خطبہ (93) میں امام علی (علیہ السلام) نے پیغمبر محمد ﷺ کی بعثت کے وقت کی صورتحال کا ذکر کیا ہے۔ یہ دور عرب معاشرے کے لئے ایک انتہائی مشکل وقت تھا، جہاں لوگ جہالت، فتنوں اور نفسانی خواہشات کی قید میں تھے۔ اس وقت کی معاشرتی اور ثقافتی حالت نے لوگوں کو بے راہ روی کی طرف دھکیل دیا تھا۔ پیغمبر ﷺ کی بعثت کا مقصد ان لوگوں کو ہدایت دینا اور انہیں صحیح راستے کی طرف بلانا تھا۔
امام علی (علیہ السلام) نے اس خطبے میں اس بات پر زور دیا ہے کہ پیغمبر ﷺ نے اپنی ذمہ داری کو بخوبی نبھایا۔ انہوں نے لوگوں کو عقل، حکمت اور نیکی کی جانب بلایا، اور خود بھی اس راستے پر قائم رہے۔ یہ پیغام ہمیں سکھاتا ہے کہ رہنماؤں کا فرض ہے کہ وہ خود بھی اپنے اقوال پر عمل کریں اور دوسروں کو ہدایت دینے میں کوشاں رہیں۔
ایک اہم موضوع یہ ہے کہ امام علی (علیہ السلام) نے لوگوں کی حالت کو بیان کرتے ہوئے ان کے اندر موجود غرور اور خواہشات کی نشاندہی کی ہے۔ یہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ انسانی کمزوریوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں اپنی خواہشات اور غرور پر قابو پانا ہوگا۔
یہ خطبہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ علم اور حکمت کی طلب ہمیشہ جاری رہنی چاہئے۔ پیغمبر ﷺ نے لوگوں کو علم کی طرف بلایا، جو کہ ایک عظیم فریضہ ہے۔ ہمیں بھی اپنی زندگی میں علم کی طلب کو اولیت دینی چاہئے اور دوسروں کی رہنمائی میں مددگار بننا چاہئے۔
آخر میں، یہ خطبہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ حالات چاہے کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، ہدایت اور علم کی روشنی ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ ہمیں اس روشنی کی جانب بڑھنا چاہئے اور اپنی زندگیوں کو بہتر بنانا چاہئے۔
