخی و وسعت کی شادمانیوں کے ساتھ غم و غصہ کے گلوگیر پھندے بھی لگا رکھے ہیں۔
اس نے زندگی کی (مختلف) مدتیں مقرر کی ہیں، کسی کو زیادہ، کسی کو کم، کسی کو آگے اور کسی کو پیچھے کر دیا ہے اور ان مدتوں کی رسیوں کی موت سے گرہ لگا دی ہے اور وہ موت ان کو کھینچے لئے جاتی ہے اور ان کے مضبوط رشتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کئے دیتی ہے۔
وہ بھید چھپانے والوں کی نیتوں [۴] ، کھسر پھسر کرنے والوں کی سرگوشیوں، مظنون اور بے بنیاد خیالوں، دل میں جمے ہوئے یقینی ارادوں، پلکوں (کے نیچے) کنکھیوں کے اشاروں، دل کی تہوں اور غیب کی گہرائیوں میں چھپی ہوئی چیزوں کو جانتا ہے اور (ان آوازوں کا سننے والا ہے) جن کو کان لگا کر سننے کیلئے کانوں کے سوراخوں کو جھکنا پڑتا ہے اور چیونٹیوں کے موسم گرما کے مسکنوں اور حشرات الارض کے موسمِ سرما بسر کرنے کے مقاموں سے آگاہ ہے اور پسر مردہ عورتوں کے (درد بھرے) نالوں کی گونج اور قدموں کی چاپ کا سننے والا ہے اور سبز پتیوں کے غلافوں کے اندرونی خولوں میں پھلوں کے نشو و نما پانے کی جگہوں اور پہاڑوں کی کھوؤں اور ان کے نشیبوں میں وحشی جانوروں کی پناہ گاہوں اور درختوں کے تنوں اور ان کے چھلکوں میں مچھروں کے سر چھپانے کے سوراخوں اور شاخوں میں پتیوں کے پھوٹنے کی جگہوں اور صلب کی گزر گاہوں میں نطفوں کے ٹھکانوں اور زمین سے اٹھنے والے اَبر کے لکوں اور آپس میں جڑے ہوئے بادلوں اور تہ بہ تہ جمے ہوئے اَبروں سے ٹپکنے والے بارش کے قطروں سے باخبر ہے اور ریگ (بیابان) کے ذرّے جنہیں باد بگولوں نے اپنے دامنوں سے اڑایا ہے اور وہ نشانات جنہیں بارشوں کے سیلابوں نے مٹا ڈالا ہے، اس کے علم میں ہیں اور ریت کے ٹیلوں پر زمین کے کیڑوں کے چلنے پھرنے اور سر بلند پہاڑوں کی چوٹیوں پر پَر و بال رکھنے والے طائروں کے نشیمنوں اور گھونسلوں کی اندھیاریوں میں چہچہانے والے پرندوں کے نغموں کو جانتا ہے اور جن چیزوں کو سیپیوں نے سمیٹ رکھا ہے اور جن چیزوں کو دریا کی موجیں اپنے پہلو کے نیچے دبائے ہوئے ہیں اور جن کو رات (کی تاریک چادروں) نے ڈھانپ رکھا ہے اور جن پر دن کے سورج نے اپنی کرنوں سے نور بکھیرا ہے اور جن پر کبھی ظلمت کی تہیں جم جاتی ہیں اور کبھی نور کے دھارے بہہ نکلتے ہیں پہچانتا ہے۔ وہ ہر قدم کا نشان، ہر چیز کی حس و حرکت، ہر لفظ کی گونج، ہر ہونٹ کی جنبش، ہر جاندار کا ٹھکانا، ہر ذرّے کا وزن اور ہر جی دار کی سسکیوں کی آواز اور جو کچھ بھی اس زمین پر ہے، سب اس کے علم میں ہے۔ وہ درختوں کا پھل ہو یا ٹوٹ کر گرنے والا پتہ، یا نطفے یا منجمد خون کا ٹھکانا اور لوتھڑا یا (اس کے بعد) بننے والی مخلوق اور پیدا ہونے والا بچہ۔
(ان چیزوں کے جاننے میں) اسے کلفت و تعب اٹھانا نہیں پڑی اور نہ اسے اپنی مخلوق کی حفاظت میں کوئی رکاوٹ درپیش ہوئی اور نہ اسے اپنے احکام کے چلانے اور مخلوقات کا انتظام کرنے سے سستی اور تھکن لاحق ہوئی، بلکہ اس کا علم تو ان چیزوں کے اندر تک اترا ہوا ہے اور ایک ایک چیز اس کے شمار میں ہے۔ اس کا عدل ہمہ گیر اور اس کا فضل سب کے شامل حال ہے اور اس کے ساتھ وہ اس کے شایان شان حق کی ادائیگی سے قاصر ہیں۔
اے خدا! تو ہی توصیف و ثنا اور انتہائی درجہ تک سراہے جانے کا مستحق ہے۔ اگر تجھ سے آس لگائی جائے تو تُو دلوں کی بہتریں ڈھارس ہے اور اگر تجھ سے امیدیں باندھی جائیں تو تو بہترین چشمہ امید ہے۔
تو نے مجھے ایسی قوت بیان بخشی ہے کہ جس سے تیرے علاوہ کسی کی مدح اور ستائش نہیں کرتا ہوں اور میں اپنی مدح کا رخ کبھی ان لوگوں کی طرف نہیں موڑنا چاہتا جو ناامیدیوں کا مرکز اور بدگمانیوں کے مقامات ہیں، تو نے میری زبان کو انسانوں کی مدح اور پروردہ مخلوق کی تعریف و ثنا سے ہٹا لیا ہے۔
بار الٰہا! ہر ثنا گستر کیلئے اپنے ممدوح پر انعام و اکرام اور عطا و بخشش پانے کا حق ہوتا ہے اور میں تجھ سے امید لگائے بیٹھا ہوں، یہ کہ تو رحمت کے ذخیروں اور مغفرت کے خزانوں کا پتا دینے والا ہے۔
خدایا! یہ تیرے سامنے وہ شخص کھڑا ہے جس نے تیری توحید و یکتائی میں تجھے منفرد مانا ہے اور ان ستائشوں اور تعریفوں کا تیرے علاوہ کسی کو اہل نہیں سمجھا، میری احتیاج تجھ سے وابستہ ہے، تیری ہی بخششوں اور کامرانیوں سے اس کی بے نوائی کا علاج ہو سکتا ہے اور اس کے فقر و فاقہ کو تیرا ہی جود و احسان سہارا دے سکتا ہے، ہمیں تُو اسی جگہ پر اپنی خوشنودیاں بخش دے اور دوسروں کی طرف دست ِطلب بڑھانے سے بے نیاز کر دے، ’’تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے‘‘ ۔