حکمت
حکمت
حکمت 286
حکمت (286) : لوگ کسی شے پر »واہ واہ «نہیں کرتے مگر یہ کہ زمانہ اس کے لیے ایک برا دن چھپائے ہوئے ہے۔ (286- بُرا دن)
لوگ کسی شے پر »واہ واہ« نہیں کرتے مگر یہ کہ زمانہ اس کے لیے ایک برا دن چھپائے ہوئے…
حکمت
حکمت 301
حکمت (301) : تمہارا قاصد تمہاری عقل کا ترجمان ہے اور تمہاری طرف سے کامیاب ترین ترجمانی کرنے والا تمہارا خط ہے۔ (301- قاصد)
تمہارا قاصد تمہاری عقل کا ترجمان ہے اور تمہاری طرف سے کامیاب ترین ترجمانی کرنے والا تمہارا خط ہے۔
حکمت
حکمت 317
حکمت (317) : ایک یہودی نے آپ سے کہا کہ ابھی تم لوگوں نے اپنے نبی کو دفن نہیں کیا تھا کہ ان کے بارے میں اختلاف شروع کر دیا۔ حضرت نے فرمایا ہم نے ان کے بارے میں اختلاف نہیں کیا۔ بلکہ ان کے بعد جانشینی کے سلسلہ میں اختلاف ہوا مگر تم تو وہ ہو کہ ابھی دریائے نیل سے نکل کر تمہارے پیر خشک بھی نہ ہوئے تھے کہ اپنے نبی سے کہنے لگے کہ ہمارے لیے بھی ایک ایسا خدا بنا دیجئے جیسے ان لوگوں کے خدا ہیں۔ توموسیٰ علیہ السّلام نے کہا کہ بیشک تم ایک جاہل قوم ہو۔ (317- ایک یہودی)
ایک یہودی نے آپ سے کہا کہ ابھی تم لوگوں نے اپنے نبی کو دفن نہیں کیا تھا کہ ان…
حکمت
حکمت 271
حکمت (271) : روایت کی گئی ہے کہ حضرت کے سامنے دو آدمیوں کو پیش کیا گیا جنہوں نے بیت المال میں چوری کی تھی ایک تو ان میں غلام اور خود بیت المال کی ملکیت تھا، اور دوسرا لوگوں میں سے کسی کی ملکیت میں تھا۔ آپ نے فرمایا کہ »یہ غلام جو بیت المال کا ہے اس پر حد جاری نہیں ہوسکتی کیونکہ اللہ کا مال اللہ کے مال ہی نے کھایا ہے لیکن دوسرے پر حد جاری ہو گی۔ چنانچہ اس کا ہاتھ قطع کر دیا۔ (271- بیت المال کی چوری)
حضرت علی نے چوری کے معاملے میں غلام اور آزاد آدمی کی سزا میں فرق بیان کیا۔
حکمت
حکمت 272
حکمت (272) : اگر ان پھسلنوں سے بچ کر میرے پیر جم گئے تومیں بہت سی چیزوں میں تبدیلی کر دوں گا۔ (272- احکام میں ترمیم)
اگر ان پھسلنوں سے بچ کر میرے پیر جم گئے تو میں بہت سی چیزوں میں تبدیلی کر دوں گا۔
حکمت
حکمت 273
حکمت (273) : پورے یقین کے ساتھ اس امر کو جانے رہو کہ اللہ سبحانہ نے کسی بندے کے لیے چاہے اس کی تدبیریں بہت زبردست اس کی جستجو شدید اور اس کی ترکیبیں طاقت ور ہوں اس سے زائد رزق قرار نہیں دیا جتنا کہ تقدیر الہی میں اس کے لیے مقرر ہوچکا ہے۔ اور کسی بندے کے لیے اس کمزوری و بے چارگی کی وجہ سے لوح محفوظ میں اس کے مقررہ رزق تک پہنچنے میں رکاوٹ نہیں ہوتی۔ اس حقیقت کو سمجھنے والا اور اس پر عمل کر نے والا سود و منفعت کی راحتوں میں سب لوگوں سے بڑھ چڑھ کر ہے اور اسے نظر انداز کرنے اوراس میں شک و شبہ کرنے والا سب لوگوں سے زیادہ زیاں کاری میں مبتلا ہے بہت سے وہ جنہیں نعمتیں ملی ہیں، نعمتوں کی بدولت کم کم عذاب کے نزدیک کئے جا رہے ہیں، اور بہت سوں کے ساتھ فقر فاقہ کے پردہ ہیں اللہ کا لطف و کرم شامل حال ہے لہٰذا اسے سننے والے شکر زیادہ اور جلد بازی کم کر اور جو تیری روزی کی حد ہے اس پر ٹھہرا رہ۔ (273- تقدیر و تدبیر)
