حکمت

483 اندراجات
حکمت (392) :  بات کرو ،تاکہ پہچانے جاؤ کیونکہ آدمی اپنی زبان کے نیچے پوشیدہ ہے۔ (392- تامرد سخن نگفتہ باشد) حکمت حکمت 392

حکمت (392) : بات کرو ،تاکہ پہچانے جاؤ کیونکہ آدمی اپنی زبان کے نیچے پوشیدہ ہے۔ (392- تامرد سخن نگفتہ باشد)

بات کرو ،تاکہ پہچانے جاؤ کیونکہ آدمی اپنی زبان کے نیچے پوشیدہ ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (408) :  جو حق سے ٹکرائے گا،حق اسے پچھاڑ دے گا۔ (408- حق سے ٹکراؤ) حکمت حکمت 408

حکمت (408) : جو حق سے ٹکرائے گا،حق اسے پچھاڑ دے گا۔ (408- حق سے ٹکراؤ)

جو حق سے ٹکرائے گا،حق اسے پچھاڑ دے گا۔

مزید پڑھیے
حکمت (393) :  جو دنیا سے تمہیں حاصل ہوا اسے لے لو اور جو چیز رخ پھیر لے اس سے منہ موڑ ے رہو۔اور اگر ایسا نہ کر سکو تو پھر تحصیل و طلب میں میانہ روی اختیار کرو۔ (393- طلب دنیا) حکمت حکمت 393

حکمت (393) : جو دنیا سے تمہیں حاصل ہوا اسے لے لو اور جو چیز رخ پھیر لے اس سے منہ موڑ ے رہو۔اور اگر ایسا نہ کر سکو تو پھر تحصیل و طلب میں میانہ روی اختیار کرو۔ (393- طلب دنیا)

دنیا کی چیزوں کا انتخاب کریں اور جو چیزیں آپ کو روکتی ہیں ان سے دور رہیں۔

مزید پڑھیے
حکمت (409) :  دل آنکھوں کا صحیفہ ہے۔ (409- دل) حکمت حکمت 409

حکمت (409) : دل آنکھوں کا صحیفہ ہے۔ (409- دل)

دل آنکھوں کا صحیفہ ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (378) :  بخل تمام برے عیوب کا مجموعہ ہے اور ایسی مہار ہے جس سے ہر برائی کی طرف کھنچ کر جایا جا سکتا ہے۔ (378- بخل) حکمت حکمت 378

حکمت (378) : بخل تمام برے عیوب کا مجموعہ ہے اور ایسی مہار ہے جس سے ہر برائی کی طرف کھنچ کر جایا جا سکتا ہے۔ (378- بخل)

بخل تمام برے عیوب کا مجموعہ ہے اور ایسی مہار ہے جس سے ہر برائی کی طرف کھنچ کر جایا…

مزید پڑھیے
حکمت (394) :  بہت سے کلمے حملہ سے زیادہ اثر و نفوذ رکھتے ہیں۔ (394- بات کا اثر) حکمت حکمت 394

حکمت (394) : بہت سے کلمے حملہ سے زیادہ اثر و نفوذ رکھتے ہیں۔ (394- بات کا اثر)

بہت سے کلمے حملہ سے زیادہ اثر و نفوذ رکھتے ہیں۔

مزید پڑھیے
حکمت (410) :  تقویٰ تمام خصلتوں کا سرتاج ہے۔ (410- تقویٰ) حکمت حکمت 410

حکمت (410) : تقویٰ تمام خصلتوں کا سرتاج ہے۔ (410- تقویٰ)

