خطبہ خطبہ : 190

خطبہ (190) : ابلیس کی مذمت، اور آدم ؑ کے سامنے سر بسجود نہ ہونا (190- (خطبہ قاصعہ) جس میں ابلیس کی مذمت ہے۔)

خطبہ (۱۹۰)
اس خطبہ کا نام ’’خطبہ قاصعہ‘‘ ہے
جس میں ابلیس کی مذمت ہے، اس کے تکبر و غرور اور آدم علیہ السلام کے آگے سر بسجود نہ ہونے پر اور یہ کہ وہ پہلا فرد ہے جس نے عصبیّت کا مظاہرہ کیا اور غرور و نخوت کی راہ اختیار کی اور لوگوں کو اس کے طور طریقوں پر چلنے سے تنبیہ کی گئی ہے:
ہر تعریف اس اللہ کیلئے ہے جو عزت و کبریائی کی ردا اوڑھے ہوئے ہے اور جس نے ان دونوں صفتوں کو بلا شرکت غیرے اپنی ذات کیلئے مخصوص کیا ہے اور دوسروں کیلئے ممنوع و ناجائز قرار دیتے ہوئے صرف اپنے لئے انہیں منتخب کیا ہے اور اس کے بندوں میں سے جو ان صفتوں میں سے اس سے ٹکر لے اس پر لعنت کی ہے اور اسی کی رُو سے اس نے اپنے مقرب فرشتوں کا امتحان لیا تاکہ ان میں سے فروتنی کرنے والوں کو گھمنڈ کرنے والوں سے چھانٹ کر الگ کر دے۔ چنانچہ اللہ سبحانہ نے باوجودیکہ وہ دل کے بھیدوں اور پردۂ غیب میں چھپی ہوئی چیزوں سے آگاہ ہے فرمایا کہ: ’’میں مٹی سے ایک بشر بنانے والا ہوں۔ جب میں اس کو تیار کر لوں اور اپنی خاص روح پھونک دوں تو تم اس کے سامنے سجدہ میں گر پڑنا۔ سب کے سب فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس‘‘۔ اسے سجدہ کرنے میں عار آئی اور اپنے مادہ تخلیق کی بنا پر آدمؑ کے مقابلے میں گھمنڈ کیا اور اپنی اصل کے لحاظ سے ان کے سامنے اکڑ گیا۔
چنانچہ یہ دشمن خدا عصبیت برتنے والوں کا سرغنہ اور سرکشوں کا پیشرو ہے کہ جس نے تعصب کی بنیاد رکھی، اللہ سے اس کی ردائے عظمت و کبریائی کو چھیننے کا تصور کیا، تکبر و سر کشی کا جامہ پہن لیا اور عجز و فروتنی کی نقاب اتار ڈالی۔
پھر تم دیکھتے نہیں کہ اللہ نے اسے بڑے بننے کی وجہ سے کس طرح چھوٹا بنایا اور بلندی کے زعم کی وجہ سے کس طرح پستی دی۔ دنیا میں اسے راندۂ درگاہ بنایا اور آخرت میں اس کیلئے بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کی۔
اور اگر اللہ چاہتا تو آدم علیہ السلام کو ایک ایسے نور سے پیدا کرتا کہ جس کی روشنی آنکھوں کو چندھیا دے اور اس کی خوشنمائی عقلوں پر چھا جائے اور ایسی خوشبو سے کہ جس کی مہک سانسوں کو جکڑ لے اور اگر ایسا کرتا تو ان کے آگے گردنیں خم ہو جاتیں اور فرشتوں کی ان کے بارے میں آزمائش ہلکی ہو جاتی، لیکن اللہ سبحانہ اپنی مخلوقات کو ایسی چیزوں سے آزماتا ہے کہ جن کى اصل و حقیقت سے وہ ناواقف ہوتے ہیں تاکہ اس آزمائش کے ذریعے (اچھے اور برے افراد میں) امتیاز کر دے، ان سے نخوت و برتری کو الگ اور غرور و خود پسندی کو دور کر دے۔
تمہیں چاہیے کہ اللہ نے شیطان کے ساتھ جو کیا اس سے عبرت حاصل کرو کہ اس کی طول طویل عبادتوں اور بھر پور کوششوں پر اس کے ایک گھڑی کے گھمنڈ سے پانی پھیر دیا۔ حالانکہ اس نے چھ ہزار برس تک جو پتہ نہیں دنیا کے سال تھے یا آخرت کے اس کی عبادت کی تھی۔
تو اَب ابلیس کے بعد کون رہ جاتا ہے جو اس جیسی معصیت کر کے اللہ کے عذاب سے محفوظ رہ سکتا ہو؟ ہرگز نہیں! یہ نہیں ہو سکتا کہ اللہ نے جس چیز کی وجہ سے ایک مَلک کو جنت سے نکال باہر کیا ہو اسی پر کسی بشر کو جنت میں جگہ دے۔ اس کا حکم تو اہل آسمان اور اہل زمین میں یکساں ہے۔ اللہ اور مخلوقات میں سے کسی فرد خاص کے درمیان دوستی نہیں کہ اس کو ایسے امر ممنوع کی اجازت ہو کہ جسے تمام جہان والوں کیلئے اس نے حرام کیا ہو۔
خدا کے بندو! اللہ کے دشمن سے ڈرو کہ کہیں وہ تمہیں اپنا روگ نہ لگا دے، اپنی پکار سے تمہیں بہکا نہ دے اور اپنے سوار و پیادے لے کر تم پر چڑھ نہ دوڑے۔ اس لئے کہ میری جان کی قسم!اس نے شر انگیزی کے تیر کو چلہ کمان میں جوڑ رکھا ہے اور قریب کی جگہ سے تمہیں اپنے نشانہ کی زد پر رکھ کر کمان کو زور سے کھینچ لیا ہے۔ جیسا کہ اللہ نے اس کی زبانی فرمایا ہے کہ: ’’اے میرے پروردگار! چونکہ تو نے مجھے بہکا دیا ہے، اب میں بھی ان کے سامنے زمین میں گناہوں کو سج کر پیش کروں گا اور ان سب کو گمراہ کروں گا‘‘، حالانکہ یہ اس نے بالکل اٹکل پچو کہا تھا اور غلط گمان کی بنا پر (اندھیرے میں) تیر چلایا تھا، لیکن فرزندانِ رعونت، برادرانِ عصبیت اور شہسواران غرور و جاہلیت نے اس کی بات کو سچ کر دکھایا۔
