Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 3

تفصیلی وضاحت — مکتوب (3) : جو آپ نے شریح ابن حارث قاضی کو فہ کےلیے تحریر فرمائی (3- شریح ابن حارث کے مکان کی دستاویز)

مکتوب (3) : جو آپ نے شریح ابن حارث قاضی کو فہ کےلیے تحریر فرمائی (3- شریح ابن حارث کے مکان کی دستاویز)

یہ مکتوب امام علی علیہ السلام کی حکمت اور بصیرت کا نمونہ ہے۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب شریح ابن حارث، جو ایک معروف قاضی تھے، نے امام کے دور خلافت میں ایک مکان خریدا۔ امام کو اس خریداری کی خبر ملی تو انہوں نے شریح کو طلب کیا اور ان سے اس معاملے کے بارے میں سوال کیا۔ یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ امام علی علیہ السلام نے انصاف اور حق کی پاسداری کو کتنا اہم سمجھا۔

امام نے شریح کو سختی سے متنبہ کیا کہ جلد ہی موت کا فرشتہ آئے گا جو نہ تو اس کی دستاویزات دیکھے گا اور نہ ہی گواہوں سے سوال کرے گا۔ اس میں امام کا یہ پیغام ہے کہ دنیاوی چیزیں عارضی ہیں اور اصل کامیابی آخرت میں ہے۔ انہوں نے شریح کو یاد دلایا کہ اگر اس نے یہ مکان کسی دوسرے کے مال سے خریدا یا حرام کمائی سے قیمت ادا کی تو وہ دنیا اور آخرت دونوں میں نقصان اٹھائے گا۔

امام نے شریح کو ایک مخصوص دستاویز کا ذکر کیا جس میں اس مکان کی حقیقت بیان کی تھی۔ یہ دستاویز اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ یہ مکان دراصل ایک فریب ہے، جس کا تعلق دنیا کی عارضی خوشیوں سے ہے۔ امام نے اس مکان کی حدود کی وضاحت کی، جو مختلف مصیبتوں اور شیطانی وسوسوں سے جڑی ہوئی ہیں۔ یہ تشبیہ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ دنیا کی چیزیں ہمیں اللہ کی راہ سے ہٹا سکتی ہیں۔

امام نے شریح کو یہ بھی یاد دلایا کہ اگر وہ اس خریداری میں نقصان اٹھاتا ہے تو یہ سب دنیا کے بڑے بادشاہوں اور طاقتور لوگوں کے ساتھ ہوگا، جن کی دولت اور اختیار بھی انہیں آخرت میں نہیں بچا سکے گا۔ یہ ایک اہم سبق ہے کہ دنیا کی چیزوں کی محبت ہمیں آخرت کی کامیابی سے دور کر سکتی ہے۔

آخر میں، امام نے عقل کی گواہی دی کہ انسان کو خواہشات اور دنیا کی تعلقات سے آزاد ہونا چاہیے۔ یہ پیغام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہمیں دنیاوی چیزوں کی محبت میں نہیں آنا چاہیے بلکہ آخرت کی تیاری کرنی چاہیے۔ امام علی علیہ السلام کا یہ مکتوب ہمیں ان کے عمیق فلسفے، روحانی بصیرت اور انسانی اقدار کی اہمیت کی یاد دہانی کراتا ہے۔