تقویٰ تمام خصلتوں کا سرتاج ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (379) :  رزق دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک وہ جس کی تلا ش میں تم ہو، اور ایک وہ جو تمہاری جستجو میں ہے۔ اگر تم اس تک نہ پہنچ سکو گے، تو وہ تم تک پہنچ کر رہے گا۔ لہٰذا اپنے ایک دن کی فکر پر سال بھر کی فکریں نہ لادو۔ جو ہر دن کا رزق ہے وہ تمہارے لیے کافی ہے، تو اللہ ہر نئے دن جو روزی اس نے تمہارے لیے مقرر کر رکھی ہے وہ تمہیں دے گا اور تمہاری عمر کا کوئی سال باقی نہیں ہے تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ کوئی طلبگار تمہارے رزق کی طرف تم سے آگے بڑھ نہیں سکتا اور نہ کوئی غلبہ پانے والا اس میں تم پر غالب آسکتا ہے اور جو تمہارے لیے مقدر ہو چکا ہے اس کے ملنے میں کبھی تاخیر نہ ہو گی۔
(سید رضی فرماتے ہیں کہ) یہ کلام اسی باب میں پہلے بھی درج ہو چکا ہے۔ مگر یہاں کچھ زیادہ وضاحت و تشریح کے ساتھ تھا،اس لیے ہم نے اس کا اعادہ کیا ہے اس قاعدہ کی بناء پر جو کتا ب کے دیباچہ میں گزر چکا ہے۔ (379- رزق وروزی) حکمت حکمت 379

حکمت (379) : رزق دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک وہ جس کی تلا ش میں تم ہو، اور ایک وہ جو تمہاری جستجو میں ہے۔ اگر تم اس تک نہ پہنچ سکو گے، تو وہ تم تک پہنچ کر رہے گا۔ لہٰذا اپنے ایک دن کی فکر پر سال بھر کی فکریں نہ لادو۔ جو ہر دن کا رزق ہے وہ تمہارے لیے کافی ہے، تو اللہ ہر نئے دن جو روزی اس نے تمہارے لیے مقرر کر رکھی ہے وہ تمہیں دے گا اور تمہاری عمر کا کوئی سال باقی نہیں ہے تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ کوئی طلبگار تمہارے رزق کی طرف تم سے آگے بڑھ نہیں سکتا اور نہ کوئی غلبہ پانے والا اس میں تم پر غالب آسکتا ہے اور جو تمہارے لیے مقدر ہو چکا ہے اس کے ملنے میں کبھی تاخیر نہ ہو گی۔ (سید رضی فرماتے ہیں کہ) یہ کلام اسی باب میں پہلے بھی درج ہو چکا ہے۔ مگر یہاں کچھ زیادہ وضاحت و تشریح کے ساتھ تھا،اس لیے ہم نے اس کا اعادہ کیا ہے اس قاعدہ کی بناء پر جو کتا ب کے دیباچہ میں گزر چکا ہے۔ (379- رزق وروزی)

رزق دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک وہ جس کی تلاش میں تم ہو، اور ایک وہ جو تمہاری جستجو…

مزید پڑھیے
حکمت (395) :  جس چیز پر قناعت کر لی جائے و ہ کافی ہے۔ (395- قناعت) حکمت حکمت 395

حکمت (395) : جس چیز پر قناعت کر لی جائے و ہ کافی ہے۔ (395- قناعت)

جس چیز پر قناعت کر لی جائے وہ کافی ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (411) :  جس ذات نے تمہیں بولنا سکھایا ہے اسی کے خلاف اپنی زبان کی تیزی صرف نہ کرو۔اور جس نے تمہیں راہ پر لگا یا ہے اس کے مقابلہ میں فصاحت گُفتار کا مظاہرہ نہ کرو۔ (411- استاد کا احترام) حکمت حکمت 411

حکمت (411) : جس ذات نے تمہیں بولنا سکھایا ہے اسی کے خلاف اپنی زبان کی تیزی صرف نہ کرو۔اور جس نے تمہیں راہ پر لگا یا ہے اس کے مقابلہ میں فصاحت گُفتار کا مظاہرہ نہ کرو۔ (411- استاد کا احترام)

جس ذات نے تمہیں بولنا سکھایا ہے اسی کے خلاف اپنی زبان کی تیزی صرف نہ کرو۔

مزید پڑھیے