حکمت

483 اندراجات
حکمت (235) :  آپ علیہ السّلام سے عرض کیا گیا کہ عقلمند کے اوصاف بیان کیجئے۔ فرمایا! عقلمند وہ ہے جو ہر چیز کو اس کے موقع و محل پر رکھے۔ پھر آپ سے کہا گیا کہ جاہل کا وصف بتایئے تو فرمایا میں بیان کر چکا۔
سید رضی فرماتے ہیں کہ مقصد یہ ہے کہ جاہل وہ ہے جو کسی چیز کو اس کے موقع و محل پر نہ رکھے۔ گویا حضرت کا اسے نہ بیان کر نا ہی بیان کرنا ہے۔ کیونکہ اس کے اوصاف عقلمند کے اوصاف کے برعکس ہیں۔ (235- عاقل و جاہل) حکمت حکمت 235

حکمت (235) : آپ علیہ السّلام سے عرض کیا گیا کہ عقلمند کے اوصاف بیان کیجئے۔ فرمایا! عقلمند وہ ہے جو ہر چیز کو اس کے موقع و محل پر رکھے۔ پھر آپ سے کہا گیا کہ جاہل کا وصف بتایئے تو فرمایا میں بیان کر چکا۔ سید رضی فرماتے ہیں کہ مقصد یہ ہے کہ جاہل وہ ہے جو کسی چیز کو اس کے موقع و محل پر نہ رکھے۔ گویا حضرت کا اسے نہ بیان کر نا ہی بیان کرنا ہے۔ کیونکہ اس کے اوصاف عقلمند کے اوصاف کے برعکس ہیں۔ (235- عاقل و جاہل)

آپ علیہ السّلام نے عقلمند کے اوصاف بیان کیے۔ عقلمند وہ ہے جو ہر چیز کو اس کے موقع و…

مزید پڑھیے
حکمت (250) :  میں نے اللہ سبحانہ کو پہچانا ارادوں کے ٹوٹ جانے،نیتوں کے بدل جانے، اور ہمتوں کے پست ہو جانے سے۔ (250- خداشناسی) حکمت حکمت 250

حکمت (250) : میں نے اللہ سبحانہ کو پہچانا ارادوں کے ٹوٹ جانے،نیتوں کے بدل جانے، اور ہمتوں کے پست ہو جانے سے۔ (250- خداشناسی)

میں نے اللہ سبحانہ کو پہچانا ارادوں کے ٹوٹ جانے،نیتوں کے بدل جانے، اور ہمتوں کے پست ہو جانے سے۔

مزید پڑھیے
حکمت (236) :  خدا کی قسم تمہاری یہ دنیا میرے نزدیک سور کی انتڑیوں سے بھی زیادہ ذلیل ہے جو کسی کوڑھی کے ہاتھ میں ہوں۔ (236- دنیا کی بے قدری) حکمت حکمت 236

حکمت (236) : خدا کی قسم تمہاری یہ دنیا میرے نزدیک سور کی انتڑیوں سے بھی زیادہ ذلیل ہے جو کسی کوڑھی کے ہاتھ میں ہوں۔ (236- دنیا کی بے قدری)

خدا کی قسم تمہاری یہ دنیا میرے نزدیک سور کی انتڑیوں سے بھی زیادہ ذلیل ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (251) :  دنیا کی تلخی آخرت کی خوشگواری ہے اور دنیا کی خوشگواری آخرت کی تلخی ہے۔ (251- تلخی و شیرینی) حکمت حکمت 251

حکمت (251) : دنیا کی تلخی آخرت کی خوشگواری ہے اور دنیا کی خوشگواری آخرت کی تلخی ہے۔ (251- تلخی و شیرینی)

دنیا کی تلخی آخرت کی خوشگواری ہے اور دنیا کی خوشگواری آخرت کی تلخی ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (221) :  آخرت کے لیے بہت برا توشہ ہے بندگان خدا پر ظلم و تعدی کرنا۔ (221- ظلم و تعدی) حکمت حکمت 221

