خطبہ خطبہ : 44

خطبہ (44) : (جب ۱مصقلہ بن، مبیرہ شیبانی معاویہ کے پاس بھاگ گیا ) (44- جب مصقلہ ابن ہبیرہ معاویہ کے پاس بھاگ گیا تو آپؑ نے فرمایا)

خطبہ (۴۴)
جب [۱] مصقلہ بن ہبیرہ شیبانی معاویہ کے پاس بھاگ گیا۔ چونکہ اس نے حضرتؑ کے ایک عامل سے بنی ناجیہ کے کچھ اسیر خریدے تھے۔ جب امیر المومنین علیہ السلام نے اس سے قیمت کا مطالبہ کیا تو وہ بددیانتی کرتے ہوئے شام چلا گیا، جس پر آپؑ نے فرمایا:
خدا مصقلہ کا بُرا کرے! کام تو اس نے شریفوں کا سا کیا، لیکن غلاموں کی طرح بھاگ نکلا۔ اس نے مدح کرنے والے کا منہ بولنے سے پہلے ہی بند کر دیا اور توصیف کرنے والے کے قول کے مطابق اپنا عمل پیش کرنے سے پہلے ہی اسے خاموش کر دیا۔ اگر وہ ٹھہرا رہتا تو ہم اس سے اتنا لے لیتے جتنا اس کیلئے ممکن ہوتا اور بقیہ کیلئے اس کے مال کے زیادہ ہونے کا انتظار کرتے۔