Hikmat

مختصر مگر گہری حکمتوں کا انتخاب

483 اندراجات
حکمت (205) :  ہر ظرف اس سے کہ جو اس میں رکھا جائے تنگ ہوتا جاتا ہے، مگر علم کا ظرف وسیع ہوتا جاتا ہے۔ (205- ظرفِ علم) حکمت حکمت 205

حکمت (205) : ہر ظرف اس سے کہ جو اس میں رکھا جائے تنگ ہوتا جاتا ہے، مگر علم کا ظرف وسیع ہوتا جاتا ہے۔ (205- ظرفِ علم)

ہر ظرف اس سے کہ جو اس میں رکھا جائے تنگ ہوتا جاتا ہے، مگر علم کا ظرف وسیع ہوتا…

مزید پڑھیے
حکمت (206) :  بردبار کو اپنی بردباری کا پہلا عوض یہ ملتا ہے۔ کہ لوگ جہالت دکھانے والے کے خلاف اس کے طرفدار ہو جاتے ہیں۔ (206- علم و بردباری) حکمت حکمت 206

حکمت (206) : بردبار کو اپنی بردباری کا پہلا عوض یہ ملتا ہے۔ کہ لوگ جہالت دکھانے والے کے خلاف اس کے طرفدار ہو جاتے ہیں۔ (206- علم و بردباری)

بردبار کو اپنی بردباری کا پہلا عوض یہ ملتا ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (207) :  اگر تم بردبار نہیں ہو تو بظاہر برد بار بننے کی کوشش کرو، کیونکہ ایسا کم ہوتا ہے کہ کوئی شخص کسی جماعت سے شباہت اختیار کرے اور ان میں سے نہ ہو 
جائے۔
مطلب یہ ہے کہ اگر انسان طبعاً حلیم و برد بار ہو تو سے برد بار بننے کی کوشش کرنا چاہیے۔ اس طرح کہ اپنی افتادہ طبیعت کے خلاف حلم و بردباری کا مظاہرہ کرے اگرچہ طبیعت کا رخ موڑنے میں کچھ زحمت محسوس ہو گی مگر اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ آہستہ آہستہ حلم طبعی خصلت کی صورت اختیار کر لے گا اور پھر تکلف کی حاجت نہ رہے گی کیونکہ عادت رفتہ رفتہ طبیعت ثانیہ بن جایا کرتی ہے۔ (207- برد بار بنو) حکمت حکمت 207

حکمت (207) : اگر تم بردبار نہیں ہو تو بظاہر برد بار بننے کی کوشش کرو، کیونکہ ایسا کم ہوتا ہے کہ کوئی شخص کسی جماعت سے شباہت اختیار کرے اور ان میں سے نہ ہو جائے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر انسان طبعاً حلیم و برد بار ہو تو سے برد بار بننے کی کوشش کرنا چاہیے۔ اس طرح کہ اپنی افتادہ طبیعت کے خلاف حلم و بردباری کا مظاہرہ کرے اگرچہ طبیعت کا رخ موڑنے میں کچھ زحمت محسوس ہو گی مگر اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ آہستہ آہستہ حلم طبعی خصلت کی صورت اختیار کر لے گا اور پھر تکلف کی حاجت نہ رہے گی کیونکہ عادت رفتہ رفتہ طبیعت ثانیہ بن جایا کرتی ہے۔ (207- برد بار بنو)

اگر تم بردبار نہیں ہو تو بظاہر برد بار بننے کی کوشش کرو، کیونکہ ایسا کم ہوتا ہے کہ کوئی…

مزید پڑھیے
حکمت (176) :  سر برآوردہ ہونے کا ذریعہ سینہ کی وسعت ہے۔ (176- سردار کی علامت) حکمت حکمت 176

حکمت (176) : سر برآوردہ ہونے کا ذریعہ سینہ کی وسعت ہے۔ (176- سردار کی علامت)