یہاں تک کہ جب تم میں سے سرکش اور منہ زور لوگ اس کے فرمانبردار ہو گئے اور تمہارے بارے میں اس کی ہوس و طمع قوی ہو گئی اور صورت حال پردۂ خفا سے نکل کر کھلم کھلا سامنے آ گئی تو اس کا پورا پورا تسلط تم پر ہو گیا اور وہ اپنے لشکر و سپاہ کو لے کر تمہاری طرف بڑھ آیا اور انہوں نے تمہیں ذلت کے غاروں میں دھکیل دیا اور قتل و خون کے بھنوروں میں لا گرایا اور گھاؤ پر گھاؤ لگا کر تمہیں کچل دیا، تمہاری آنکھوں میں نیزے گاڑ کر، تمہارے گلے کاٹ کر، تمہارے نتھنوں کو پارہ پارہ کر کے، تمہارے ایک ایک جوڑ بند کو توڑ کر اور تمہاری ناک میں غلبہ و تسلط کی نکیلیں ڈال کر تمہیں اس آگ کی طرف کھینچے لئے جاتا ہے جو تمہارے لئے تیار کی گئی ہے۔ اسی طرح ان دشمنوں سے جن سے کھلم کھلا تمہاری مخالفت ہے اور جن کے مقابلے کیلئے تم فوجیں جمع کرتے ہو، زیادہ بڑھ چڑھ کر وہ تمہارے دین کو مجروح کرنے والا اور دنیا میں تمہارے لئے (فتنہ و فساد) کے شعلے بھڑکانے والا ہے۔
لہٰذا تمہیں لازم ہے کہ اپنے جوش و غضب کا پورا مرکز اسے قرار دو اور پوری کوشش اس کے خلاف صرف کرو، کیونکہ اس نے شروع ہی میں تمہاری اصل (آدمؑ) پر فخر کیا، تمہارے حسب (قدر و منزلت) پر حرف رکھا، تمہارے نسب (اصل و طینت )پر طعن کیا اور اپنے سواروں کو لے کر تم پر یورش کی اور اپنے پیادوں کو لے کر تمہارے راستہ کا قصد کیا ہے۔ وہ ہر جگہ سے تمہیں شکار کرتے ہیں اور تمہاری (انگلی کی) ایک ایک پور پر چوٹیں لگاتے ہیں۔ نہ کسی حیلہ و تدبیر سے تم اپنا بچاؤ اور نہ پورا تہیہ کر کے اس کی روک تھام کر سکتے ہو، درآنحالیکہ تم رسوائی کے بھنور، تنگی و ضیق کے دائرہ، موت کے میدان اور مصیبت و بلا کی جولانگاہ میں ہو۔
تمہیں لازم ہے کہ اپنے دلوں میں چھپی ہوئی عصبیت کی آگ اور جاہلیت کے کینوں کو فرو کرو۔ کیونکہ مسلمان میں یہ غرور اور خود پسندی، شیطان کی وسوسہ اندازی، نخوت پسندی،فتنہ انگیزی اور فسوں کاری ہی کا نتیجہ ہوتی ہے۔
عجز و فروتنی کو سر کا تاج بنانے، کبر و خود بینی کو پیروں تلے روندنے اور تکبر و رعونت کا طوق گردن سے اتارنے کا عزم بالجزم کر لو۔ اپنے اور اپنے دشمن شیطان اور اس کی سپاہ کے درمیان تواضع و فروتنی کا مورچہ قائم کرو، کیونکہ ہر جماعت میں اس کے لشکر، یار و مددگار اور سوار و پیادے موجود ہیں۔ تم اس کی طرح نہ بنو کہ جس نے اپنے ماں جائے بھائی کے مقابلے میں غرور کیا، بغیر کسی فضیلت و بلندی کے کہ جو اللہ نے اس میں قرار دی ہو، سوا اس کے کہ حاسدانہ عداوت سے اس میں اپنی بڑائی کا احساس پیدا ہوا اور خود پسندی نے اس کے دل میں غیظ و غضب کی آگ بھڑکا دی اور شیطان نے اس کی ناک میں کبر و غرور کی ہوا پھونک دی کہ جس کی وجہ سے اللہ نے ندامت و پشیمانی کو اس کے پیچھے لگا دیا اور قیامت تک کے قاتلوں کے گناہ اس کے ذمہ ڈال دیے۔
دیکھو! تم نے اللہ سے کھلم کھلا دشمنی پر اتر کر اور مومنین سے آمادۂ پیکار ہو کر ظلم و تعدی کی انتہا کر دی اور زمین میں فساد مچا دیا۔ تم زمانہ جاہلیت والی خود بینی کی بنا پر فخر و غرور کرنے سے اللہ کا خوف کھاؤ، کیونکہ یہ دشمنی و عناد کا سر چشمہ اور شیطان کی فسوں کاری کا مرکز ہے، جس سے اس نے گزشتہ اُمتوں اور پہلی قوموں کو ورغلایا۔ یہاں تک کہ وہ اس کے دھکیلنے اور آگے سے کھینچنے پر بے چون و چرا جہالت کی اندھیاریوں اور ضلالت کے گڑھوں میں تیزی سے جا پڑیں۔ ایسی صورت سے جس میں ایسے لوگوں کے تمام دل ملتے جلتے ہوئے ہیں اور صدیوں کا حال ایک ہی سا رہا ہے اور ایسا غرور جس کے چھپانے سے سینوں کی وسعتیں تنگ ہوتی ہیں۔
دیکھو! اپنے ان سرداروں اور بڑوں کا اتباع کرنے سے ڈرو کہ جو اپنی جاہ وحشمت پر اکڑتے اور اپنے نسب کی بلندیوں پر غرہ کرتے ہوں اور بدنما چیزوں کو اللہ کے سر ڈال دیتے ہوں اور اس کی قضا و قدر سے ٹکر لینے اور اس کی نعمتوں پر غلبہ پانے کیلئے اس کے احسانات سے یکسر انکار کر دیتے ہوں۔ یہی لوگ تو عصبیت کی عمارت کی گہری بنیاد، فتنہ کے کاخ و ایوان کے ستون اور جاہلیت کے نسبی تفاخر کی تلواریں ہیں۔
