یہ مکتوب (74) حضرت علی علیہ السلام کی طرف سے قبیلہ ربیعہ اور اہل یمن کے درمیان ایک معاہدے کے طور پر تحریر کیا گیا ہے۔ یہ معاہدہ اس وقت کے سیاسی اور سماجی حالات کے پس منظر میں لکھا گیا جب مختلف قبائل کے درمیان اتحاد اور باہمی تعاون کی ضرورت تھی۔ یہ عہد نہ صرف دینی بلکہ سماجی استحکام کی بھی ضمانت دیتا ہے۔
اس معاہدے میں بنیادی موضوعات میں سے ایک اللہ کی کتاب (قرآن) کی پیروی ہے۔ اہل یمن اور قبیلہ ربیعہ نے عہد کیا کہ وہ سب اللہ کی کتاب پر ثابت قدم رہیں گے، اس کی طرف دعوت دیں گے، اور اس کے احکامات کی پیروی کریں گے۔ اس عہد کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی کتاب کے خلاف جائیں گے، ان کے خلاف سب متحد ہوں گے۔ یہ ایک مضبوط پیغام ہے کہ اتحاد اور باہمی تعاون کی ضرورت ہے، خاص طور پر جب دین کی بات ہو۔
مکتوب میں کچھ کلیدی جملے ہیں جو اس عہد کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں، جیسے کہ "ان کی آواز ایک ہو گی" اور "نہ اس کے عوض کوئی فائدہ چاہیں گے"۔ یہ الفاظ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اہل یمن اور قبیلہ ربیعہ نے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اللہ کی راہ میں چلنے کا عہد کیا ہے، اور وہ اس عہد کو کسی بھی قسم کی مخالفت یا دباؤ سے نہیں توڑیں گے۔
اس مکتوب میں اخلاقی اور روحانی سبق یہ ہے کہ ہمیں اللہ کی کتاب کی پیروی کرنی چاہیے اور اس کے احکامات کی پاسداری کرنی چاہیے۔ یہ ہمیں اتحاد کی اہمیت سکھاتا ہے، خاص طور پر جب ہمیں مشکلات کا سامنا ہو۔ عملی طور پر، یہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہمیں اپنے اختلافات کو بھلا کر ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہیے، اور اللہ کی راہ میں ثابت قدم رہنا چاہیے۔
