مکتوب (۴۵)
جب حضرتؑ کو یہ خبر پہنچی کہ والی بصرہ عثمان ابن حنیف کو وہاں کے لوگوں نے کھانے کی دعوت دی ہے اور وہ اس میں شریک ہوئے ہیں تو انہیں تحریر فرمایا:
اے ابن حنیف! مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ بصرہ کے جوانوں میں سے ایک شخص نے تمہیں کھانے پر بلایا اور تم لپک کر پہنچ گئے کہ رنگا رنگ کے عمدہ عمدہ کھانے تمہارے لئے چن چن کر لائے جا رہے تھے اور بڑے بڑے پیالے تمہاری طرف بڑھائے جا رہے تھے۔ مجھے امید نہ تھی کہ تم ان لوگوں کی دعوت قبول کر لو گے کہ جن کے یہاں سے فقیر و نادار دھتکارے گئے ہوں اور دولت مند مدعو ہوں۔
یہ خط اس وقت لکھا گیا جب حضرت علیؑ کی خلافت کے ابتدائی دور میں بصرہ کے حالات کافی متلاطم تھے۔ یہاں کے لوگ مختلف قبائل اور سیاسی گروہوں میں بٹے ہوئے تھے۔ حضرت علیؑ نے اپنی حکومت کے دوران انصاف اور مساوات کی بنیاد پر معاشرتی نظام قائم کرنے کی کوشش کی۔ اس خط میں حضرت علیؑ نے عثمان ابن حنیف کو نصیحت کی کہ وہ اس طرح کے دعوتوں میں شرکت نہ کریں جہاں غریب لوگ نظرانداز کیے جاتے ہیں۔
خط میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ حضرت علیؑ نے اپنی زندگی کی سادگی اور قناعت کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے خود کو دو پرانی چادروں اور دو روٹیوں پر قناعت کرتے ہوئے پیش کیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ وہ دنیاوی چیزوں کے پیچھے نہیں بھاگتے۔ یہ ایک اہم پیغام ہے کہ دنیا کی عارضی خوشیوں کی بجائے ہمیں تقویٰ اور پرہیزگاری کی طرف توجہ دینی چاہیے۔
ایک اور اہم موضوع اس خط میں یہ ہے کہ ہر شخص کا ایک امام ہوتا ہے جس کی پیروی کی جاتی ہے۔ حضرت علیؑ نے یہ واضح کیا کہ ایک رہنما کی زندگی کا معیار اس کے پیروکاروں کے لیے ایک مثال ہونی چاہیے۔ انہوں نے عثمان ابن حنیف کو یاد دلایا کہ اگر وہ دنیاوی لذتوں میں مگن ہو جائیں گے تو ان کے پیروکار بھی اسی راستے پر چلیں گے۔
اس خط کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ حضرت علیؑ نے دنیا کی فریب کاریوں سے بچنے کی تلقین کی ہے۔ انہوں نے دنیا کو ایک فریب قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اس کے پیچھے بھاگتے ہیں وہ آخر کار ناکامی کا سامنا کرتے ہیں۔
مجموعی طور پر یہ خط ایک اخلاقی درس ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ ہمیں دنیاوی لذتوں سے دور رہنا چاہیے، سادگی کو اپنانا چاہیے، اور اپنی زندگی کو تقویٰ اور پرہیزگاری کی بنیاد پر گزارنا چاہیے۔