لہٰذا اللہ سے ڈرو اور اس کی دی ہوئی نعمتوں کے دشمن نہ بنو اور نہ اس کے فضل و کرم کے جو تم پر ہے حاسد بنو [۱] اور اُن جھوٹے مدعیانِ اسلام کی پیروی نہ کرو کہ جن کا گدلا پانی تم اپنے صاف پانی میں سمو کر پیتے ہو اور اپنی درستگی کے ساتھ ان کی خرابیوں کو خلط ملط کر لیتے ہو اور اپنے حق میں ان کے باطل کیلئے بھی راہ پیدا کر دیتے ہو۔ وہ فسق و فجور کی بنیاد ہیں اور نافرمانیوں کے ساتھ چسپیدہ ہیں، جنہیں شیطان نے گمراہی کی بار بردار سواری قرار دے رکھا ہے اور ایسا لشکر جس کو ساتھ لے کر لوگوں پر حملہ کرتا ہے اور ایسے ترجمان کہ جن کی زبان سے وہ گویا ہوتا ہے، تاکہ تمہاری عقلیں چھین لے، تمہاری آنکھوں میں گھس جائے اور تمہارے کانوں میں پھونک دے۔ اس طرح اس نے تمہیں اپنے تیروں کا ہدف، اپنے قدموں کی جولانگاہ اور اپنے ہاتھوں کا کھلونا بنا لیا ہے۔
تمہیں لازم ہے کہ تم سے قبل سرکش اُمتوں پر جو قہر و عذاب اور عتاب و عقاب نازل ہوا، اس سے عبرت لو اور ان کے رخساروں کے بل لیٹنے اور پہلوؤں کے بل گرنے کے مقامات سے نصیحت حاصل کرو اور جس طرح زمانہ کی مصیبتوں سے پناہ مانگتے ہو اسی طرح مغرور و سرکش بنانے والی چیزوں سے اللہ کے دامن میں پناہ مانگو۔
اگر خداوند عالم اپنے بندوں میں سے کسی ایک کو بھی کبر و رعونت کی اجازت دے سکتا ہوتا تو وہ اپنے مخصوص انبیاء اور اولیاء علیہم السلام کو اس کی اجازت دیتا، لیکن اس نے ان کو کبر و غرور سے بیزار ہی رکھا اور ان کیلئے عجز و مسکنت ہی کو پسند فرمایا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے رخسارے زمین سے پیوستہ اور چہرے خاک آلودہ رکھے اور مومنین کے آگے تواضع و انکسار سے جھکتے رہے اور وہ دنیا میں کمزور و بے بس تھے، جنہیں اللہ نے بھوک سے آزمایا، تعب و مشقت میں مبتلا کیا، خوف و خطر کے موقعوں سے ان کا امتحان لیا اور ابتلا و مصیبت سے انہیں تہ و بالا کیا۔
لہٰذا خدا کی خوشنودی و ناخوشنودی کا معیار اولادو مال کو قرار نہ دو، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ اللہ دولت اور اقتدار سے بھی کس کس طرح بندوں کا امتحان لیتا ہے۔ چنانچہ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے کہ: ’’وہ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم جو مال و اولاد سے انہیں سہارا دیتے ہیں تو ہم ان کے ساتھ بھلائیاں کرنے میں سرگرم ہیں مگر (جو اصل واقعہ ہے اسے) یہ لوگ سمجھتے نہیں‘‘۔
اسی طرح واقعہ یہ ہے کہ اللہ اپنے ان بندوں کا جو بجائے خود اپنی بڑائی کا گھمنڈ رکھتے ہیں امتحان لیتا ہے، اپنے ان دوستوں کے ذریعہ سے جو ان کی نظروں میں عاجز و بے بس ہیں۔ (چنانچہ اس کی مثال یہ ہے کہ) موسیٰ علیہ السلام اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو ساتھ لے کر اس حالت میں فرعون کے پاس آئے کہ ان کے جسم پر اونی کُرتے اور ہاتھوں میں لاٹھیاں تھیں اور اس سے یہ قول و قرار کیا کہ اگر وہ اسلام قبول کرلے تو اس کا ملک بھی باقی رہے گا اور اس کی عزت بھی برقرار رہے گی، تو اس نے (اپنے حاشیہ نشینوں سے) کہا کہ: تمہیں ان پر تعجب نہیں ہوتا کہ یہ دونوں مجھ سے یہ معاملہ ٹھہرا رہے ہیں کہ میری عزت بھی برقرار رہے گی اور میرا ملک بھی باقی رہے گا اور جس پھٹے حال اور ذلیل صورت میں یہ ہیں تم دیکھ ہی رہے ہو، (اگر ان میں اتنا ہی دم خم تھا تو پھر) ان کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن کیوں نہیں پڑے ہوئے۔ یہ اس لئے کہ وہ سونے کو اور اس کی جمع آوری کو بڑی چیز سمجھتا تھا اور بالوں کے کپڑوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتا تھا۔
اگر خداوند عالم یہ چاہتا کہ جس وقت اس نے نبیوں کو مبعوث کیا تو ان کیلئے سونے کے خزانوں اور خالص طلا کی کانوں کے منہ کھول دیتا اور باغوں کی کشت زاروں کو ان کیلئے مہیا کر دیتا اور فضا کے پرندوں اور زمین کے صحرائی جانوروں کو ان کے ہمراہ کر دیتا تو کر سکتا تھا اور اگر ایسا کرتا تو پھر آزمائش ختم، جزا و سزا بیکار اور (آسمانی)خبریں اَکارت ہو جاتیں اور آزمائش میں پڑنے والوں کا اجر اس طرح کے ماننے والوں کیلئے ضروری نہ رہتا اور نہ ایسے ایمان لانے والے [۲] نیک کرداروں کی جزا کے مستحق رہتے او رنہ الفاظ اپنے معنی کا ساتھ دیتے، لیکن اللہ سبحانہ اپنے رسولوں کو ارادوں میں قوی اور آنکھوں کو دکھائی دینے والی ظاہری حالت میں کمزور و ناتواں قرار دیتا ہے اور انہیں ایسی قناعت سے سرفراز کرتا ہے جو (دیکھنے اور سننے والوں کے) دلوں اور آنکھوں کو بے نیازی سے بھر دیتی ہے اور ایسا افلاس ان کے دامن سے وابستہ کر دیتا ہے کہ جس سے آنکھوں کو دیکھ کر اور کانوں کو سن کر اذیت ہوتی ہے۔
