Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 5

تفصیلی وضاحت — مکتوب (5) : اشعت ابن قیس والی آذربائیجان کے نام (5- اشعث ابن قیس عامل آذربائیجان کے نام)

یہ مکتوب امام علی (علیہ السلام) کی ایک اہم تحریر ہے جو انہوں نے اشعث ابن قیس کو لکھا۔ یہ خط اس وقت لکھا گیا جب امام علی (ع) خلافت کے دور میں تھے اور مختلف علاقوں کے حکام کے ساتھ ان کے تعلقات کی نگرانی کر رہے تھے۔ اس خط میں امام علی (ع) نے اشعث کو یہ یاد دہانی کرائی کہ اس کا عہدہ کوئی ذاتی فائدہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک امانت ہے جس کی حفاظت اس کی ذمہ داری ہے۔

امام علی (ع) نے اس خط میں واضح کیا کہ اشعث کو رعیت کے معاملات میں اپنی مرضی چلانے کا حق نہیں ہے۔ یہ ایک اہم اصول ہے جس کی بنیاد اسلامی حکومت میں عدل و انصاف ہے۔ امام (ع) نے اس بات پر زور دیا کہ اشعث کو کسی بھی اہم معاملے میں قدم اٹھانے سے پہلے مضبوط دلیل کی ضرورت ہے۔ یہ ایک ایسی نصیحت ہے جو آج بھی ہر حکومتی عہدیدار کے لیے اہم ہے۔

امام علی (ع) نے یہ بھی ذکر کیا کہ اشعث کے ہاتھ میں اللہ کے مال کی امانت ہے اور وہ اس کا خزانچی ہے۔ یہ بات اس کی ذمہ داری کو مزید واضح کرتی ہے کہ اس کی حیثیت صرف ایک عہدیدار کی نہیں بلکہ ایک امانت دار کی ہے۔ اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اس امانت کی حفاظت کرے اور اسے صحیح طریقے سے استعمال کرے۔

آخر میں امام علی (ع) نے اپنے خط کا اختتام ایک مختصر سلام کے ساتھ کیا، جو اسلامی تہذیب میں ادب اور احترام کی علامت ہے۔ یہ خط ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ قیادت کا اصل مقصد عوام کی خدمت کرنا اور ان کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے، نہ کہ ذاتی مفادات کا حصول۔