حکمت

483 اندراجات
حکمت (330) :  اللہ کا کم سے کم حق جو تم پر عائد ہوتا ہے یہ ہے کہ اس کی نعمتوں سے گناہوں میں مدد نہ لو۔ (330- نعمت کا صرف بے جا) حکمت حکمت 330

حکمت (330) : اللہ کا کم سے کم حق جو تم پر عائد ہوتا ہے یہ ہے کہ اس کی نعمتوں سے گناہوں میں مدد نہ لو۔ (330- نعمت کا صرف بے جا)

اللہ کا کم سے کم حق جو تم پر عائد ہوتا ہے یہ ہے کہ اس کی نعمتوں سے گناہوں…

مزید پڑھیے
حکمت (331) :  جب کاہل اور ناکارہ افراد عمل میں کوتاہی کرتے ہیں تو اللہ کی طرف سے یہ عقلمندوں کے لیے ادائے فرض کا ایک بہترین موقع ہوتا ہے۔ (331- ادائے فرض کا موقعہ) حکمت حکمت 331

حکمت (331) : جب کاہل اور ناکارہ افراد عمل میں کوتاہی کرتے ہیں تو اللہ کی طرف سے یہ عقلمندوں کے لیے ادائے فرض کا ایک بہترین موقع ہوتا ہے۔ (331- ادائے فرض کا موقعہ)

کاہل اور ناکارہ افراد کی کوتاہی سے عقلمندوں کے لیے ادائے فرض کا موقع ملتا ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (332) :  حکام اللہ کی سر زمین میں اس کے پاسبان ہیں۔ (332- بادشاہ کی حیثیت) حکمت حکمت 332

حکمت (332) : حکام اللہ کی سر زمین میں اس کے پاسبان ہیں۔ (332- بادشاہ کی حیثیت)

حکام اللہ کی سر زمین میں اس کے پاسبان ہیں۔

مزید پڑھیے
حکمت (287) :  آپ سے قضا و قدر کے متعلق پوچھا گیا تو آپ علیہ السّلام نے فرمایا ! یہ ایک تاریک راستہ ہے اس میں قدم نہ اٹھاؤ۔ایک گہرا سمندر ہے۔ اس میں نہ اترو اللہ کا ایک راز ہے اسے جاننے کی زحمت نہ اٹھاؤ۔ (287- قضا ا ور قدر) حکمت حکمت 287

حکمت (287) : آپ سے قضا و قدر کے متعلق پوچھا گیا تو آپ علیہ السّلام نے فرمایا ! یہ ایک تاریک راستہ ہے اس میں قدم نہ اٹھاؤ۔ایک گہرا سمندر ہے۔ اس میں نہ اترو اللہ کا ایک راز ہے اسے جاننے کی زحمت نہ اٹھاؤ۔ (287- قضا ا ور قدر)

آپ سے قضا و قدر کے متعلق پوچھا گیا تو آپ علیہ السّلام نے فرمایا ! یہ ایک تاریک راستہ…

مزید پڑھیے
حکمت (302) :  ایسا شخص جو سختی و مصیبت میں مبتلا ہو۔ جتنا محتاج دعا ہے، اس سے کم وہ خیر و عافیت سے ہے۔ مگر اندیشہ ہے کہ نہ جانے کب مصیبت آ جائے۔ (302- محتاجِ دعا) حکمت حکمت 302

حکمت (302) : ایسا شخص جو سختی و مصیبت میں مبتلا ہو۔ جتنا محتاج دعا ہے، اس سے کم وہ خیر و عافیت سے ہے۔ مگر اندیشہ ہے کہ نہ جانے کب مصیبت آ جائے۔ (302- محتاجِ دعا)

ایسا شخص جو سختی و مصیبت میں مبتلا ہو۔ جتنا محتاج دعا ہے، اس سے کم وہ خیر و عافیت…