اگر انبیاء علیہم السلام ایسی قوت و طاقت رکھتے کہ جسے دبانے کا قصد و ارادہ بھی نہ ہو سکتا ہوتا اور ایسا تسلط و اقتدار رکھتے کہ جس پر تعدی ممکن ہی نہ ہوتی اور ایسی سلطنت کے مالک ہو تے کہ جس کی طرف لوگوں کی گردنیں مڑتیں اور اس کے رخ پر سواریوں کے پالان کسے جاتے تو یہ چیز نصیحت پذیری کیلئے بڑی آسان اور اس سے انکار و سرتابی بہت بعید ہوتی اور لوگ چھائے ہوئے خوف یا مائل کرنے والے اسباب رغبت کی بنا پر ایمان لے آتے تو اس صورت میں ان کی نیتیں مشترک اور نیک عمل بٹے ہوئے ہوتے۔
لیکن اللہ سبحانہ نے تو یہ چاہا کہ اس کے پیغمبروں کا اتباع، اس کی کتابوں کی تصدیق، اس کے سامنے فروتنی، اس کے احکام کی فرمانبرداری اور اس کی اطاعت، یہ سب چیزیں اسی کیلئے مخصوص ہوں اور ان میں کوئی دوسرا شائبہ تک نہ ہو اور جتنی آزمائش کڑی ہو گی اتنا ہی اجر و ثواب زیادہ ہو گا۔
تم دیکھتے نہیں کہ اللہ سبحانہ نے آدم علیہ السلام سے لے کر اس جہان کے آخر تک کے اگلے پچھلوں کو ایسے پتھروں سے آزمایا ہے کہ جو نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ فائدہ، نہ سن سکتے ہیں اور نہ دیکھ سکتے ہیں۔ اس نے ان پتھروں ہی کو اپنا محترم گھر قرار دیا کہ جسے لوگوں کیلئے (امن کے) قیام کا ذریعہ ٹھہرایا ہے۔ پھر یہ کہ اس نے اسے زمین کے رقبوں میں سے ایک سنگلاخ رقبہ اور دنیا میں بلندی پر واقع ہونے والی آبادیوں میں سے ایک کم مٹی والے مقام اور گھاٹیوں میں سے ایک تنگ اطراف والی گھاٹی میں قرار دیا، کھرے اور کھردرے پہاڑوں، نرم رتیلے میدانوں، کم آب چشموں اور متفرق دیہاتوں کے درمیان کہ جہاں اونٹ، گھوڑا اور گائے بکری نشو و نما نہیں پا سکتے۔
پھر بھی اس نے آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کو حکم دیا کہ اپنے رخ اس کی طرف موڑیں۔ چنانچہ وہ ان کے سفروں سے فائدہ اٹھانے کا مرکز اور پالانوں کے اترنے کی منزل بن گیا کہ دور افتادہ بے آب و گیاه بیابانوں، دور و دراز گھاٹیوں کے نشیبی راہوں اور (زمین سے) کٹے ہوئے دریاؤں کے جزیروں سے نفوس انسانی ادھر متوجہ ہوتے ہیں، یہاں تک کہ وہ پوری فرمانبرداری سے اپنے کندھوں کو ہلاتے ہوئے اس کے گرد لَبَّیْکَ اللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ کی آوازیں بلند کرتے ہیں اور اپنے پیروں سے پویا دوڑ لگاتے ہیں، اس حالت میں کہ ان کے بال بکھرے ہوئے اور بدن خاک میں اَٹے ہوتے ہیں۔ انہوں نے اپنا لباس پشت پر ڈال دیا ہوتا ہے اور بالوں کو بڑھا کر اپنے کو بدصورت بنا لیا ہوتا ہے۔ یہ بڑی ابتلا، کڑی آزمائش، کھلم کھلا امتحان اور پوری پوری جانچ ہے۔ اللہ نے اسے اپنی رحمت کا ذریعہ اور جنت تک پہنچنے کا وسیلہ قرار دیا ہے۔
اور اگر خداوند عالم یہ چاہتا کہ وہ اپنا محترم گھر اور بلند پایہ عبادت گاہیں ایسی جگہ پر بنائے کہ جس کے گرد باغ و چمن کی قطاریں اور بہتی ہوئی نہریں ہوں، زمین نرم و ہموار ہو کہ (جس میں) درختوں کے جھنڈ اور (ان میں) جھکے ہوئے پھلوں کے خوشے ہوں، جہاں عمارتوں کا جال بچھا ہوا اور آبادیوں کا سلسلہ ملا ہوا ہو، جہاں سرخی مائل گیہوں کے پودے، سر سبز مرغزار، چمن درکنار، سبزہ زار، پانی میں شرابور میدان، لہلہاتے ہوئے کھیت اور آباد گزرگاہیں ہوں تو البتہ وہ جزا و ثواب کو اسی اندازہ سے کم کر دیتا ہے کہ جس اندازہ سے ابتلا و آزمائش میں کمی واقع ہوئی ہے۔
اگر وہ بنیاد کہ جس پر اس گھر کی تعمیر ہوئی ہے اور وہ پتھر کہ جس پراس کی عمارت اٹھائی گئی ہے، زمرد سبز و یاقوت سرخ کے ہوتے اور (ان میں) نور و ضیاء ( کی تابانی) ہوتی تو یہ چیز سینوں میں شک و شبہات کے ٹکراؤ کو کم کر دیتی اور دلوں سے شیطان کی دوڑ دھوپ (کا اثر) مٹا دیتی اور لوگوں سے شکوک کے خلجان دور کر دیتی، لیکن اللہ سبحانہ اپنے بندوں کو گو ناگوں سختیوں سے آزماتا ہے اور ان سے ایسی عبادت کا خواہاں ہے کہ جو طرح طرح کی مشقتوں سے بجا لائی گئی ہو اور انہیں قسم قسم کی ناگواریوں سے جانچتا ہے تاکہ ان کے دلوں سے تمکنت و غرور کو نکال باہر کرے اور ان کے نفوس میں عجز و فروتنی کو جگہ دے اور یہ کہ اس ابتلا و آزمائش(کی راہ) سے اپنے فضل و امتنان کے کھلے ہوئے دروازوں تک (انہیں ) پہنچائے اور اسے اپنی معافی و بخشش کا آسان وسیلہ و ذریعہ قرار دے۔
