خطبہ
خطبہ
خطبہ 53
خطبہ (53) : قربانی کے جانور کے اوصاف (53- گوسفند قربانی کے اوصاف)
اس میں عید قربان اور ان صفتوں کا ذکر کیا ہے، جو گو سفند قربانی میں ہونا چاہئیں۔
مزید پڑھیے
خطبہ
خطبہ 22
خطبہ (22) : قتلِ عثمان کا الزام ۱عائد کرنے والوں کے بارے میں (22- قتل عثمان کا الزام عائد کرنے والوں کے بارے میں)
معلوم ہونا چاہیئے کہ شیطان نے اپنے گروہ کو بھڑکانا شروع کر دیا...
مزید پڑھیے
خطبہ
خطبہ 38
خطبہ (38) : شبہ کی وجہ تسمیہ (38- شبہہ کی وجہ تسمیہ اور دوستان خدا و دشمنان خدا کی مذمت)
شبہ کو شبہ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ وہ حق سے شباہت رکھتا ہے۔
مزید پڑھیے
خطبہ
خطبہ 54
خطبہ (54) : آپ کے ہاتھ پر بیعت کرنے والوں کا ہجوم (54- آپؑ کے ہاتھ پر بیعت کرنے والوں کا ہجوم)
وہ اس طرح بے تحاشا میری طرف لپکے جس طرح پانی پینے کے دن اونٹ ایک دوسرے پر ٹوٹتے ہیں۔
مزید پڑھیے
خطبہ
خطبہ 23
خطبہ (23) : حسد سے باز رہنے اور عزیز و اقارب سے حسنِ سلوک کے بارے میں (23- حسد سے باز رہنے اور عزیزو اقارب سے حسن سلوک کے بارے میں)
ہر شخص کے مقسوم میں جو کم یا زیادہ ہوتا ہے، اسے لے کر فرمان قضا آسمان سے زمین پر…
مزید پڑھیے
خطبہ
خطبہ 39
خطبہ (39) : جنگ سے جی چرانے والوں۱ کی مذمت میں (39- جنگ سے جی چرانے والوں کی مذمت میں)
میرا ایسے لوگوں سے سابقہ پڑا ہے جنہیں حکم دیتا ہوں تو مانتے نہیں۔
مزید پڑھیے
خطبہ
خطبہ 55
خطبہ (55) : صفین میں حضرت کے اصحاب نے جب اِذنِ جہاد دینے میں تاخیر پر بے چینی کا اظہار کیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا:۔ (55- میدان صفین میں جہاد میں تاخیر پر اعتراض ہوا تو فرمایا)
آپ نے فرمایا کہ مجھے موت سے کوئی پرواہ نہیں۔
مزید پڑھیے
خطبہ
خطبہ 24
خطبہ (24) : جنگ پر آمادہ کرنے کے لیے فرمایا (24- جنگ پر آمادہ کرنے کے لیے فرمایا)
مجھے اپنی زندگی کی قسم! میں حق کے خلاف چلنے والوں سے جنگ میں کسی قسم کی رُو رعایت نہیں…
مزید پڑھیے
خطبہ
خطبہ 40
خطبہ (40) : جب آپ ؑنے خوارج کا قول لاحکم الا للہ (حکم اللہ ہی کے لیے مخصوص ہے) سنا تو فرمایا:۔ (40- خوارج کے قول «لاحکم الا للہ» کے جواب میں فرمایا)
یہ جملہ تو صیح ہے مگر جو مطلب وہ لیتے ہیں، وہ غلط ہے۔
مزید پڑھیے
خطبہ
خطبہ 56
خطبہ (56) : میدانِ جنگ میں آپ کے صبر کی حالت (56- میدان جنگ میں آپؑ کی صبر و ثبات کی حالت)
ہم (مسلمان) رسول اللہ ؐ کے ساتھ ہو کر اپنے باپ، بیٹوں، بھائیوں اور چچاؤں کو قتل کرتے تھے۔
مزید پڑھیے