مزید پڑھیے
حکمت (318) :  حضرت سے کہا گیا کہ آپ کس وجہ سے اپنے حریفوں پر غالب آتے رہے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ میں جس شخص کا بھی مقابلہ کر تا تھا وہ اپنے خلاف میری مدد کرتا تھا۔
(سید رضی فرماتے ہیں کہ )حضرت نے اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ آپ کی ہیبت دلوں پر چھا جاتی تھی۔ (318- غلبہ کا سبب) حکمت حکمت 318

حکمت (318) : حضرت سے کہا گیا کہ آپ کس وجہ سے اپنے حریفوں پر غالب آتے رہے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ میں جس شخص کا بھی مقابلہ کر تا تھا وہ اپنے خلاف میری مدد کرتا تھا۔ (سید رضی فرماتے ہیں کہ )حضرت نے اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ آپ کی ہیبت دلوں پر چھا جاتی تھی۔ (318- غلبہ کا سبب)

حضرت سے کہا گیا کہ آپ کس وجہ سے اپنے حریفوں پر غالب آتے رہے ہیں تو آپ نے فرمایا…

مزید پڑھیے
حکمت (288) :  اللہ جس بندے کو ذلیل کرنا چاہتا ہے اسے علم و دانش سے محروم کر دیتا ہے۔ (288- علم سے محرومی) حکمت حکمت 288

حکمت (288) : اللہ جس بندے کو ذلیل کرنا چاہتا ہے اسے علم و دانش سے محروم کر دیتا ہے۔ (288- علم سے محرومی)

اللہ جس بندے کو ذلیل کرنا چاہتا ہے اسے علم و دانش سے محروم کر دیتا ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (303) :  لوگ اسی دنیا کی اولاد ہیں اور کسی شخص کو اپنی ماں کی محبت پر لعنت ملامت نہیں کی جا سکتی۔ (303- ابنائے دنیا) حکمت حکمت 303

حکمت (303) : لوگ اسی دنیا کی اولاد ہیں اور کسی شخص کو اپنی ماں کی محبت پر لعنت ملامت نہیں کی جا سکتی۔ (303- ابنائے دنیا)

لوگ اسی دنیا کی اولاد ہیں اور کسی شخص کو اپنی ماں کی محبت پر لعنت ملامت نہیں کی جا…

مزید پڑھیے
حکمت (289) :  عہد ماضی میں میرا ایک دینی بھائی تھا اور وہ میری نظروں میں اس وجہ سے با عزت تھا کہ دنیااس کی نظروں میں پست و حقیر تھی۔ اس پر پیٹ کے تقاضے مسلط نہ تھے۔ لہٰذا جو چیز اُسے میسر نہ تھی اس کی خواہش نہ کرتا تھا اور جو چیز میسر تھی اسے ضرورت سے زیادہ صرف میں نہ لاتا تھا۔ وہ اکثر اوقات خاموش رہتا تھا اور اگر بولتا تھا تو بولنے والوں کو چپ کرا دیتا تھا اور سوال کرنے والوں کی پیاس بجھا دیتا تھا۔ یوں تو وہ عاجز و کمزور تھا، مگر جہاد کا موقع آ جائے تو وہ شیر بیشہ اور وادی کا اژدھا تھا۔ وہ جو دلیل و برہان پیش کرتا تھا، وہ فیصلہ کن ہوتی تھی۔ وہ ان چیزوں میں کہ جن میں عذر کی گنجائش ہوتی تھی، کسی کو سرزنش نہ کرتا تھا جب تک کہ اس کے عذر معذرت کو سن نہ لے وہ کسی تکلیف کا ذکر نہ کرتا تھا، مگر اس وقت کہ جب اس سے چھٹکارا پا لیتا تھا، وہ جو کرتا تھا، وہی کہتا تھا اور جو نہیں کرتا تھا وہ اسے کہتا نہیں تھا۔اگر بولنے میں اس پر کبھی غلبہ پا بھی لیا جائے تو خاموشی میں اس پر غلبہ حاصل نہیں کیا جا سکتا تھا۔وہ بولنے سے زیادہ سننے کا خواہشمند رہتا تھا اور جب اچانک اس کے سامنے دو چیزیں آ جاتی تھیں تو دیکھتا تھا کہ ان دونوں میں سے ہوائے نفس کے زیادہ قریب کون ہے تو وہ اس کی مخالفت کرتا تھا۔ لہٰذا تمہیں ان عادات و خصائل کو حاصل کرنا چاہیے اور ان پر عمل پیرا اور ان کا خواہشمند رہنا چاہیے اگر ان تمام کا حاصل کرنا تمہاری قدرت سے باہر ہو تو اس بات کو جانے رہو کہ تھوڑی سی چیز حاصل کرنا پور ے کے چھوڑ دینے سے بہتر ہے۔ (289- ایک دینی بھائی) حکمت حکمت 289

