مکتوب (14) : ہدایت صفین میں دشمن کا سامنا کرنے سے پہلے اپنے لشکر کو ہدایت فرمائی
یہ خط امام علی علیہ السلام نے جنگ صفین کے موقع پر اپنے لشکر کو ہدایت دینے کے لیے لکھا۔ یہ جنگ 657 عیسوی میں ہوئی، جب امام علی علیہ السلام کو معاویہ بن ابی سفیان کی فوج کا سامنا کرنا پڑا۔ اس خط میں امام نے اپنے سپاہیوں کو جنگ کے آداب اور اخلاقی اصولوں کی یاد دہانی کرائی۔
امام علی علیہ السلام نے فرمایا کہ جب تک دشمن پہل نہ کرے، تم ان سے لڑائی نہ کرو۔ یہ بات اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اسلامی جنگی اصولوں کے مطابق، دفاعی جنگ کا آغاز نہیں ہونا چاہیے۔ امام نے اس بات کی وضاحت کی کہ اگر دشمن خود ہی حملہ کرتا ہے تو یہ ان کے خلاف ایک اور دلیل ہوگی۔ یہ اصول انصاف اور حق کی بنیاد پر جنگ لڑنے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
امام نے اپنے لشکر کو یہ بھی ہدایت کی کہ جب دشمن بھاگے تو کسی کو بھی قتل نہ کیا جائے، خاص طور پر زخمیوں یا عورتوں کو۔ اس میں ایک اہم اخلاقی سبق ہے کہ جنگ کے دوران بھی انسانیت کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ امام نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ دشمن کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھانا غیر اخلاقی ہے، اور یہ کہ ہمیں ہمیشہ اخلاقی اصولوں کی پاسداری کرنی چاہیے۔
یہ خط ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ جنگ میں بھی اخلاقی حدود کا خیال رکھنا چاہیے۔ امام علی علیہ السلام کا یہ پیغام آج بھی ہمارے لیے ایک مثال ہے کہ ہمیں ہمیشہ حق اور انصاف کے راستے پر چلنا چاہیے، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔
