خطبہ خطبہ : 230

خطبہ (230) : جب جعدہ ابن ہبیرہ خطبہ نہ دے سکے تو فرمایا (230- جب جعدہ ابن ہبیرہ خطبہ نہ دے سکے تو فرمایا)

خطبہ (۲۳۰)
معلوم ہونا چاہیے کہ زبان انسان (کے بدن) کا ایک ٹکڑا ہے۔ جب انسان (کا ذہن) رک جائے تو پھر کلام اس کا ساتھ نہیں دیا کرتا اور جب اس کی (معلومات میں) وسعت ہو تو پھر کلام زبان کو رکنے کی مہلت نہیں دیا کرتا اور ہم (اہلبیتؑ) اقلیم سخن کے فرمانروا ہیں۔ وہ ہمارے رگ و پے میں سمایا ہوا ہے اور اس کی شاخیں ہم پر جھکی ہوئی ہیں۔ [۱]
خدا تم پر رحم کرے! اس بات کو جان لو کہ تم ایسے دور میں ہو جس میں حق گو کم، زبانیں صدق بیانی سے کند اور حق والے ذلیل و خوار ہیں۔ یہ لوگ گناہ و نافرمانی پر جمے ہوئے ہیں اور ظاہر داری و نفاق کی بنا پر ایک دوسرے سے صلح و صفائی رکھتے ہیں۔ ان کے جوان بدخو، ان کے بوڑھے گنہگار، ان کے عالم منافق اور ان کے واعظ چاپلوس ہیں۔ نہ چھوٹے بڑوں کی تعظیم کرتے ہیں اور نہ مالدار فقیر و بے نوا کی دستگیری کرتے ہیں۔