دنیا میں سرکشی کی پاداش اور آخرت میں ظلم کی گرانباری کے عذاب اور غرور و نخوت کے برے انجام کے خیال سے اللہ کا خوف کھاؤ، کیونکہ یہ (سرکشی، ظلم او رغرور و تکبر) شیطان کا بہت بڑا جال اور بہت بڑا ہتھکنڈا ہے کہ جو لوگوں کے دلوں میں زہر قاتل کی طرح اتر جاتا ہے۔ نہ اس کا اثر کبھی رائیگاں جاتا ہے نہ اس کا وار کسی سے خطا کرتا ہے، نہ عالم سے اس کے علم کے باوجود اور نہ پھٹے پرانے چیتھڑوں میں کسی فقیر بے نوا سے [۳] ۔
یہی وہ چیز ہے جس سے خداوند عالم ایمان سے سرفراز ہونے والے بندوں کو نماز، زکوٰة اور مقرر دنوں میں روزوں کے جہاد کے ذریعہ محفوظ رکھتا ہے اور اس طرح ان کے ہاتھ پیروں (کی طغیانیوں) کو سکون کی سطح پر لاتا ہے، ان کی آنکھوں کو عجزو شکستگی سے جھکا کر، نفس کو رام اور دلوں کو متواضع بنا کر، رعونت و خود پسندی کو ان سے دور کرتا ہے۔ (نماز میں) نازک چہروں کو عجز و نیاز مندی کی بنا پر خاک آلودہ کیا جاتا ہے اور روزوں میں از روئے فرمانبرداری پیٹ پیٹھ سے مل جاتے ہیں اور زکوٰة میں زمین کی پیداوار وغیرہ کو فقرا اور مساکین تک پہنچایا جاتا ہے۔
دیکھو! کہ ان اعمال و عبادات میں غرور کے ابھرے ہوئے اثرات کو مٹانے اور تمکنت کے نمایاں ہونے والے آثار کو دبانے کے کیسے کیسے فوائد مضمر ہیں۔ میں نے نگاہ دوڑائی تو دنیا بھر میں ایک فرد کو بھی ایسا نہ پایا کہ وہ کسی چیز کی پاسداری کرتا ہو، مگر یہ کہ اس کی نظروں میں اس کی کوئی وجہ ضرور ہوتی ہے کہ جو جاہلوں کے اشتباہ کا باعث بن جاتی ہے یا کوئی ایسی دلیل ہوتی ہے جو بیوقوفوں کی عقلوں سے چپک جاتی ہے، سوا تمہارے کہ تم ایک چیز کی جنبہ داری تو کرتے ہو مگر اس کی کوئی علت اور وجہ نہیں معلوم ہوتی۔
ابلیس ہی کو لو کہ اس نے آدم علیہ السلام کے سامنے حمیت و جاہلیت کا مظاہرہ کیا تو اپنی اصل (آگ) کی وجہ سے اور ان پر چوٹ کی تو اپنی خلقت و پیدائش کی بنا پر، چنانچہ اس نے آدم علیہ السلام سے کہا کہ: میں آگ سے بنا ہوں اور تم مٹی سے۔ (یونہی) خوش حال قوموں کے مالدار لوگ اپنی نعمتوں پر اتراتے ہوئے بڑا بول بولے کہ: ’’ہم مال و اولاد میں بڑھے ہوئے ہیں، ہمیں کیونکر عذاب کیا جا سکتا ہے‘‘۔
اب اگر تمہیں فخر ہی کرنا ہے تو اس کی پاکیزگی اخلاق، بلندیٔ کردار اور حسن سیرت پر فخر و ناز کرو کہ جس میں عرب گھرانوں کے با عظمت و بلند ہمت سردارانِ قوم اپنی خوش اطواریوں، بلند پایہ دانائیوں، اعلیٰ مرتبوں اور پسندیدہ کارناموں کی وجہ سے ایک دوسرے پر برتری ثابت کرتے تھے۔ تم بھی ان قابل ستائش خصلتوں کی طرفداری کرو، جیسے ہمسایوں کے حقوق کی حفاظت کرنا، عہد و پیمان کو نبھانا، نیکوں کی اطاعت اور سرکشوں کی مخالفت کرنا، حسن سلوک کا پابند اور ظلم و تعدی سے کنارہ کش رہنا، خونریزی سے پناہ مانگنا، خلق خدا سے عدل و انصاف برتنا، غصہ کو پی جانا، زمین میں شر انگیزی سے دامن بچانا۔
تمہیں ان عذابوں سے ڈرنا چاہیے جو تم سے پہلی اُمتوں پر ان کی بد اعمالیوں اور بد کرداریوں کی وجہ سے نازل ہوئے اور (اپنے) اچھے اور برے حالات میں ان کے احوال و واردات کو پیش نظر رکھو اور اس امر سے خائف و ترساں رہو کہ کہیں تم بھی انہی کے ایسے نہ ہو جاؤ۔ [۴]
اگر تم نے ان کی دونوں (اچھی بری) حالتوں پر غور کر لیا ہے تو پھر ہر اس چیز کی پابندی کرو کہ جس کی وجہ سے عزت و برتری نے ہر حال میں ان کا ساتھ دیا اور دشمن ان سے دور دور رہے اور عیش و سکون کے دامن ان پر پھیل گئے اور نعمتیں سرنگوں ہو کر ان کے ساتھ ہو لیں اور عزت و سرفرازی نے اپنے بندھن ان سے جوڑ لئے۔ (وہ کیا چیزیں تھیں؟) یہ کہ وہ افتراق سے بچے اور اتفاق و یکجہتی پر قائم رہے، اسی پر ایک دوسرے کو ابھارتے تھے او راسی کی باہم سفارش کرتے تھے۔
اور تم ہر اس امر سے بچ کر رہو کہ جس نے ان کی ریڑھ کی ہڈی کو توڑ ڈالا اور قوت و توانائی کو ضعف سے بدل دیا، (اور وہ یہ تھا) کہ انہوں نے دلوں میں کینہ اور سینوں میں بغض رکھا، ایک دوسرے کی مدد سے پیٹھ پھرا لی اور باہمی تعاون سے ہاتھ اٹھا لیا۔
