حکمت
حکمت
حکمت 399
حکمت (399) : ایک حق فرزند کا باپ پر ہوتا ہے اور ایک حق باپ کا فرزند پر ہوتا ہے۔باپ کا فرزند پر یہ حق ہے کہ وہ سوائے اللہ کی معصیت کے ہر بات میں اس کی اطاعت کرے اور فرزند کا باپ پر یہ حق ہے کہ اس کا نام اچھا تجویز کرے ،اچھے اخلاق و آداب سے آراستہ کرے اور قرآن کی اسے تعلیم دے۔ (399- فرزند و پدر کے حقوق)
ایک حق فرزند کا باپ پر ہوتا ہے اور ایک حق باپ کا فرزند پر ہوتا ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 415
حکمت (415) : دنیا کے متعلق فرمایا دنیا دھوکے باز ،نقصان رساں اور رواں دواں ہے۔اللہ نے اپنے دوستوں کے لیے اسے بطور ثواب پسند نہیں کیا ،اور نہ دشمنوں کے لیے اسے بطور سزا پسند کیا۔اہل دنیا سواروں کے مانند ہیں کہ ابھی انہوں نے منزل کی ہی تھی کہ ہنکانے والے نے انہیں للکارا ،اور چل دیئے۔ (415- دنیا کی حالت)
دنیا دھوکے باز ،نقصان رساں اور رواں دواں ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 384
حکمت (384) : دنیا کی حالت دیکھتے ہوئے اس کی طرف جھکنا جہالت ہے اور حسن عمل کے ثواب کا یقین رکھتے ہوئے اس میں کوتاہی کرنا گھاٹا اٹھانا ہے۔ اور پرکھے بغیر ہر ایک پر بھروسا کر لینا عجز و کمزور ی ہے۔ (384- محل اعتماد)
دنیا کی حالت دیکھتے ہوئے اس کی طرف جھکنا جہالت ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 400
حکمت (400) : چشم بد ،افسوس ،سحر اور فال نیک ان سب میں واقعیت ہے۔البتہ فال بد اور ایک بیماری کا دوسرے کو لگ جانا غلط ہے۔ خوشبو سونگھنا ،شہد کھانا،سواری کرنا اور سبزے پر نظر کرنا غم و اندوہ اور قلق و اضطراب کو دور کرتا ہے۔ (400- با اثر اور بے اثر)
چشم بد ،افسوس ،سحر اور فال نیک ان سب میں واقعیت ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 416
حکمت (416) : اپنے فرزند حسن علیہ السلام سے فرمایا :اے فرزند دنیا کی کوئی چیز اپنے پیچھے نہ چھوڑ و۔اس لیے کہ تم دو میں سے ایک کے لیے چھوڑ و گے۔ایک وہ جو اس مال کو خدا کی اطاعت میں صرف کرے گا تو جو مال تمہارے لیے بدبختی کا سبب بنا وہ اس کے لیے راحت و آرام کا باعث ہو گا۔یاوہ ہو گا جو اسے خدا کی معصیت میں صرف کرے ،تو وہ تمہارے جمع کر دہ مال کی وجہ سے بد بخت ہو گا اور اس صورت میں تم خدا کی معصیت میںاس کے معین و مدد گار ہو گے ،اور ان دونوں میں سے ایک شخص بھی ایسا نہیں کہ اسے اپنے نفس پر ترجیح دو۔ سید رضی فرماتے ہیں کہ یہ کلام ایک دوسری صورت میں بھی روایت کیا گیا ہے جو یہ ہے جو مال تمہارے ہاتھ میں ہے تم سے پہلے اس کے مالک دوسرے تھے۔اور یہ تمہارے بعد دوسروں کی طرف پلٹ جائے گا اور تم میں سے دو میں سے ایک کے لیے جمع کرنے والے ہو۔ایک وہ جو تمہارے جمع کئے ہوئے مال کو خد اکی اطاعت میں صرف کرے گا۔تو جو مال تمہارے لیے بدبختی کا سبب ہوا وہ اس کے لیے سعادت و نیک بختی کا سبب ہو گا وہ جو اس مال سے اللہ کی معصیت کرے تو جو تم نے اس کے لیے جمع کیا وہ تمہارے لیے بد بختی کا سبب ہو گا اور ان دونوں میں سے ایک بھی اس قابل نہیں کہ اسے اپنی پشت کو گرانبار کرو ،جو گزر گیا اس کے لیے اللہ کی رحمت اور جو باقی رہ گیا ہے اس کے لیے رزق الہی کے امیدوار رہو۔ (416- امام حسن ؈ کو ہدایت)
