Hikmat

مختصر مگر گہری حکمتوں کا انتخاب

483 اندراجات
حکمت (295) :  تین قسم کے تمہارے دوست ہیں اور تین قسم کے دشمن۔ دوست یہ ہیں :تمہارا دوست، تمہارے دوست کا دوست، اور تمہارے دشمن کا دشمن اور دشمن یہ ہیں :تمہارا دشمن، تمہارے دوست کا دشمن اور تمہارے دشمن کا دوست۔ (295- دوست و دشمن) حکمت حکمت 295

حکمت (295) : تین قسم کے تمہارے دوست ہیں اور تین قسم کے دشمن۔ دوست یہ ہیں :تمہارا دوست، تمہارے دوست کا دوست، اور تمہارے دشمن کا دشمن اور دشمن یہ ہیں :تمہارا دشمن، تمہارے دوست کا دشمن اور تمہارے دشمن کا دوست۔ (295- دوست و دشمن)

تین قسم کے تمہارے دوست ہیں اور تین قسم کے دشمن۔

مزید پڑھیے
حکمت (310) :  کسی بندے کا ایمان اس وقت تک سچا نہیں ہوتا جب تک اپنے ہاتھ میں موجود ہونے والے مال سے اس پر زیادہ اطمینان نہ ہو جو قدرت کے ہاتھ میں ہے۔ (310- توکل) حکمت حکمت 310

حکمت (310) : کسی بندے کا ایمان اس وقت تک سچا نہیں ہوتا جب تک اپنے ہاتھ میں موجود ہونے والے مال سے اس پر زیادہ اطمینان نہ ہو جو قدرت کے ہاتھ میں ہے۔ (310- توکل)

کسی بندے کا ایمان اس وقت تک سچا نہیں ہوتا جب تک اپنے ہاتھ میں موجود ہونے والے مال سے…

مزید پڑھیے
حکمت (280) :  جو سفرکی دوری کو پیش نظر رکھتا ہے وہ کمر بستہ رہتا ہے۔ (280- آخرت) حکمت حکمت 280

حکمت (280) : جو سفرکی دوری کو پیش نظر رکھتا ہے وہ کمر بستہ رہتا ہے۔ (280- آخرت)

جو سفر کی دوری کو پیش نظر رکھتا ہے وہ کمر بستہ رہتا ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (296) :  حضرت نے ایک ایسے شخص کو دیکھا کہ وہ اپنے دشمن کو ایسی چیز کے ذریعہ سے نقصان پہنچانے کے درپے ہے جس میں خود اس کو بھی نقصان پہنچے گا، تو آ پ نے فرمایا کہ تم اس شخص کی مانند ہو جو اپنے پیچھے والے سوار کو قتل کرنے کے لیے اپنے سینہ میں نیزہ مارے۔ (296- ایذا رسانی) حکمت حکمت 296

حکمت (296) : حضرت نے ایک ایسے شخص کو دیکھا کہ وہ اپنے دشمن کو ایسی چیز کے ذریعہ سے نقصان پہنچانے کے درپے ہے جس میں خود اس کو بھی نقصان پہنچے گا، تو آ پ نے فرمایا کہ تم اس شخص کی مانند ہو جو اپنے پیچھے والے سوار کو قتل کرنے کے لیے اپنے سینہ میں نیزہ مارے۔ (296- ایذا رسانی)

حضرت نے فرمایا کہ تم اس شخص کی مانند ہو جو اپنے پیچھے والے سوار کو قتل کرنے کے لیے…

مزید پڑھیے
حکمت (311) :  جب حضرت بصرہ میں وارد ہوئے تو انس بن مالک کو طلحہ و زبیر کے پاس بھیجا تھا کہ ان دونوں کو کچھ وہ اقوال یاد دلائیں جو آپ علیہ السّلام کے بارے میں انہوں نے خود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنے ہیں۔ مگر انہوں نے اس سے پہلوتہی کی، اور جب پلٹ کر آئے تو کہا کہ وہ بات مجھے یاد نہیں رہی اس پر حضرت نے فرمایا اگر تم جھو ٹ بول رہے ہو تو اس کی پاداش میں خداوند عالم ایسے چمکدار داغ میں تمہیں مبتلا کرے، کہ جسے دستار بھی نہ چھپا سکے۔
(سید رضی فرماتے ہیں کہ) سفید داغ سے مراد برص ہے چنانچہ انس مر ض میں مبتلا ہو گئے جس کی وجہ سے ہمیشہ نقاب پوش دکھائی دیتے تھے۔ (311- اَنس ابن مالک) حکمت حکمت 311