سر برآوردہ ہونے کا ذریعہ سینہ کی وسعت ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (192) :  اے فرزند آدم علیہ السّلام! تو نے اپنی غذا سے جو زیادہ کمایا ہے اس میں دوسرے کا خزانچی ہے۔ (192- دوسروں کا حق) حکمت حکمت 192

حکمت (192) : اے فرزند آدم علیہ السّلام! تو نے اپنی غذا سے جو زیادہ کمایا ہے اس میں دوسرے کا خزانچی ہے۔ (192- دوسروں کا حق)

اے فرزند آدم علیہ السّلام! تو نے اپنی غذا سے جو زیادہ کمایا ہے اس میں دوسرے کا خزانچی ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (161) :  جو خود رائی سے کام لے گا، وہ تباہ و برباد ہو گا اور جو دوسروں سے مشورہ لے گا وہ ان کی عقلوں میں شریک ہو جائے گا۔ (161- خودرائی) حکمت حکمت 161

حکمت (161) : جو خود رائی سے کام لے گا، وہ تباہ و برباد ہو گا اور جو دوسروں سے مشورہ لے گا وہ ان کی عقلوں میں شریک ہو جائے گا۔ (161- خودرائی)

جو خود رائی سے کام لے گا، وہ تباہ و برباد ہو گا۔

مزید پڑھیے
حکمت (177) :  بد کار کی سر زنش نیک کو اس کا بدلہ دے کر کرو۔ (177- بدی سے روکنے کا طریقہ) حکمت حکمت 177

حکمت (177) : بد کار کی سر زنش نیک کو اس کا بدلہ دے کر کرو۔ (177- بدی سے روکنے کا طریقہ)

بد کار کی سر زنش نیک کو اس کا بدلہ دے کر کرو۔

مزید پڑھیے
حکمت (193) :  دلوں کے لیے رغبت و میلان، آگے بڑھنا اور پیچھے ہٹنا ہوتا ہے۔ لہٰذا ان سے اس وقت کام لو جب ان میں خواہش و میلان ہو، کیونکہ دل کو مجبور کر کے کسی کام پر لگایا جائے تو اسے کچھ سجھائی نہیں دیتا۔ (193- خوش دلی و بد دلی) حکمت حکمت 193

حکمت (193) : دلوں کے لیے رغبت و میلان، آگے بڑھنا اور پیچھے ہٹنا ہوتا ہے۔ لہٰذا ان سے اس وقت کام لو جب ان میں خواہش و میلان ہو، کیونکہ دل کو مجبور کر کے کسی کام پر لگایا جائے تو اسے کچھ سجھائی نہیں دیتا۔ (193- خوش دلی و بد دلی)

دلوں کے لیے رغبت و میلان، آگے بڑھنا اور پیچھے ہٹنا ہوتا ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (162) :  جو اپنے راز کو چھپائے رہے گا اسے پورا قابو رہے گا۔ (162- رازداری) حکمت حکمت 162

حکمت (162) : جو اپنے راز کو چھپائے رہے گا اسے پورا قابو رہے گا۔ (162- رازداری)

جو اپنے راز کو چھپائے رہے گا اسے پورا قابو رہے گا۔

مزید پڑھیے
حکمت (178) :  دوسرے کے سینہ سے کینہ و شر کی جڑ اس طرح کاٹو کہ خود اپنے سینہ سے اسے نکال پھینکو۔ (178- دل کی صفائی) حکمت حکمت 178

حکمت (178) : دوسرے کے سینہ سے کینہ و شر کی جڑ اس طرح کاٹو کہ خود اپنے سینہ سے اسے نکال پھینکو۔ (178- دل کی صفائی)

دوسرے کے سینہ سے کینہ و شر کی جڑ اس طرح کاٹو کہ خود اپنے سینہ سے اسے نکال پھینکو۔

مزید پڑھیے