اور تم کو لازم ہے کہ گزشتہ زمانہ کے اہل ایمان کے وقائع و حالات میں غور و فکر کرو کہ (صبر آزما) ابتلاؤں اور (جانکاہ) مصیبتوں میں ان کی کیا حالت تھی، کیا وہ ساری کائنات سے زیادہ گرانبار، تمام لوگوں سے زائد مبتلائے تعب و مشقت اور دنیا جہان سے زیادہ تنگی و ضیق کے عالم میں نہ تھے؟ کہ جنہیں دنیا کے فرعونوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور انہیں سخت سے سخت اذیتیں پہنچاتے اور تلخیوں کے گھونٹ پلاتے تھے اور ان کی یہ حالت ہو گئی تھی کہ وہ تباہی و ہلاکت کی ذلتوں اور غلبہ و تسلط کی قہر سامانیوں میں گھرتے چلے جا رہے تھے۔ نہ انہیں بچاؤ کی کوئی تدبیر اور نہ روک تھام کا کوئی ذریعہ سو جھتا تھا۔ یہاں تک کہ جب اللہ سبحانہ نے یہ دیکھا کہ یہ میری محبت میں اذیتوں پر پوری کد و کاوش سے صبر کئے جا رہے ہیں اور میرے خوف (کے خیال) سے مصیبتوں کو جھیل رہے ہیں تو ان کیلئے مصیبت و ابتلا کی تنگنائے سے وسعت کی راہیں نکالیں اور ان کی ذلت کو عزت اور خوف و ہراس کو امن سے بدل دیا۔ چنانچہ وہ تخت ِ فرمانروائی پر سلطان اور مسند ِ ہدایت پر رہنما ہوئے اور انہیں امیدوں سے بڑھ چڑھ کر اللہ کی طرف سے عزت و سرفرازی حاصل ہوئی۔
غور کرو! کہ جب ان کی جمعیتیں یکجا، خیالات یکسو اور دل یکساں تھے اور ان کے ہاتھ ایک دوسرے کو سہارا دیتے اور تلواریں ایک دوسرے کی معین و مددگار تھیں اور ان کی بصیرتیں تیز اور ارادے متحد تھے تو اس وقت ان کا عالم کیا تھا؟ کیا وہ اطراف زمین میں فرمانروا اور دنیا والوں کی گردنوں پر حکمران نہ تھے؟
اور تصویر کا یہ رخ بھی دیکھو کہ جب ان میں پھوٹ پڑ گئی، یکجہتی درہم و برہم ہو گئی، ان کی باتوں اور دلوں میں اختلافات کے شاخسانے پھوٹ نکلے اور وہ مختلف ٹولیوں میں بٹ گئے اور الگ الگ جتھے بن کر ایک دوسرے سے لڑنے بھڑنے لگے تو ان کی نوبت یہ ہو گئی کہ اللہ نے ان سے عزت و بزرگی کا پیراہن اتار لیا اور نعمتوں کی آسائشیں ان سے چھین لیں اور تمہارے درمیان ان کے واقعات کی حکایتیں عبرت حاصل کرنے والوں کیلئے عبرت بن کر رہ گئیں۔
(اب ذرا) اسماعیل علیہ السلام کی اولاد، اسحاق علیہ السلام کے فرزندوں اور یعقوب علیہ السلام کے بیٹوں کے حالات سے عبرت و نصیحت حاصل کرو۔ حالات کتنے ملتے ہوئے ہیں اور طور طریقے کتنے یکساں ہیں۔ان کے منتشر و پراگندہ ہو جانے کی صورت میں جو واقعات رونما ہوئے، ان میں فکر و تامل کرو کہ جب شاہانِ عجم اور سلاطین روم ان پر حکمران تھے، وہ انہیں اطراف عالم کے سبزہ زاروں، عراق کے دریاؤں اور دنیا کی شادابیوں سے خار دار جھاڑیوں، ہواؤں کی بے روگ گزر گاہوں اور معیشت کی دشواریوں کی طرف دھکیل دیتے تھے اور آخر انہیں فقیر و نادار اور زخمی پیٹھ والے اونٹوں کا چرواہا اور بالوں کی جھونپڑیوں کا باشندہ بنا کر چھوڑتے تھے۔ ان کے گھر بار دنیا جہان سے بڑھ کر خستہ و خراب اور ان کے ٹھکانے خشک سالیوں سے تباہ حال تھے، نہ ان کی کوئی آواز تھی جس کے پرو بال کا سہارا لیں،نہ انس و محبت کی چھاؤں تھی جس کے بل بوتے پر بھروسا کریں، ان کے حالات پراگندہ، ہاتھ الگ الگ تھے، کثرت و جمعیت بٹی ہوئی، جانگداز مصیبتوں اور جہالت کی تہ بہ تہ تہوں میں پڑے ہوئے تھے، یوں کہ لڑکیاں زندہ درگور تھیں، (گھر گھر) مورتی پوجا ہوتی تھی، رشتے ناتے توڑے جا چکے تھے اور لوٹ کھسوٹ کی گرم بازاری تھی۔
دیکھو! کہ اللہ نے ان پر کتنے احسانات کئے کہ ان میں اپنا رسول بھیجا کہ جس نے اپنی اطاعت کا انہیں پابند بنایا اور انہیں ایک مرکز ِوحدت پر جمع کر دیا اور کیونکر خوشحالی نے اپنے پر و بال ان پر پھیلا دیئے اور ان کیلئے بخشش و فیضان کی نہریں بہا دیں اور شریعت نے انہیں اپنی برکت کے بے بہا فائدوں میں لپیٹ لیا، چنانچہ وہ اس کی نعمتوں میں شرابور اور اس کی زندگی کی تر و تازگیوں میں خوشحال اور ایک مسلط فرمانروا (اسلام) کے زیر سایہ ان (کی زندگی) کے تمام شعبے (نظم و ترتیب سے) قائم ہو گئے اور ان کے حالات (کی درستگی) نے انہیں غلبہ و بزرگی کے پہلو میں جگہ دی اور ایک مضبوط سلطنت کی سر بلند چوٹیوں میں (دین و دنیا کی) سعادتیں ان پر جھک پڑیں۔ وہ تمام جہان پر حکمران اور زمین کی پہنائیوں میں تخت و تاج کے مالک بن گئے اور جن پابندیوں کی بنا پر دوسروں کے زیر دست تھے، اب یہ انہیں پابند بنا کر ان پر مسلّط ہو گئے اور جن کے زیر ِ فرمان تھے ان کے فرمانروا بن گئے۔ نہ ان کا دم خم ہی نکالا جا سکتا ہے اور نہ ہی ان کا کس بل توڑا جا سکتا ہے۔