حکمت (311) : جب حضرت بصرہ میں وارد ہوئے تو انس بن مالک کو طلحہ و زبیر کے پاس بھیجا تھا کہ ان دونوں کو کچھ وہ اقوال یاد دلائیں جو آپ علیہ السّلام کے بارے میں انہوں نے خود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنے ہیں۔ مگر انہوں نے اس سے پہلوتہی کی، اور جب پلٹ کر آئے تو کہا کہ وہ بات مجھے یاد نہیں رہی اس پر حضرت نے فرمایا اگر تم جھو ٹ بول رہے ہو تو اس کی پاداش میں خداوند عالم ایسے چمکدار داغ میں تمہیں مبتلا کرے، کہ جسے دستار بھی نہ چھپا سکے۔ (سید رضی فرماتے ہیں کہ) سفید داغ سے مراد برص ہے چنانچہ انس مر ض میں مبتلا ہو گئے جس کی وجہ سے ہمیشہ نقاب پوش دکھائی دیتے تھے۔ (311- اَنس ابن مالک)

حضرت علی علیہ السلام نے انس بن مالک کو طلحہ و زبیر کے اقوال یاد دلانے بھیجا تھا، مگر انہوں…

مزید پڑھیے
حکمت (281) :  آنکھوں کا دیکھنا حقیقت میں دیکھنا نہیں کیونکہ آنکھیں کبھی اپنے اشخاص سے غلط بیانی بھی کر جاتی ہیں مگر عقل اس شخص کو جو اس سے نصیحت چاہے کبھی فریب نہیں دیتی۔ (281- عقل کی رہبری) حکمت حکمت 281

حکمت (281) : آنکھوں کا دیکھنا حقیقت میں دیکھنا نہیں کیونکہ آنکھیں کبھی اپنے اشخاص سے غلط بیانی بھی کر جاتی ہیں مگر عقل اس شخص کو جو اس سے نصیحت چاہے کبھی فریب نہیں دیتی۔ (281- عقل کی رہبری)

آنکھوں کا دیکھنا حقیقت میں دیکھنا نہیں کیونکہ آنکھیں کبھی اپنے اشخاص سے غلط بیانی بھی کر جاتی ہیں۔

مزید پڑھیے
حکمت (297) :  نصیحتیں کتنی زیادہ ہیں اور ان سے اثر لینا کتنا کم ہے۔ (297- عبرت و بصیرت) حکمت حکمت 297

حکمت (297) : نصیحتیں کتنی زیادہ ہیں اور ان سے اثر لینا کتنا کم ہے۔ (297- عبرت و بصیرت)

نصیحتیں کتنی زیادہ ہیں اور ان سے اثر لینا کتنا کم ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (312) :  دل کبھی مائل ہوتے ہیں اور کبھی اچاٹ ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا جب مائل ہوں، اس وقت انہیں مستحبات کی بجا آوری پر آمادہ کرو۔ اور جب اچاٹ ہوں تو واجبات پر اکتفا کرو۔ (312- دلوں کی حالت) حکمت حکمت 312

حکمت (312) : دل کبھی مائل ہوتے ہیں اور کبھی اچاٹ ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا جب مائل ہوں، اس وقت انہیں مستحبات کی بجا آوری پر آمادہ کرو۔ اور جب اچاٹ ہوں تو واجبات پر اکتفا کرو۔ (312- دلوں کی حالت)

دل کبھی مائل ہوتے ہیں اور کبھی اچاٹ ہو جاتے ہیں۔

مزید پڑھیے
حکمت (282) :  تمہارے اور پند و نصیحت کے درمیان غفلت کا ایک بڑا پردہ حائل ہے۔ (282- غفلت) حکمت حکمت 282

حکمت (282) : تمہارے اور پند و نصیحت کے درمیان غفلت کا ایک بڑا پردہ حائل ہے۔ (282- غفلت)

تمہارے اور پند و نصیحت کے درمیان غفلت کا ایک بڑا پردہ حائل ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (298) :  جو لڑائی جھگڑے میں حد سے بڑھ جائے وہ گنہگار ہوتا ہے اور جو اس میں کمی کرے، اس پر ظلم ڈھائے جاتے ہیں اور جو لڑتا جھگڑتا ہے اس کے لیے مشکل ہوتا ہے کہ وہ خوف خدا قائم رکھے۔ (298- دشمنی میں خوفِ خدا کا لحاظ) حکمت حکمت 298

حکمت (298) : جو لڑائی جھگڑے میں حد سے بڑھ جائے وہ گنہگار ہوتا ہے اور جو اس میں کمی کرے، اس پر ظلم ڈھائے جاتے ہیں اور جو لڑتا جھگڑتا ہے اس کے لیے مشکل ہوتا ہے کہ وہ خوف خدا قائم رکھے۔ (298- دشمنی میں خوفِ خدا کا لحاظ)

جو لڑائی جھگڑے میں حد سے بڑھ جائے وہ گنہگار ہوتا ہے۔

مزید پڑھیے