حکمت (221) : آخرت کے لیے بہت برا توشہ ہے بندگان خدا پر ظلم و تعدی کرنا۔ (221- ظلم و تعدی)

آخرت کے لیے بہت برا توشہ ہے بندگان خدا پر ظلم و تعدی کرنا۔

مزید پڑھیے
حکمت (237) :  ایک جماعت نے اللہ کی عبادت ثواب کی رغبت و خواہش کے پیشِ نظر کی، یہ سودا کرنے والوں کی عبادت ہے اور ایک جماعت نے خوف کی وجہ سے اس کی عبادت کی، اور یہ غلاموں کی عبادت ہے اور ایک جماعت نے ازروئے شکر و سپاس گزاری اس کی عبادت کی، یہ آزادوں کی عبادت ہے۔ (237- عبادت کے اقسام) حکمت حکمت 237

حکمت (237) : ایک جماعت نے اللہ کی عبادت ثواب کی رغبت و خواہش کے پیشِ نظر کی، یہ سودا کرنے والوں کی عبادت ہے اور ایک جماعت نے خوف کی وجہ سے اس کی عبادت کی، اور یہ غلاموں کی عبادت ہے اور ایک جماعت نے ازروئے شکر و سپاس گزاری اس کی عبادت کی، یہ آزادوں کی عبادت ہے۔ (237- عبادت کے اقسام)

ایک جماعت نے اللہ کی عبادت ثواب کی رغبت و خواہش کے پیشِ نظر کی، یہ سودا کرنے والوں کی…

مزید پڑھیے
حکمت (252) :  خداوند عالم نے ایمان کا فریضہ عائد کیا شرک کی آلودگیوں سے پاک کرنے کے لیے۔ اور نماز کو فرض کیا رعونت سے بچانے کے لیے اور زکوٰۃ کو رزق کے اضافہ کا سبب بنانے کے لیے، اور روزہ کو مخلوق کے اخلاص کو آزمانے کے لیے اور حج کو دین کو تقویت پہنچانے کے لیے، اور جہاد کو اسلام کو سرفرازی بخشنے کے لیے، اور امر بالمعروف کو اصلاحِ خلائق کے لیے اور نہی عن المنکر کو سرپھروں کی روک تھام کے لیے اور حقوقِ قرابت کے ادا کرنے کو (یار و انصار کی) گنتی بڑھانے کے لیے اور قصاص کو خونریزی کے انسداد کے لیے اور حدود شرعیہ کے اجراء کو محرمات کی اہمیت قائم کرنے کے لیے اور شراب خوری کے ترک کو عقل کی حفاظت کے لیے اور چوری سے پرہیز کو پاک بازی کا باعث ہونے کے لیے اور زنا سے بچنے کو نسب کے محفوظ رکھنے کے لیے اور اغلام کے ترک کو نسل بڑھانے کے لیے اور گواہی کو انکارِ حقوق کے مقابلہ میں ثبوت مہیا کرنے کے لیے اور جھوٹ سے علیٰحدگی کو سچائی کا شرف آشکارا کرنے کے لیے اور قیامِ امن کو خطروں سے تحفظ کے لیے اور امانتوں کی حفاظت کو امت کا نظام درست رکھنے کے لیے اور اطاعت کو امامت کی عظمت ظاہر کرنے کے لیے۔ (252- فرائض کے حکم و مصالح) حکمت حکمت 252