دیکھو! تم نے اطاعت کے بندھنوں سے اپنے ہاتھوں کو چھڑا لیا اور زمانۂ جاہلیت کے طور طریقوں سے اپنے گرد کھچے ہوئے حصار میں رخنہ ڈال دیا۔ خداوند عالم نے اس اُمت کے لوگوں پر اس نعمت بے بہا کے ذریعہ سے لطف و احسان فرمایا ہے کہ جس کی قدر و قیمت کو مخلوقات میں سے کوئی نہیں پہچانتا، کیونکہ وہ ہر (ٹھہرائی ہوئی) قیمت سے گراں تر اور ہر شرف و بلندی سے بالاتر ہے اور وہ یہ کہ ان کے درمیان انس و یکجہتی کا رابطہ (اسلام) قائم کیا کہ جس کے سایہ میں وہ منزل کرتے ہیں اور جس کے کنار (عاطفت) میں پناہ لیتے ہیں۔
یہ جانے رہو کہ تم (جہالت و نادانی) کو خیر باد کہہ دینے کے بعد پھر صحرائی بد و اور باہمی دوستی کی بعد پھر مختلف گروہوں میں بٹ گئے ہو، اسلام سے تمہارا واسطہ نام کو رہ گیا ہے اور ایمان سے چند ظاہری لکیروں کے علاوہ تمہیں کچھ سجھائی نہیں دیتا۔ تمہارا قول یہ ہے کہ: آگ میں کود پڑیں گے مگر عار قبول نہ کریں گے۔ گویا تم یہ چاہتے ہو کہ اسلام کی ہتک حرمت اور اس کا عہد توڑ کر اسے منہ کے بَل اوندھا کر دو، وہ عہد کہ جسے اللہ نے زمین میں پناہ اور مخلوقات میں امن قرار دیا ہے۔
(یاد رکھو!کہ ) اگر تم نے اسلام کے علاوہ کہیں اور کا رخ کیا تو کفار تم سے جنگ کیلئے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ پھر نہ جبرئیلؑ و میکائیلؑ ہیں اور نہ انصار و مہاجر ہیں کہ تمہاری مدد کریں، سوا اس کے کہ تلواروں کو کھٹکھٹاؤ، یہاں تک کہ اللہ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے۔ خدا کا سخت عذاب، جھنجھوڑنے والا عقاب، ابتلاؤں کے دن اور تعزیر و ہلاکت کے حادثے تمہارے سامنے ہیں۔ اس کی گرفت سے انجان بن کر اور اس کی پکڑ کو آسان سمجھ کر اور اس کی سختی سے غافل ہو کر اس کے قہر و عذاب کو دور نہ سمجھو۔ خداوند عالم نے گزشتہ اُمتوں کو محض اس لئے اپنی رحمت سے دور رکھا کہ وہ اچھائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے سے منہ موڑ چکے تھے۔ چنانچہ اللہ نے بے وقوفوں پر ارتکاب گناہ کی وجہ سے اور دانشمندوں پر خطاؤں سے باز نہ آنے کے سبب سے لعنت کی ہے۔
دیکھو! تم نے اسلام کی پابندیاں توڑ دیں اور اس کی حدیں بیکار کر دیں اور اس کے احکام سرے سے ختم کر دیئے۔
معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ نے مجھے باغیوں، عہد شکنوں اور زمین میں فساد پھیلانے والوں سے جہاد کا حکم دیا۔ چنانچہ میں نے عہد شکنوں (اصحاب جمل)سے جنگ کی، نافرمانوں (اہل صفین ) سے جہاد کیا اور بے دینوں (خوارج نہروان ) کو بھی پوری طرح ذلیل کرکے چھوڑا۔ مگر گڑھے [۵] (میں گر کر مرنے) والا شیطان، میرے لئے اس کی مہم سر ہو گئی، ایک ایسی چنگھاڑ کے ساتھ کہ جس میں اس کے دل کی دھڑکن اور سینے کی تھرتھری کی آواز میرے کانوں میں پہنچ رہی تھی۔ اب باغیوں میں سے کچھ رہے سہے باقی رہ گئے ہیں، اگر اللہ نے پھر مجھے ان پر دھاوا بولنے کی اجازت دی تو میں انہیں تہس نہس کر کے دولت و سلطنت کا رخ دوسری طرف موڑ دوں گا۔ (پھر) وہی لوگ بچ سکیں گے جو مختلف شہروں کی دور و دراز حدوں میں تتر بتر ہوچکے ہوں گے۔ میں نے تو بچپن ہی میں عرب کا سینہ پیوند زمین کر دیا تھا اور قبیلہ ربیعہ و مضر کے ابھرے ہوئے سینگوں کو توڑ دیا تھا۔
تم جانتے ہی ہو کہ رسول اللہ ﷺ سے قریب کی عزیز داری اور مخصوص قدر و منزلت کی وجہ سے میرا مقام ان کے نزدیک کیا تھا۔ میں بچہ ہی تھا کہ رسول ﷺ نے مجھے گود میں لے لیا تھا، اپنے سینے سے چمٹائے رکھتے تھے، بستر میں اپنے پہلو میں جگہ دیتے تھے، اپنے جسم مبارک کو مجھ سے مس کرتے تھے اور اپنی خوشبو مجھے سنگھاتے تھے۔ پہلے آپؐ کسی چیز کو چباتے پھر اس کے لقمے بنا کر میرے منہ میں دیتے تھے۔ انہوں نے نہ تو میری کسی بات میں جھوٹ کا شائبہ پایا نہ میرے کسی کام میں لغزش و کمزوری دیکھی۔
اللہ نے آپؐ کی دودھ بڑھائی کے وقت ہی سے فرشتوں میں سے ایک عظیم المرتبت ملک (روح القدس) کو آپؐ کے ساتھ لگا دیا تھا جو انہیں شب و روز بزرگ خصلتوں اور پاکیزہ سیرتوں کی راہ پر لے چلتا تھا اور میں ان کے پیچھے پیچھے یوں لگا رہتا تھا جیسے اونٹنی کا بچہ اپنی ماں کے پیچھے۔ آپؐ ہر روز میرے لئے اخلاق حسنہ کے پرچم بلند کرتے تھے اور مجھے ان کی پیروی کا حکم دیتے تھے اور ہر سال (کوہ)حرا میں کچھ عرصہ قیام فرماتے تھے اور وہاں میرے علاوہ کوئی انہیں نہیں دیکھتا تھا۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ اور (اُمّ المومنین) خدیجہؑ کے گھر کے علاوہ کسی گھر کی چار دیواری میں اسلام نہ تھا البتہ تیسرا ان میں مَیں تھا۔ میں وحی و رسالت کا نور دیکھتا تھا اور نبوت کی خوشبو سو نگھتا تھا۔
