Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 90

تفصیلی وضاحت — خطبہ (90) : جب قتلِ عثمان1 کے بعد اپ کے ہاتھ پر بیعت کا ارادہ کیا گیا، تو اپ نے فرمایا: (90- جب آپؑ کے ہاتھ پر بیعت ہوئی تو فرمایا)

خطبہ 90 کا تاریخی پس منظر اس وقت کا ہے جب حضرت علی علیہ السلام کو حضرت عثمان کی شہادت کے بعد خلافت کی بیعت کی پیشکش کی گئی۔ اس وقت مسلمانوں کے درمیان شدید سیاسی اور سماجی بے چینی پھیلی ہوئی تھی۔ حضرت علی علیہ السلام نے اس خطبے میں اپنی بے زاری کا اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ خلافت کا یہ معاملہ نہایت پیچیدہ اور حساس ہے۔

اس خطبے کے مرکزی موضوعات میں ایک تو خلافت کی ذمہ داری کا بوجھ ہے، جسے حضرت علی علیہ السلام نے قبول کرنے سے گریز کیا، اور دوسرے اس وقت کی سیاسی صورت حال کی پیچیدگیوں کا ذکر ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اس معاملے کے کئی پہلو ہیں، اور اس کے نتائج نہ تو دل برداشتہ کر سکتے ہیں اور نہ ہی عقل انہیں قبول کر سکتی ہے۔

کچھ اہم جملے ہیں جیسے "اگر میں تمہاری اس خواہش کو مان لوں تو تمہیں اس راستے پر لے چلوں گا جو میرے علم میں ہے"، جس میں آپ نے اپنی علمیت اور بصیرت کی طرف اشارہ کیا۔ آپ نے یہ بھی کہا کہ اگر آپ کو چھوڑ دیا جائے تو آپ بھی ان کی طرح ہوں گے، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آپ نے اپنی حیثیت کو عوامی مفادات پر فوقیت دی۔

اخلاقی و روحانی سبق یہ ہے کہ قیادت کی ذمہ داری آسان نہیں ہوتی اور اس کے لیے بصیرت و علم کی ضرورت ہوتی ہے۔ حضرت علی علیہ السلام نے اس خطبے میں اس بات کی وضاحت کی کہ صحیح قیادت کے لیے عوام کی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ عملی نکات میں یہ شامل ہے کہ ہمیں اپنی قیادت کے انتخاب میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے اور صرف ظاہری مفادات کی بنیاد پر نہیں۔