حکمت (252) : خداوند عالم نے ایمان کا فریضہ عائد کیا شرک کی آلودگیوں سے پاک کرنے کے لیے۔ اور نماز کو فرض کیا رعونت سے بچانے کے لیے اور زکوٰۃ کو رزق کے اضافہ کا سبب بنانے کے لیے، اور روزہ کو مخلوق کے اخلاص کو آزمانے کے لیے اور حج کو دین کو تقویت پہنچانے کے لیے، اور جہاد کو اسلام کو سرفرازی بخشنے کے لیے، اور امر بالمعروف کو اصلاحِ خلائق کے لیے اور نہی عن المنکر کو سرپھروں کی روک تھام کے لیے اور حقوقِ قرابت کے ادا کرنے کو (یار و انصار کی) گنتی بڑھانے کے لیے اور قصاص کو خونریزی کے انسداد کے لیے اور حدود شرعیہ کے اجراء کو محرمات کی اہمیت قائم کرنے کے لیے اور شراب خوری کے ترک کو عقل کی حفاظت کے لیے اور چوری سے پرہیز کو پاک بازی کا باعث ہونے کے لیے اور زنا سے بچنے کو نسب کے محفوظ رکھنے کے لیے اور اغلام کے ترک کو نسل بڑھانے کے لیے اور گواہی کو انکارِ حقوق کے مقابلہ میں ثبوت مہیا کرنے کے لیے اور جھوٹ سے علیٰحدگی کو سچائی کا شرف آشکارا کرنے کے لیے اور قیامِ امن کو خطروں سے تحفظ کے لیے اور امانتوں کی حفاظت کو امت کا نظام درست رکھنے کے لیے اور اطاعت کو امامت کی عظمت ظاہر کرنے کے لیے۔ (252- فرائض کے حکم و مصالح)

خداوند عالم نے ایمان کا فریضہ عائد کیا شرک کی آلودگیوں سے پاک کرنے کے لیے۔

مزید پڑھیے
حکمت (222) :  بلند انسان کے بہتر ین افعال میں سے یہ ہے کہ وہ ان چیزوں سے چشم پوشی کرے جنہیں وہ نہیں جانتا ہے۔ (222- چشم پوشی) حکمت حکمت 222

حکمت (222) : بلند انسان کے بہتر ین افعال میں سے یہ ہے کہ وہ ان چیزوں سے چشم پوشی کرے جنہیں وہ نہیں جانتا ہے۔ (222- چشم پوشی)

بلند انسان کے بہتر ین افعال میں سے یہ ہے کہ وہ ان چیزوں سے چشم پوشی کرے جنہیں وہ…

مزید پڑھیے
حکمت (238) :  عورت سراپا برائی ہے اور سب سے بڑی برائی اس میں یہ ہے کہ اس کے بغیر چارہ نہیں۔ (238- عورت کی مذمت) حکمت حکمت 238

حکمت (238) : عورت سراپا برائی ہے اور سب سے بڑی برائی اس میں یہ ہے کہ اس کے بغیر چارہ نہیں۔ (238- عورت کی مذمت)

عورت سراپا برائی ہے اور سب سے بڑی برائی اس میں یہ ہے کہ اس کے بغیر چارہ نہیں۔

مزید پڑھیے
حکمت (253) :  آپؑ فرمایا کرتے تھے کہ اگر کسی ظالم سے قسم لینا ہو تو اس سے اس طرح حلف اٹھواؤ کہ وہ اللہ کی قوت و توانائی سے بری ہے؟ کیونکہ جب وہ اس طرح جھوئی قسم کھائے گا تو جلد اس کی سزا پائے گا اور جب یوں قسم کھائے کہ قسم اُس اللہ کی جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں تو جلد اس کی گرفت نہ ہو گی، کیونکہ اُس نے اللہ کو وحدت و یکتائی کے ساتھ یاد کیا ہے۔ (253- جھوٹی قسم) حکمت حکمت 253

حکمت (253) : آپؑ فرمایا کرتے تھے کہ اگر کسی ظالم سے قسم لینا ہو تو اس سے اس طرح حلف اٹھواؤ کہ وہ اللہ کی قوت و توانائی سے بری ہے؟ کیونکہ جب وہ اس طرح جھوئی قسم کھائے گا تو جلد اس کی سزا پائے گا اور جب یوں قسم کھائے کہ قسم اُس اللہ کی جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں تو جلد اس کی گرفت نہ ہو گی، کیونکہ اُس نے اللہ کو وحدت و یکتائی کے ساتھ یاد کیا ہے۔ (253- جھوٹی قسم)

آپؑ فرمایا کرتے تھے کہ اگر کسی ظالم سے قسم لینا ہو تو اس سے اس طرح حلف اٹھاؤاؤ...

مزید پڑھیے