مکتوب (63) میں امام علی علیہ السلام نے ابو موسیٰ اشعری کو مخاطب کیا ہے، جب انہیں خبر ملی کہ ابو موسیٰ اہل کوفہ کو جنگ جمل میں شرکت کے لئے بلانے کے باوجود روک رہے ہیں۔ یہ خط اس وقت لکھا گیا جب اسلامی معاشرے میں اختلافات بڑھ رہے تھے اور جنگ جمل کی صورت حال سنگین ہو چکی تھی۔ امام علی علیہ السلام کا یہ خط ایک اہم پیغام ہے جو حق و باطل کے درمیان واضح تفریق کرتا ہے۔
خط کی ابتدائی حصہ میں امام علی علیہ السلام ابو موسیٰ کو متوجہ کرتے ہیں کہ ان کے پاس ایسی خبر آئی ہے جو ان کے حق میں بھی ہو سکتی ہے اور خلاف بھی۔ یہ ایک نکتہ ہے جو ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ حالات کو سمجھنے اور ان کا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔ امام علی علیہ السلام ان سے کہتے ہیں کہ جب میرا قاصد آپ کے پاس پہنچے تو جہاد کے لئے تیار ہو جائیں، یہ ایک واضح پیغام ہے کہ حق کی راہ میں کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔
امام علیہ السلام نے ابو موسیٰ کو یہ بھی بتایا کہ اگر وہ حق کے ساتھ کھڑے ہوں تو انہیں اپنی جگہ پر قائم رہنا چاہیے، ورنہ انہیں دور جانا چاہیے۔ یہ الفاظ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حق کی راہ میں ثابت قدم رہنا ضروری ہے، اور جو لوگ دو عملی کا مظاہرہ کرتے ہیں، ان کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔
امام علی علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ کی قسم، تم ہر جگہ گھیرے جاؤ گے، یہ ایک حقیقت ہے کہ جب حق کی راہ میں قدم اٹھایا جائے تو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ مشکلات کو برداشت کرنا اور حق کے ساتھ کھڑے رہنا ہی اصل کامیابی ہے۔
آخر میں امام علی علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ حق پرستوں کا صحیح اقدام ہے اور بے دینوں کے اعمال کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ یہ الفاظ ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ ہمیں ہمیشہ حق کی راہ پر چلنا چاہیے، چاہے حالات کیسے بھی ہوں۔ امام کا یہ پیغام آج بھی مسلمانوں کے لئے ایک رہنمائی ہے کہ وہ حق کے ساتھ کھڑے رہیں اور باطل کی مخالفت کریں۔