اپنے فرزند حسن علیہ السلام سے فرمایا: اے فرزند دنیا کی کوئی چیز اپنے پیچھے نہ چھوڑ و۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 385
حکمت (385) : اللہ کے نزدیک دنیا کی حقارت کے لیے یہی بہت ہے کہ اللہ کی معصیت ہوتی ہے تو اس میں اور اس کے یہاں کی نعمتیں حاصل ہوتی ہیں تو اسے چھوڑنے سے۔ (385- دنیا)
اللہ کے نزدیک دنیا کی حقارت کے لیے یہی بہت ہے کہ اللہ کی معصیت ہوتی ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 401
حکمت (401) : لوگوں سے ان کے اخلاق و اطوار میں ہمرنگ ہونا ان کے شر سے محفوظ ہو جانا ہے۔ (401- اخلاق میں ہم آہنگی)
لوگوں سے ان کے اخلاق و اطوار میں ہمرنگ ہونا ان کے شر سے محفوظ ہو جانا ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 417
حکمت (417) : ایک کہنے والے نے آپ کے سامنے استغفراللہ کہا۔تو آپ نے اس سے فرمایا۔ تمہاری ماں تمہارا سوگ منائے کچھ معلوم بھی ہے کہ استغفار کیا ہے ؟استغفار بلند منزلت لوگوں کا مقام ہے اور یہ ایک ایسا لفظ ہے جو چھ باتوں پر حاوی ہے۔پہلے کہ جو ہوچکااس پر نادم ہو ،دوسرے ہمیشہ کے لیے اس کے مرتکب نہ ہونے کا تہیا کرنا ،تیسرے یہ کہ مخلوق کے حقوق ادا کرنا یہاں تک کہ اللہ کے حضور میں اس حالت میں پہنچو کہ تمہارا دامن پاک و صاف اور تم پر کوئی مواخذہ نہ ہو۔چوتھے یہ کہ جو فرائض تم پر عائد کئے ہوئے تھے ،اور تم نے انہیں ضائع کر دیا تھا۔انہیں اب پورے طور پر بجا لاؤ۔پانچویں یہ کہ جو گوشت (کل )حرام سے نشو نما پاتا رہا ہے ،اس کو غم و اندوہ سے پگھلاؤ یہاں تک کے کھال کو ہڈیوں سے ملا دو کہ پھرسے ان دونوں کے درمیان نیا گوشت پیدا ہو،چھٹے یہ کہ اپنے جسم کو اطاعت کے رنج سے آشنا کرو۔جس طرح اسے گناہ کی شیرینی سے لذت اندوز کیا ہے۔تو اب کہو »استغفراللہ «۔ (417- استغفار کے معنی)
استغفار بلند منزلت لوگوں کا مقام ہے اور یہ ایک ایسا لفظ ہے جو چھ باتوں پر حاوی ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 386
حکمت (386) : جو شخص کسی چیز کو طلب کرے تو اسے یا اس کے بعض حصہ کو پالے گا۔ (جویندہ یا بندہ ) (386- جویندہ یا بندہ)
جو شخص کسی چیز کو طلب کرے تو اسے یا اس کے بعض حصہ کو پالے گا۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 402
حکمت (402) : ایک ہم کلام ہونے والے سے کہ جس نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر ایک بات کہی تھی ،فرمایا تم پر نکلتے ہی اڑنے لگے اور جوان ہونے سے پہلے بلبلانے لگے۔ (سید رضی فرماتے ہیں کہ )اس فقرہ میں شکیر سے مراد وہ پر ہیں جو پہلے پہل نکلتے ہیں اور ابھی مضبوط و مستحکم نہیں ہونے پاتے ، اور سقب اونٹ کے بچے کو کہتے ہیں اور وہ اس وقت بلبلاتا ہے۔جب جوان ہوتا ہے۔ (402- بے محل گفتگو)
ایک ہم کلام ہونے والے سے کہ جس نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر ایک بات کہی تھی۔
مزید پڑھیے
