مکتوب (75) میں امام علی علیہ السلام نے معاویہ ابن ابی سفیان کے نام ایک خط لکھا۔ یہ خط اس وقت کا ہے جب آپ کی بیعت ہوئی تھی اور اس میں آپ نے اپنی سیاسی حکمت عملی اور حالات کی وضاحت کی۔ یہ خط ہمیں اس وقت کی سیاسی صورت حال کی عکاسی کرتا ہے جب اسلامی معاشرے میں مختلف گروہوں کے درمیان اختلافات بڑھ رہے تھے۔ امام علی علیہ السلام نے اس خط میں واضح کیا کہ آپ نے لوگوں کے بارے میں حجت ختم کر دی ہے، یعنی آپ نے ان کے حقوق اور فرائض کے بارے میں مکمل وضاحت کر دی ہے۔
خط میں امام علی علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا کہ آپ نے معاویہ کے معاملات سے چشم پوشی کی، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ آپ نے ایک طویل عرصے تک صبر کیا اور معاملات کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ آپ نے یہ بھی کہا کہ جو کچھ ہونا تھا، وہ ہو چکا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ نے حالات کی حقیقت کو تسلیم کیا اور اب مزید انتظار نہیں کرنا چاہتے۔
امام علی علیہ السلام نے معاویہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے لوگوں سے بیعت حاصل کریں اور اپنے ساتھیوں کے وفد کے ساتھ آپ کے پاس آئیں۔ یہ ایک اہم پیغام ہے کہ امام نے اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا۔ آپ نے یہ واضح کیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ سب کو ایک جگہ جمع ہو کر ایک مشترکہ مقصد کے لئے کام کرنا چاہئے۔
اس خط کے ذریعے امام علی علیہ السلام نے ہمیں یہ سکھایا کہ حالات چاہے کتنے بھی مشکل ہوں، صبر اور حکمت سے کام لینا ضروری ہے۔ ہمیں اپنے حقوق اور فرائض کے بارے میں واضح ہونا چاہئے اور جب ضرورت ہو تو اتحاد کی کوشش کرنی چاہئے۔ یہ خط ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ کبھی کبھی ہمیں حالات کو تسلیم کر کے آگے بڑھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
