خطبہ خطبہ : 231

خطبہ (231) : لوگوں کے اختلاف صورت و سیرت (231- لوگوں کے اختلاف صورت و سیرت کی وجوہ و اسباب)

خطبہ (۲۳۱)
ذعلب یمانی نے احمد ابنِ قتیبہ سے اور اُس نے عبد اللہ ابنِ یزید سے اور انہوں نے مالک ابن دحیہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ: ہم امیر المومنین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھے کہ لوگوں کے اختلاف (صورت و سیرت) کا ذکر چھڑا تو آپؑ نے فرمایا:
ان [۱] کے مبدء طینت نے ان میں تفریق پیدا کر دی ہے اور یہ اس طرح کہ وہ شورہ زار و شیریں زمین اور سخت و نرم مٹی سے پیدا ہوئے ہیں، لہٰذا وہ زمین کے قرب کے اعتبار سے متفق ہوتے اور اختلاف کے تناسب سے مختلف ہوتے ہیں۔ (اس پر کبھی ایسا ہوتا ہے کہ) پورا خوش شکل انسان عقل میں ناقص اور بلند قامت آدمی پست ہمت ہو جاتا ہے اور نیکوکار بدصورت اور کوتاہ قامت دور اندیش ہوتا ہے اور طبعاً نیک سرشت کسی بری عادت کو پیچھے لگا لیتا ہے اور پریشان دل والا پراگندہ عقل اور چلتی ہوئی زبان والا ہوشمند دل رکھتا ہے۔