خطبہ (۹۲) میں امام علی علیہ السلام نے خدا کی حمد و ثناء کے ساتھ آغاز کیا ہے، جس میں وہ خدا کی بے انتہا عظمت اور اس کی بے نظیر صفات کا ذکر کرتے ہیں۔ تاریخی تناظر میں یہ خطبہ اس وقت پیش کیا گیا جب اسلامی معاشرہ مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہا تھا، اور لوگوں کو اللہ کی عظمت اور انبیاء کی اہمیت کی یاد دہانی کی ضرورت تھی۔ امام علی علیہ السلام نے اس خطبہ میں اللہ کی صفات کو بیان کرتے ہوئے یہ واضح کیا کہ اللہ کی ذات ایسی ہے کہ نہ تو عقل اس کا ادراک کر سکتی ہے اور نہ ہی کوئی بلند پرواز ہمتیں اس کی حقیقت تک پہنچ سکتی ہیں۔
امام نے انبیاء کی عظمت کا ذکر کیا اور بتایا کہ اللہ نے ان کو بہترین جگہوں پر رکھا اور ان کی نسلیں پاکیزہ رحموں سے منتقل ہوئیں۔ یہ انبیاء دین خدا کی تبلیغ کے لیے منتخب کیے گئے تھے، اور ان میں سے ہر ایک نے اپنی قوم کی ہدایت کے لیے جدوجہد کی۔ یہ بات اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ انبیاء کی نسلیں ایک تسلسل میں آتی رہیں تاکہ اللہ کا پیغام کبھی بھی مفقود نہ ہو۔
امام علی علیہ السلام نے خاص طور پر نبی محمد ﷺ کی شرافت کا ذکر کیا، جنہیں بہترین نسل سے پیدا کیا گیا۔ آپ نے ان کی عترت کی تعریف کی اور یہ بیان کیا کہ یہ عترت ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ امام نے ان کی صفات کو ایک چراغ، ایک روشن ستارہ، اور ایک چقماق کی طرح بیان کیا ہے، جو ہدایت کی روشنی فراہم کرتے ہیں۔
یہ خطبہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہمیں انبیاء کی تعلیمات پر عمل کرنا چاہیے اور ان کے راستے پر چلنا چاہیے۔ امام علی علیہ السلام نے ہمیں یاد دلایا کہ یہ دنیا ایک عارضی مقام ہے اور ہمیں اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے محنت کرنی چاہیے۔ اس خطبہ کا ایک اہم پیغام یہ ہے کہ اعمال کا وقت ابھی ہے، اور ہمیں اپنے اعمال کو درست کرنے کا موقع ملا ہے۔
