خطبہ خطبہ : 39

خطبہ (39) : جنگ سے جی چرانے والوں۱ کی مذمت میں (39- جنگ سے جی چرانے والوں کی مذمت میں)

خطبہ (۳۹)
میرا ایسے لوگوں سے سابقہ پڑا ہے جنہیں حکم دیتا ہوں تو مانتے نہیں، بلاتا ہوں تو آواز پر لبیک نہیں کہتے۔ تمہارا بُرا ہو! اب اپنے اللہ کی نصرت کرنے میں تمہیں کس چیز کا انتظار ہے؟ کیا دین تمہیں ایک جگہ اکھٹا نہیں کرتا اور غیرت و حمیت تمہیں جوش میں نہیں لاتی؟میں تم میں کھڑا ہو کر چلاتا ہوں اور مدد کیلئے پکارتا ہوں لیکن تم نہ میری کوئی بات سنتے ہو، نہ میرا کوئی حکم مانتے ہو، یہاں تک کہ ان نافرمانیوں کے بُرے نتائج کھل کر سامنے آ جائیں۔ نہ تمہارے ذریعے خون کا بدلا لیا جا سکتا ہے، نہ کسی مقصد تک پہنچا جا سکتا ہے۔ میں نے تم کو تمہارے ہی بھائیوں کی مدد کیلئے پکارا تھا۔ مگر تم اس اونٹ کی طرح بلبلا نے لگے جس کی ناف میں درد ہو رہا ہو اور اس لاغر و کمزور شتر کی طرح ڈھیلے پڑ گئے جس کی پیٹھ زخمی ہو، پھر میرے پاس تم لوگوں کی ایک چھوٹی سی متزلزل و کمزور فوج آئی، اس عالم میں کہ گویا اسے اس کی نظروں کے سامنے موت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ [۱]
سیّد رضیؒ فرماتے ہیں کہ: اس خطبہ میں جو لفظ «مُتَذَآئِبٌ» آیا ہے اس کے معنی مضطرب کے ہیں۔ جب ہوائیں بل کھاتی ہوئی چلتی ہیں تو عرب اس موقعہ پر «تَذَائَبَتِ الرِّیْحُ » بولتے ہیں اور بھیڑیئے کو بھی ’’ذئب‘‘ اسی وجہ سے کہتے ہیں کہ اس کی چال میں ایک اضطرابی کیفیت ہوتی ہے۔