حکمت

483 اندراجات
حکمت (166) :  اگر کوئی شخص اپنے حق میں دیر کرے تو اس پر عیب نہیں لگایا جا سکتا۔ بلکہ عیب کی بات یہ ہے کہ انسان دوسرے کے حق پر چھاپا مارے۔ (166- حق سے دستبرداری) حکمت حکمت 166

حکمت (166) : اگر کوئی شخص اپنے حق میں دیر کرے تو اس پر عیب نہیں لگایا جا سکتا۔ بلکہ عیب کی بات یہ ہے کہ انسان دوسرے کے حق پر چھاپا مارے۔ (166- حق سے دستبرداری)

اگر کوئی شخص اپنے حق میں دیر کرے تو اس پر عیب نہیں لگایا جا سکتا۔

مزید پڑھیے
حکمت (182) :  حکیمانہ بات سے خاموشی اختیار کرنے میں بھلائی نہیں جس طرح جہالت کی بات میں کوئی اچھائی نہیں۔ (182- خاموشی و گویائی کا محل) حکمت حکمت 182

حکمت (182) : حکیمانہ بات سے خاموشی اختیار کرنے میں بھلائی نہیں جس طرح جہالت کی بات میں کوئی اچھائی نہیں۔ (182- خاموشی و گویائی کا محل)

حکیمانہ بات سے خاموشی اختیار کرنے میں بھلائی نہیں۔

مزید پڑھیے
حکمت (198) :  جب خوار ج کا قول »لاَ حُکمَ اِلاَّ اللّٰہ «(حکم اللہ سے مخصوص ہے )سنا تو فرمایا :یہ جملہ صحیح ہے مگر جو اس سے مراد لیا جاتا ہے وہ غلط ہے۔ (198- قول خوارج) حکمت حکمت 198

حکمت (198) : جب خوار ج کا قول »لاَ حُکمَ اِلاَّ اللّٰہ «(حکم اللہ سے مخصوص ہے )سنا تو فرمایا :یہ جملہ صحیح ہے مگر جو اس سے مراد لیا جاتا ہے وہ غلط ہے۔ (198- قول خوارج)

جب خوار ج کا قول »لاَ حُکمَ اِلاَّ اللّٰہ « سنا تو فرمایا: یہ جملہ صحیح ہے مگر جو اس…

مزید پڑھیے
حکمت (167) :  خود پسندی ترقی سے مانع ہوتی ہے۔ (167- خود پسندی) حکمت حکمت 167

حکمت (167) : خود پسندی ترقی سے مانع ہوتی ہے۔ (167- خود پسندی)

خود پسندی ترقی سے مانع ہوتی ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (183) :  جب دو مختلف دعوتیں ہوں گی، تو ان میں سے ایک ضرور گمراہی کی دعوت ہو گی۔ (183- دو مختلف دعوتیں) حکمت حکمت 183

حکمت (183) : جب دو مختلف دعوتیں ہوں گی، تو ان میں سے ایک ضرور گمراہی کی دعوت ہو گی۔ (183- دو مختلف دعوتیں)

جب دو مختلف دعوتیں ہوں گی، تو ان میں سے ایک ضرور گمراہی کی دعوت ہو گی۔

مزید پڑھیے
حکمت (199) :  بازاری آدمیوں کی بھیڑ بھاڑ کے بارے میں فرمایا: یہ وہ لوگ ہوتے ہیں کہ مجتمع ہوں تو چھا جاتے ہیں۔ جب منتشر ہوں تو پہچانے نہیں جاتے۔ ایک قول یہ ہے کہ آپ نے فرمایا :کہ جب اکٹھا ہوتے ہیں تو باعث ضرر ہوتے ہیں اور جب منتشر ہو جاتے ہیں تو فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں لوگوں نے کہا کہ ہمیں ان کے مجتمع ہونے کا نقصان تو معلوم ہے مگر ان کے منتشر ہونے کا فائدہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ پیشہ ور اپنے اپنے کاروبار کی طرف پلٹ جاتے ہیں تو لوگ ان کے ذریعہ فائدہ اٹھاتے ہیں جیسے معمار اپنی (زیر تعمیر )عمارت کی طرف جولاہا اپنے کاروبار کی جگہ کی طرف اور نانبائی اپنے تنور کی طرف۔ (199- عوام) حکمت حکمت 199

