Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 91

تفصیلی وضاحت — خطبہ (91) : خوارج کی بیخ کنی اور اپنے علم کی ہمہ گیری کے متعلق (91- خوارج کی بیخ کنی اور اپنے علم کی ہمہ گیری و فتنہ بنی امیہ)

خطبہ (۹۱) میں امام علی (علیہ السلام) نے خوارج کے فتنہ اور بنی امیہ کی حکمرانی کے خطرات کا ذکر کیا ہے۔ یہ خطبہ اس وقت دیا گیا جب مسلمانوں میں داخلی اختلافات شدت اختیار کر چکے تھے، خاص طور پر خوارج کی شکل میں جو کہ امام علی (ع) کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ امام نے اپنی بصیرت اور علم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان فتنوں کا ادراک رکھتے ہیں اور ان کے اثرات سے آگاہ ہیں۔

امام علی (ع) نے فرمایا کہ جب فتنہ آتا ہے تو یہ لوگوں کو اندھیرے میں ڈال دیتا ہے، اور اس کے اثرات واضح نہیں ہوتے۔ یہ ایک اہم نکتہ ہے کہ فتنہ کی شناخت مشکل ہوتی ہے اور اس کے نتائج اکثر تباہ کن ہوتے ہیں۔ امام نے خاص طور پر بنی امیہ کے فتنہ کو خطرناک قرار دیا، جس کا اثر عام لوگوں پر پڑتا ہے جبکہ اس کی شدت کچھ مخصوص افراد تک محدود ہوتی ہے۔

امام نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ بنی امیہ کے حکمران بدترین ہوں گے، اور ان کی حکمرانی میں انصاف طلب کرنا اتنا ہی مشکل ہوگا جتنا کہ غلام کا اپنے آقا سے انصاف طلب کرنا۔ یہ تشبیہ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ان حکمرانوں کے ساتھ لوگوں کا کیا حال ہوگا۔ امام علی (ع) نے اپنی باتوں میں یہ بھی واضح کیا کہ وہ اور اہل بیت (علیہم السلام) ان فتنوں سے محفوظ رہیں گے اور ان کی طرف لوگوں کو بلانے میں ان کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔

یہ خطبہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ فتنوں کے وقت میں علم اور بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے۔ امام علی (ع) نے لوگوں کو نصیحت کی کہ وہ ان کے علم سے فائدہ اٹھائیں، کیونکہ جب وہ نہیں ہوں گے تو ان کے سوالات کے جوابات دینے والا کوئی نہیں ہوگا۔ یہ ایک اہم سبق ہے کہ علم کا طلب ہر حال میں ضروری ہے، خاص طور پر جب حالات خطرناک ہوں۔

امام کا یہ خطبہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ ہمیں اپنے رہنما کی بصیرت پر بھروسہ کرنا چاہیے اور فتنوں سے بچنے کے لیے ان کی رہنمائی پر عمل کرنا چاہیے۔ یہ خطبہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ تاریخ کے سبق سے سیکھنا اور اپنے ایمان کو مضبوط رکھنا ضروری ہے۔