مکتوب (۴) میں امام علی (علیہ السلام) نے ایک سالار لشکر کے نام خط لکھا ہے جس میں وہ ان کی ذمہ داریوں اور چالاکیوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یہ خط اس وقت لکھا گیا جب اسلامی معاشرہ مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہا تھا۔ امام علی (ع) نے اپنے پیروکاروں کو یہ ہدایت دی کہ اگر ان کے دشمن اطاعت کی چھاؤں میں آ جائیں تو یہ ان کی دعا ہے، لیکن اگر وہ بغاوت کی طرف بڑھیں تو ان کے ساتھ موجود وفاداروں کے ساتھ کھڑے ہوں۔
یہ خط اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ امام علی (ع) نے ہمیشہ اصولوں کی پاسداری کی ہے اور اپنے پیروکاروں کو بھی اس کی تعلیم دی ہے۔ انہوں نے یہ واضح کیا کہ وفاداروں کے ساتھ رہنا اور ان کی حمایت کرنا زیادہ اہم ہے بجائے اس کے کہ بے وفا لوگوں کی طرف توجہ دی جائے۔ یہ ایک بڑی حکمت کی بات ہے کہ جو لوگ دل سے آپ کے ساتھ نہیں ہیں، ان کی موجودگی سے زیادہ بہتر ہے کہ آپ اپنے وفادار ساتھیوں کے ساتھ رہیں۔
امام علی (ع) نے اس خط میں جو اہم پیغام دیا ہے وہ یہ ہے کہ قیادت کا اصل مقصد وفاداری اور اطاعت ہے۔ اگر کوئی شخص آپ کے ساتھ نہیں ہے تو اس کی موجودگی سے آپ کی قوت میں کمی آ سکتی ہے۔ یہ خط ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہمیں ہمیشہ اپنے اصولوں کی پاسداری کرنی چاہیے اور وفادار لوگوں کے ساتھ رہنا چاہیے جو ہماری مدد کریں گے۔
اس خط کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ امام علی (ع) نے اپنے پیروکاروں کو یہ سمجھایا کہ کبھی کبھی آپ کی طاقت آپ کے ساتھ کھڑے ہونے والوں کی تعداد سے نہیں بلکہ ان کی وفاداری سے ہوتی ہے۔ یہ ایک روحانی سبق ہے کہ ہمیں ہمیشہ اپنے اصولوں کے مطابق چلنا چاہیے اور ان لوگوں کے ساتھ رہنا چاہیے جو ہمارے نظریات کی حمایت کرتے ہیں۔