حکمت (199) : بازاری آدمیوں کی بھیڑ بھاڑ کے بارے میں فرمایا: یہ وہ لوگ ہوتے ہیں کہ مجتمع ہوں تو چھا جاتے ہیں۔ جب منتشر ہوں تو پہچانے نہیں جاتے۔ ایک قول یہ ہے کہ آپ نے فرمایا :کہ جب اکٹھا ہوتے ہیں تو باعث ضرر ہوتے ہیں اور جب منتشر ہو جاتے ہیں تو فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں لوگوں نے کہا کہ ہمیں ان کے مجتمع ہونے کا نقصان تو معلوم ہے مگر ان کے منتشر ہونے کا فائدہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ پیشہ ور اپنے اپنے کاروبار کی طرف پلٹ جاتے ہیں تو لوگ ان کے ذریعہ فائدہ اٹھاتے ہیں جیسے معمار اپنی (زیر تعمیر )عمارت کی طرف جولاہا اپنے کاروبار کی جگہ کی طرف اور نانبائی اپنے تنور کی طرف۔ (199- عوام)

بازاری آدمیوں کی بھیڑ بھاڑ کے بارے میں فرمایا: یہ وہ لوگ ہوتے ہیں کہ مجتمع ہوں تو چھا جاتے…

مزید پڑھیے
حکمت (168) :  آخرت کا مرحلہ قریب اور (دنیا میں) باہمی رفاقت کی مدت کم ہے۔ (168- قربِ موت) حکمت حکمت 168

حکمت (168) : آخرت کا مرحلہ قریب اور (دنیا میں) باہمی رفاقت کی مدت کم ہے۔ (168- قربِ موت)

آخرت کا مرحلہ قریب اور (دنیا میں) باہمی رفاقت کی مدت کم ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (184) :  جب سے مجھے حق دکھایا گیا ہے میں نے اس میں کبھی شک نہیں کیا۔ (184- یقین) حکمت حکمت 184

حکمت (184) : جب سے مجھے حق دکھایا گیا ہے میں نے اس میں کبھی شک نہیں کیا۔ (184- یقین)

جب سے مجھے حق دکھایا گیا ہے میں نے اس میں کبھی شک نہیں کیا۔

مزید پڑھیے
حکمت (200) :  آپ کے سامنے ایک مجرم لایا گیا جس کے ساتھ تماشائیوں کا ہجوم تھا تو آپ نے فرمایا :ان چہروں پر پھٹکار کہ جو ہر رسوائی کے موقع پر ہی نظر آتے ہیں۔ (200- تماشائی) حکمت حکمت 200

حکمت (200) : آپ کے سامنے ایک مجرم لایا گیا جس کے ساتھ تماشائیوں کا ہجوم تھا تو آپ نے فرمایا :ان چہروں پر پھٹکار کہ جو ہر رسوائی کے موقع پر ہی نظر آتے ہیں۔ (200- تماشائی)

آپ کے سامنے ایک مجرم لایا گیا جس کے ساتھ تماشائیوں کا ہجوم تھا۔

مزید پڑھیے
حکمت (169) :  آنکھ والے کے لیے صبح روشن ہو چکی ہے۔ (169- صبح کا اُجالا) حکمت حکمت 169

حکمت (169) : آنکھ والے کے لیے صبح روشن ہو چکی ہے۔ (169- صبح کا اُجالا)

آنکھ والے کے لیے صبح روشن ہو چکی ہے۔

مزید پڑھیے