حکمت
حکمت
حکمت 105
حکمت (105) : اللہ نے چند فرائض تم پر عائد کئے ہیں انہیں ضائع نہ کرو۔ اور تمہارے حدودِ کار مقرر کر دیئے گئے ہیں ان سے تجاوز نہ کرو۔ اس نے چند چیزوں سے تمہیں منع کیا ہے اس کی خلاف ورزی نہ کرو، اور جن چند چیزوں کا اس نے حکم بیان نہیں کیا، انہیں بھولے سے نہیں چھوڑ دیا۔ لہٰذا خواہ مخواہ انہیں جاننے کی کوشش نہ کرو۔ (105- فرائض کی پابندی)
اللہ نے چند فرائض تم پر عائد کئے ہیں، انہیں ضائع نہ کرو۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 90
حکمت (90) : پورا عالم و دانا وہ ہے جب لوگوں کو رحمتِ خدا سے مایوس اور اس کی طرف سے حاصل ہونے والی آسائش و راحت سے نا امید نہ کرے، اور نہ انہیں اللہ کے عذاب سے بالکل مطمئن کر دے۔ (90- پورا علم)
پورا عالم و دانا وہ ہے جب لوگوں کو رحمتِ خدا سے مایوس نہ کرے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 106
حکمت (106) : جب لوگ اپنی دنیا سنوارنے کے لیے دین سے ہاتھ اٹھا لیتے ہیں تو خدا اس دنیاوی فائدہ سے کہیں زیادہ ان کے لیے نقصان کی صورتیں پیدا کر دیتا ہے۔ (106- دین سے بے اعتنائی)
جب لوگ اپنی دنیا سنوارنے کے لیے دین سے ہاتھ اٹھا لیتے ہیں تو خدا ان کے لیے نقصان کی…
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 91
حکمت (91) : یہ دل بھی اسی طرح اکتا جاتے ہیں جس طرح بدن اکتا جاتے ہیں۔ لہٰذا (جب ایسا ہو تو) ان کے لیے لطیف حکیمانہ نکات تلاش کرو۔ (91- دل کی خستگی)
یہ دِل بھی اسی طرح اکتا جاتے ہیں جس طرح بَدَن اکتا جاتے ہیں۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 107
حکمت (107) : بہت سے پڑھے لکھوں کو (دین سے) بے خبری تباہ کر دیتی ہے اور جب علم ان کے پاس ہوتا ہے انہیں ذرا بھی فائدہ نہیں پہنچاتا۔ (107- غیر مفید علم)
بہت سے پڑھے لکھوں کو (دین سے) بے خبری تباہ کر دیتی ہے اور جب علم ان کے پاس ہوتا…
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 92
حکمت (92) : وہ علم بہت بے قدر و قیمت ہے جب زبان تک رہ جائے، اور وہ علم بہت بلند مرتبہ ہے جو اعضا و جوارح سے نمودار ہو۔ (92- علم بے عمل)
وہ علم بہت بے قدر و قیمت ہے جب زبان تک رہ جائے، اور وہ علم بہت بلند مرتبہ ہے…
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 108
حکمت (108) : اس انسان سے بھی زیادہ عجیب وہ گوشت کا ایک لوتھڑا ہے جو اس کی ایک رگ کے ساتھ آویزاں کر دیا گیا ہے اور وہ دل ہے جس میں حکمت و دانائی کے ذخیرے ہیں اور اس کے برخلاف بھی صفتیں پائی جاتی ہیں۔ اگر اسے امید کی جھلک نظر آتی ہے تو طمع اسے ذلت میں مبتلا کر تی ہے اور اگر طمع ابھرتی ہے تو اسے حرص تباہ و برباد کر دیتی ہے۔ اگر ناامیدی اس پر چھا جاتی ہے تو حسرت و اندوہ اس کے لیے جان لیوا بن جاتے ہیں اور اگر غضب اس پر طاری ہوتا ہے تو غم و غصہ شدت اختیار کر لیتا ہے اور اگر خوش و خوشنود ہوتا ہے تو حفظ ماتقدم کو بھول جاتا ہے اور اگر اچانک اس پر خوف طاری ہوتا ہے تو فکر و اندیشہ دوسری قسم کے تصورات سے اسے روک دیتا ہے۔ اگر امن امان کا دور دورہ ہوتا ہے تو غفلت اس پر قبضہ کر لیتی ہے اور اگر مال دولتمند ی اسے سرکش بنا دیتی ہے اور اگر اس پر کوئی مصیبت پڑتی ہے تو بے تابی و بے قرار ی اسے رسوا کر دیتی ہے۔ اور اگر فقر و فاقہ کی تکلیف میں مبتلا ہو تو مصیبت و ابتلاء اسے جکڑ لیتی ہے اور اگر بھوک اس پر غلبہ کرتی ہے تو ناتوانی اسے اٹھنے نہیں دیتی اور اگر شکم پری بڑھ جاتی ہے تو یہ شکم پری اس کے لیے کرب و اذیت کا باعث ہوتی ہے۔ کوتاہی اس کے لیے نقصان رساں اور حد سے زیادتی اس کے لیے تباہ کن ہوتی ہے۔ (108- دل کی حالت)
اس انسان سے بھی زیادہ عجیب وہ گوشت کا ایک لوتھڑا ہے جب اس کی ایک رگ کے ساتھ آویزاں…
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 93
حکمت (93) : تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ »اے اللہ! میں تجھ سے فتنہ و آزمائش سے پناہ چاہتا ہوں اس لیے کہ کوئی شخص ایسا نہیں جب فتنہ کی لپیٹ میں نہ ہو، بلکہ جب پناہ مانگے وہ گمراہ کرنے والے فتنوں سے پناہ مانگے کیونکہ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے اور اس بات کو جانے رہو کہ تمہارا مال اور اولاد فتنہ ہے اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ لوگوں کو مال اور اولاد کے ذریعے آزماتا ہے تاکہ یہ ظاہر ہو جائے کہ کون اپنی قسمت پر شاکر ہے اگرچہ اللہ سبحانہ ان کو اتنا جانتا ہے کہ وہ خود بھی اپنے کو اتنا نہیں جانتے۔ لیکن یہ آزمائش اس لیے ہے کہ وہ افعال سامنے آئیں جن سے ثواب و عذاب کا استحقاق پیدا ہوتا ہے کیونکہ بعض اولاد نرینہ کو چاہتے ہیں، اور لڑکیوں سے کبیدہ خاطر ہوتے ہیں اور بعض مال بڑھانے کو پسند کرتے ہیں اور بعض شکستہ حالی کو برا سمجھتے ہیں۔ (93- فتنہ کی تفسیر)
تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ »اے اللہ! میں تجھ سے فتنہ و آزمائش سے پناہ چاہتا…
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت ۱۰۹
حکمت (۱۰۹) : ہم (اہلِ بیت) ہی وہ نقطۂ اعتدال ہیں کہ پیچھے رہ جانے والے کو اس سے آ کر ملنا ہے اور آگے بڑھ جانے والے کو اس کی طرف پلٹ کر آنا ہے۔ (109- مرکز ہدایت)
ہم (اہلِ بیت) ہی وہ نقطۂ اعتدال ہیں کہ پیچھے رہ جانے والے کو اس سے آ کر ملنا ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 94
حکمت (94) : آپ سے دریافت کیا گیا کہ نیکی کیا چیز ہے تو آپ نے فرمایا کہ نیکی یہ نہیں کہ تمہارے مال و اولاد میں فراوانی ہو جائے۔ بلکہ خوبی یہ ہے کہ تمہارا علم زیادہ اور حلم بڑا ہو، اور تم اپنے پروردگار کی عبادت پر ناز کرسکو۔ اب اگر اچھا کام کرو تو اللہ کا شکر بجا لاؤ، اور اگر کسی برائی کا ارتکاب کرو تو توبہ و استغفار کرو، اور دنیا میں صرف دو شخصوں کے لیے بھلائی ہے۔ ایک وہ جو گناہ کرے تو توبہ سے اس کی تلافی کرے اور دوسرا وہ جو نیک کام میں تیز گام ہو۔ (94- خیر کی تشریح)
نیکی کا مفہوم علم اور حلم کی اہمیت ہے، نہ کہ مال و دولت کی فراوانی۔
مزید پڑھیے