جب آپؐ پر (پہلے پہل) وحی نازل ہوئی تو میں نے شیطان کی ایک چیخ سنی جس پر میں نے پوچھا کہ: یا رسول اللہؐ! یہ آواز کیسی ہے؟ آپؐ نے فرمایا کہ: «یہ شیطان ہے کہ جو اپنے پوجے جانے سے مایوس ہو گیا ہے۔ (اے علیؑ!) جو میں سنتا ہوں تم بھی سنتے ہو اور جو میں دیکھتا ہوں تم بھی دیکھتے ہو، فرق اتنا ہے کہ تم نبی نہیں ہو بلکہ (میرے) وزیر و جانشین ہو اور یقیناً بھلائی کی راہ پر ہو»۔
میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا کہ قریش کی ایک جماعت آپؐ کے پاس آئی اور انہوں نے آپؐ سے کہا کہ: اے محمدؐ! آپؐ نے ایک بہت بڑا دعویٰ کیا ہے۔ ایسا دعویٰ نہ تو آپؐ کے باپ دادا نے کیا نہ آپؐ کے خاندان والوں میں سے کسی اور نے کیا۔ ہم آپؐ سے ایک امر کا مطالبہ کرتے ہیں، اگر آپؐ نے اسے پورا کر کے ہمیں دکھلا دیا تو پھر ہم بھی یقین کر لیں گے کہ آپؐ نبی و رسول ہیں اور اگر نہ کر سکے تو ہم جان لیں گے کہ (معاذ اللہ!) آپؐ جادوگر اور جھوٹے ہیں۔ حضرتؐ نے فرمایا کہ: «وہ تمہارا مطالبہ ہے کیا»؟ انہوں نے کہا کہ آپؐ ہمارے لئے اس درخت کو پکاریں کہ یہ جڑ سمیت اکھڑ آئے اور آپؐ کے سامنے آ کر ٹھہر جائے۔
آپؐ نے فرمایا کہ: «بلاشبہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اگر اس نے تمہارے لئے ایسا کر دکھایا تو کیا تم ایمان لے آؤ گے اور حق کی گواہی دو گے»؟ انہوں نے کہا کہ: ہاں! آپؐ نے فرمایا کہ: «اچھا! جو تم چاہتے ہو تمہیں دکھائے دیتا ہوں اور میں یہ اچھی طرح جانتا ہوں کہ تم بھلائی کی طرف پلٹنے والے نہیں ہو۔ یقیناً تم میں کچھ لوگ تو وہ ہیں جنہیں چاہ (بدر) میں جھونک دیا جائے گا اور کچھ وہ ہیں جو (جنگ) احزاب میں جتھا بندی کریں گے»۔
پھر آپؐ نے فرمایا کہ: «اے درخت! اگر تو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اور یہ یقین رکھتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو اپنی جڑ سمیت اُکھڑ آ، یہاں تک کہ تو بحکم خدا میرے سامنے آ کر ٹھہر جائے»۔ (رسول ﷺ کا یہ فرمانا تھا کہ) اس ذات کی قسم جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا! وہ درخت جڑ سمیت اکھڑ آیا اور اس طرح آیا کہ اس سے سخت کھڑکھڑاہٹ اور پرندوں کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ کی سی آواز آتی تھی، یہاں تک کہ وہ لچکتا جھومتا ہوا رسول اللہ ﷺ کے رو برو آ کر ٹھہر گیا اور بلند شاخیں ان پر اور کچھ شاخیں میرے کندھے پر ڈال دیں اور میں آپؐ کی دائیں جانب کھڑا تھا۔
جب قریش نے یہ دیکھا تو نخوت و غرور سے کہنے لگے کہ اسے حکم دیں کہ آدھا آپؐ کے پاس آئے اور آدھا اپنی جگہ پر رہے۔ چنانچہ آپؐ نے اسے یہی حکم دیا تو اس کا آدھا حصہ آپؐ کی طرف بڑھ آیا، اس طرح کہ اس کا آنا (پہلے آنے سے بھی) زیادہ عجیب صورت سے اور زیادہ تیز آواز کے ساتھ تھا اور اب کے قریب تھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے لپٹ جائے۔ اب انہوں نے کفر و سرکشی سے کہا کہ: اچھا اب اس آدھے کو حکم دیجیے کہ یہ اپنے دوسرے حصے کے پاس پلٹ جائے جس طرح پہلے تھا۔ چنانچہ آپؐ نے حکم دیا اور وہ پلٹ گیا۔ میں نے (یہ دیکھ کر) کہا کہ: لاالہ الا اللہ، اے اللہ کے رسولؐ! میں آپؐ پر سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں اور سب سے پہلے اس کا اقرار کرنے والا ہوں کہ اس درخت نے بحکم خدا آپؐ کی نبوت کی تصدیق اور آپؐ کے کلام کی عظمت و برتری دکھانے کیلئے جو کچھ کیا ہے وہ امر واقعی ہے (کوئی آنکھ کا پھیر نہیں)۔
یہ سن کر وہ ساری قوم کہنے لگی کہ: یہ (پناہ بخدا!) پرلے درجے کے جھوٹے اور جادوگر ہیں، ان کا سحر عجیب و غریب ہے اور ہیں بھی اس میں چابک دست، اس امر پر آپؐ کی تصدیق ان جیسے ہی کر سکتے ہیں اور اس سے مجھے مراد لیا۔
(جو چاہیں کہیں) میں تو اس جماعت میں سے ہوں کہ جن پر اللہ کے بارے میں کوئی ملامت اثر انداز نہیں ہوتی۔ وہ جماعت ایسی ہے جن کے چہرے سچوں کی تصویر اور جن کا کلام نیکوں کے کلام کا آئینہ دار ہے، وہ شب زندہ دار، دن کے روشن مینار اور خدا کی رسی سے وابستہ ہیں۔ یہ لوگ اللہ کے فرمانوں اور پیغمبر ﷺ کی سنتوں کو زندگی بخشتے ہیں، نہ سر بلندی دکھاتے ہیں، نہ خیانت کرتے ہیں اور نہ فساد پھیلاتے ہیں۔ ان کے دل جنت میں اٹکے ہوئے اور جسم اعمال میں لگے ہوئے ہیں۔