پورے یقین کے ساتھ اس امر کو جانے رہو کہ اللہ سبحانہ نے کسی بندے کے لیے اس سے زائد…
حکمت
حکمت 274
حکمت (274) : اپنے علم کو اور اپنے یقین کو شک نہ بناؤ جب جان لیا تو عمل کرو، اور جب یقین پیدا ہو گیا تو آگے بڑھو۔ (274- علم و یقین)
اپنے علم کو اور اپنے یقین کو شک نہ بناؤ جب جان لیا تو عمل کرو۔
حکمت
حکمت 275
حکمت (275) : طمع گھاٹ پر اتارتی ہے مگر سیراب کئے بغیر پلٹا دیتی ہے۔ ذمہ داری کا بوجھ اٹھاتی ہے مگر اسے پورا نہیں کرتی۔ اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ پانی پینے والے کو پینے سے پہلے ہی اچھو ہو جاتا ہے۔ اور جتنی کسی مرغوب و پسندیدہ چیز کی قدر و منزلت زیادہ ہوتی ہے اتنا ہی اسے کھو دینے کا رنج زیادہ ہوتا ہے۔ آرزوئیں دیدہ و بصیرت کو اندھا کر دیتی ہیں اور جو نصیب میں ہوتا ہے پہنچنے کی کوشش کئے بغیر مل جاتا ہے۔ (275- طمع و حرص)
طمع گھاٹ پر اتارتی ہے مگر سیراب کئے بغیر پلٹا دیتی ہے۔
حکمت
حکمت 260
حکمت (260) : کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جنہیں نعمتیں دے کر رفتہ رفتہ عذاب کا مستحق بنایا جاتا ہے اور کتنے ہی لوگ ایسے ہیں کہ جو اللہ کی پردہ پوشی سے دھوکا کھائے ہوئے ہیں اور اپنے بارے میں اچھے الفاظ سن کر فریب میں پڑ گئے اور مہلت دینے سے زیادہ اللہ کی جانب سے کوئی بڑی آزمائش نہیں ہے۔ سید رضی کہتے ہیں کہ یہ کلام پہلے بھی گذر چکا ہے مگر یہاں اس میں کچھ عمدہ اور مفید اضافہ ہے۔ (260- ابتلا و آزمائش)
کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جنہیں نعمتیں دے کر رفتہ رفتہ عذاب کا مستحق بنایا جاتا ہے۔
حکمت
حکمت 276
حکمت (276) : اے اللہ !میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ میرا ظاہر لوگوں کی چشمِ ظاہر بین میں بہتر ہو اور جو اپنے باطن میں چھپائے ہوئے ہوں، وہ تیری نظروں میں برا ہو۔ در آں حالیکہ میں لوگوں کے دکھاوے کے لیے اپنے نفس سے ان چیزوں سے نگہداشت کروں۔ جن سب سے تو آگا ہ ہے۔ اس طرح لوگوں کے سامنے تو ظاہر کے اچھا ہونے کی نمائش کروں اور تیرے سامنے اپنی بداعمالیوں کو پیش کر تا رہوں جس کے نتیجہ میں تیرے بندوں سے تقرب حاصل کروں، اور تیری خوشنودیوں سے دور ہی ہوتا چلا جاؤں۔ (276- ظاہر و باطن)
اے اللہ !میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ میرا ظاہر لوگوں کی چشمِ ظاہر بین میں بہتر…
