حکمت
حکمت
حکمت 223
حکمت (223) : جس پر حیا نے اپنا لباس پہنا دیا ہے اس کے عیب لوگوں کی نظروں کے سامنے نہیں آسکتے۔ (223- شرم و حیا)
جس پر حیا نے اپنا لباس پہنا دیا ہے اس کے عیب لوگوں کی نظروں کے سامنے نہیں آسکتے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 239
حکمت (239) : جو شخص سستی و کاہلی کرتا ہے وہ اپنے حقوق کو ضائع و برباد کر دیتا ہے اور جو چغل خور کی بات پر اعتماد کر تا ہے، وہ دوست کو اپنے ہاتھ سے کھو دیتا ہے۔ (239- تساہل و عیب جوئی)
جو شخص سستی و کاہلی کرتا ہے وہ اپنے حقوق کو ضائع و برباد کر دیتا ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 254
حکمت (254) : اے فرزندِ آدم! اپنے مال میں اپنا وصی خود بن اور جو تو چاہتا ہے کہ تیرے بعد تیرے مال میں سے خیر خیرات کی جائے، وہ خود انجام دے دے۔ (254- اُمور خیر کی وصیت)
اے فرزندِ آدم! اپنے مال میں اپنا وصی خود بن اور خیرات خود انجام دے دے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 208
حکمت (208) : جو شخص اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے وہ فائدہ اٹھاتا ہے اور جو غفلت کرتا ہے وہ نقصان میں رہتا ہے جو ڈرتا ہے وہ (عذاب سے )محفوظ ہو جاتا ہے اور جو عبرت حاصل کرتا ہے وہ بینا ہو جاتا ہے اور جو بینا ہو جاتا ہے وہ با فہم ہو جاتا ہے اور جو با فہم ہوتا ہے اسے علم حاصل ہوتا ہے۔ (208- محاسبہ)
جو شخص اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے وہ فائدہ اٹھاتا ہے اور جو غفلت کرتا ہے وہ نقصان میں…
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 209
حکمت (209) : یہ دنیا منہ زور ی دکھانے کے بعد پھر ہماری طرف جھکے گی جس طرح کاٹنے والی اونٹنی اپنے بچے کی طرف جھکتی ہے۔ اس کے بعد حضرت نے اس آیت کی تلاوت فرمائی۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ جو لوگ زمین میں کمزور کر دیئے گئے ہیں، ان پر احسان کریں اور ان کو پیشوا بنائیں اور انہی کو اس زمین کا مالک بنائیں (209- آخری دور)
یہ دنیا منہ زور ی دکھانے کے بعد پھر ہماری طرف جھکے گی۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 210
حکمت (210) : اللہ سے ڈرو اس شخص کے ڈرنے کے مانند جس نے دنیا کی وابستگیوں کو چھوڑ کر دامن گردان لیا اور دامن گردان کر کوشش میں لگ گیا اور اچھائیوں کے لیے اس وقفہ حیات میں تیز گامی کے ساتھ چلا اور خطروں کے پیش نظر اس نے نیکیوں کی طرف قدم بڑھایا اور اپنی قرار گاہ اور اپنے اعمال کے نتیجہ اور انجام کار کی منزل پر نظر رکھی۔ (210- آخرت)
اللہ سے ڈرو اس شخص کے ڈرنے کے مانند جس نے دنیا کی وابستگیوں کو چھوڑ کر دامن گردان لیا۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 211
حکمت (211) : سخاوت عزت آبرو کی پاسبان ہے بُرد باری احمق کے منہ کا تسمہ ہے، درگزر کرنا کامیابی کی زکوٰۃ ہے، جو غداری کرے اسے بھول جانا اس کا بدل ہے۔ مشورہ لینا خود صحیح راستہ پا جانا ہے جو شخص رائے پر اعتماد کر کے بے نیاز ہو جاتا ہے وہ اپنے کو خطرہ میں ڈالتا ہے۔ صبر مصائب و حوادث کا مقابلہ کرتا ہے۔ بیتابی و بیقرار ی زمانہ کے مدد گاروں میں سے ہے۔ بہتر ین دولتمندی آرزوؤں سے ہاتھ اٹھا لینا ہے۔ بہت سی غلام عقلیں امیروں کی ہوا و ہوس کے بارے میں دبی ہوئی ہیں۔ تجربہ و آزمائش کی نگہداشت حسن توفیق کا نتیجہ ہے دوستی و محبت اکتسابی قرابت ہے جو تم سے رنجیدہ و دل تنگ ہو اس پر اطمینان و اعتماد نہ کرو۔ (211- چند ہدایتیں)
سخاوت عزت آبرو کی پاسبان ہے، درگزر کرنا کامیابی کی زکوٰۃ ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 212
حکمت (212) : انسان کی خود پسندی اس کی عقل کے حریفوں میں سے ہے۔ (212- خود پسندی)
انسان کی خود پسندی اس کی عقل کے حریفوں میں سے ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 213
حکمت (213) : تکلیف سے چشم پوشی کر و۔ ورنہ کبھی خوش نہیں رہ سکتے۔ (213- صبر و درگزر)
تکلیف سے چشم پوشی کر و۔ ورنہ کبھی خوش نہیں رہ سکتے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 214
حکمت (214) : جس (درخت) کی لکڑی نرم ہو ااوس کی شاخیں گھنی ہوتی ہیں۔ (214- نرمی و ملائمت)
جس (درخت) کی لکڑی نرم ہو ااوس کی شاخیں گھنی ہوتی ہیں۔
مزید پڑھیے
