مکتوب (۶۲) امام علی علیہ السلام کا یہ خط مالک اشتر کو مصر کی حکومت کے حوالے کرنے کے موقع پر اہل مصر کے نام ہے۔ اس خط میں امام علی علیہ السلام نے اسلامی خلافت کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ یہ خط اس وقت لکھا گیا جب مسلمانوں میں خلافت کے معاملے پر اختلافات بڑھ رہے تھے۔ امام علی علیہ السلام نے اس خط میں اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ لوگ دین اسلام سے منحرف ہو رہے ہیں اور اس کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔
امام علی علیہ السلام کے اس خط میں کئی اہم موضوعات شامل ہیں۔ ایک اہم موضوع یہ ہے کہ وہ اسلامی خلافت کے اصل حق دار ہونے کے ناطے، اپنے حق کے بارے میں اپنی بے بسی کا ذکر کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ محسوس کیا کہ لوگ ان کے حق کو نظرانداز کر رہے ہیں اور دوسری طرف بیعت کے لیے دوڑ رہے ہیں۔ امام علی علیہ السلام نے یہ بھی بیان کیا کہ ان کی خاموشی کی وجہ یہ تھی کہ وہ دین اسلام کی حفاظت کے لیے فکر مند تھے اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ اسلام کو کوئی نقصان پہنچے۔
خط میں ایک اہم فقرہ ہے: "اگر میں تن تنہا ان سے مقابلہ کیلئے نکلوں اور زمین کی ساری وسعتیں ان سے چھلک رہی ہوں، جب بھی میں پروا نہ کروں۔" اس فقرے سے امام علی علیہ السلام کی استقامت اور عزم کا پتہ چلتا ہے۔ وہ اپنی قوم کے لیے فکر مند ہیں کہ اگر بدمغز اور بدکردار لوگ حکومت کریں گے تو وہ اللہ کے مال کو اپنی ملکیت سمجھیں گے اور نیک لوگوں کو دبائیں گے۔
اس خط سے ہمیں کئی اخلاقی اور روحانی اسباق ملتے ہیں۔ امام علی علیہ السلام نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ حق کی حفاظت کے لیے ہمیں ہر حال میں کھڑا ہونا چاہیے، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے اور اپنے دین کی حفاظت کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ اس کے علاوہ، امام علی علیہ السلام نے ہمیں یہ بھی بتایا ہے کہ سستی اور غفلت کی صورت میں ہمیں ذلت اور ظلم کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
عملی طور پر، اس خط کا پیغام یہ ہے کہ ہمیں اپنے دین کی حفاظت کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے، اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانی چاہیے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اگر ہم سست رہیں گے تو ہمیں نقصان ہوگا۔ امام علی علیہ السلام کا یہ خط ہمیں عزم و ہمت کا سبق دیتا ہے کہ ہمیں ہمیشہ حق کے ساتھ کھڑا رہنا چاہیے۔
