مکتوب (۳۸)
اہل مصر کے نام جبکہ مالک اشتر کو وہاں کا حاکم بنایا
خدا کے بندے علی امیر المومنین علیہ السلام کی طرف سے ان لوگوں کے نام جو اللہ کیلئے غضبناک ہوئے، اس وقت جب زمین میں اللہ کی نافرمانی اور اس کے حق کی بربادی ہو رہی تھی اور ظلم نے اپنے شامیانے ہر اچھے برے، مقامی اور پردیسی پر تان رکھے تھے، نہ نیکی کا چلن تھا اور نہ برائی سے بچا جاتا تھا۔
تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ میں نے اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ تمہاری طرف بھیجا ہے جو خطرے کے دنوں میں سوتا نہیں، اور خوف کی گھڑیوں میں دشمن سے ہراساں نہیں ہوتا اور فاجروں کیلئے جلانے والی آگ سے بھی زیادہ سخت ہے۔ وہ مالک بن حارث مذحجی ہیں۔
ان کی بات کو سنو اور ان کے ہر اس حکم کو جو حق کے مطابق ہو مانو، کیونکہ وہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں کہ جس کی نہ دھار کند ہوتی ہے اور نہ اس کا وار خالی جاتا ہے۔ اگر وہ تمہیں دشمنوں کی طرف بڑھنے کیلئے کہیں تو بڑھو اور ٹھہرنے کیلئے کہیں تو ٹھہرے رہو، کیونکہ وہ میرے حکم کے بغیر نہ آگے بڑھیں گے، نہ پیچھے ہٹیں گے، نہ کسی کو پیچھے ہٹاتے ہیں اور نہ آگے بڑھاتے ہیں۔ میں نے ان کے بارے میں تمہیں خود اپنے اوپر ترجیح دی ہے۔ اس خیال سے کہ تمہارے خیرخواہ اور دشمنوں کیلئے سخت گیر ثابت ہوں گے۔