حکمت (289) : عہد ماضی میں میرا ایک دینی بھائی تھا اور وہ میری نظروں میں اس وجہ سے با عزت تھا کہ دنیااس کی نظروں میں پست و حقیر تھی۔ اس پر پیٹ کے تقاضے مسلط نہ تھے۔ لہٰذا جو چیز اُسے میسر نہ تھی اس کی خواہش نہ کرتا تھا اور جو چیز میسر تھی اسے ضرورت سے زیادہ صرف میں نہ لاتا تھا۔ وہ اکثر اوقات خاموش رہتا تھا اور اگر بولتا تھا تو بولنے والوں کو چپ کرا دیتا تھا اور سوال کرنے والوں کی پیاس بجھا دیتا تھا۔ یوں تو وہ عاجز و کمزور تھا، مگر جہاد کا موقع آ جائے تو وہ شیر بیشہ اور وادی کا اژدھا تھا۔ وہ جو دلیل و برہان پیش کرتا تھا، وہ فیصلہ کن ہوتی تھی۔ وہ ان چیزوں میں کہ جن میں عذر کی گنجائش ہوتی تھی، کسی کو سرزنش نہ کرتا تھا جب تک کہ اس کے عذر معذرت کو سن نہ لے وہ کسی تکلیف کا ذکر نہ کرتا تھا، مگر اس وقت کہ جب اس سے چھٹکارا پا لیتا تھا، وہ جو کرتا تھا، وہی کہتا تھا اور جو نہیں کرتا تھا وہ اسے کہتا نہیں تھا۔اگر بولنے میں اس پر کبھی غلبہ پا بھی لیا جائے تو خاموشی میں اس پر غلبہ حاصل نہیں کیا جا سکتا تھا۔وہ بولنے سے زیادہ سننے کا خواہشمند رہتا تھا اور جب اچانک اس کے سامنے دو چیزیں آ جاتی تھیں تو دیکھتا تھا کہ ان دونوں میں سے ہوائے نفس کے زیادہ قریب کون ہے تو وہ اس کی مخالفت کرتا تھا۔ لہٰذا تمہیں ان عادات و خصائل کو حاصل کرنا چاہیے اور ان پر عمل پیرا اور ان کا خواہشمند رہنا چاہیے اگر ان تمام کا حاصل کرنا تمہاری قدرت سے باہر ہو تو اس بات کو جانے رہو کہ تھوڑی سی چیز حاصل کرنا پور ے کے چھوڑ دینے سے بہتر ہے۔ (289- ایک دینی بھائی)

عہد ماضی میں میرا ایک دینی بھائی تھا اور وہ میری نظروں میں اس وجہ سے با عزت تھا کہ…

مزید پڑھیے
حکمت (304) :  غریب و مسکین اللہ کا فرستادہ ہوتا ہے تو جس نے اس سے اپنا ہاتھ روکا اس نے خدا سے ہاتھ روکا اور جس نے اسے کچھ دیا اس نے خدا کو دیا۔ (304- خدا کا فرستادہ) حکمت حکمت 304

حکمت (304) : غریب و مسکین اللہ کا فرستادہ ہوتا ہے تو جس نے اس سے اپنا ہاتھ روکا اس نے خدا سے ہاتھ روکا اور جس نے اسے کچھ دیا اس نے خدا کو دیا۔ (304- خدا کا فرستادہ)

غریب و مسکین اللہ کا فرستادہ ہوتا ہے۔

مزید پڑھیے