حکمت (37) : امیرالمومنین علیہ السّلام سے شام کی جانب روانہ ہوتے وقت مقام انبار کے زمینداروں کا سامنا ہوا، تو وہ آپ کو دیکھ کر پیادہ ہو گئے اور آپ کے سامنے دوڑنے لگے۔ آپ نے فرمایا یہ تم نے کیا کیا؟ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارا عام طریقہ ہے۔ جس سے ہم اپنے حکمرانوں کی تعظیم بجا لاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا۔ خدا کی قسم اس سے تمہارے حکمرانوں کو کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچتا، البتہ تم اس دنیا میں اپنے کو زحمت و مشقت میں ڈالتے ہو، اور آخرت میں اس کی وجہ سے بدبختی مول لیتے ہو، وہ مشقت کتنی گھاٹے والی ہے جس کا نتیجہ سزائے اخروی ہو، اور وہ راحت کتنی فائدہ مند ہے جس کا نتیجہ دوزخ سے امان ہو۔ (37- تعظیم کا ایک طریقہ)
(۳۷)
امیر المومنین علیہ السلام سے شام کی جانب روانہ ہوتے وقت مقام انبار کے زمینداروں کا سامنا ہوا تو وہ آپؑ کو دیکھ کر پیادہ ہو گئے اور آپؑ کے سامنے دوڑنے لگے۔ آپؑ نے فرمایا:
یہ تم نے کیا کیا؟
انہوں نے کہا کہ: یہ ہمارا عام طریقہ ہے جس سے ہم اپنے حکمرانوں کی تعظیم بجا لاتے ہیں۔ آپؑ نے فرمایا:
خدا کی قسم! اس سے تمہارے حکمرانوں کو کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچتا۔ البتہ تم اس دنیا میں اپنے کو زحمت و مشقت میں ڈالتے ہو اور آخرت میں اس کی وجہ سے بدبختی مول لیتے ہو۔ وہ مشقت کتنی گھاٹے والی ہے جس کا نتیجہ سزائے اخروی ہو، اور وہ راحت کتنی فائدہ مند ہے جس کا نتیجہ دوزخ سے امان ہو۔