Hikmat

مختصر مگر گہری حکمتوں کا انتخاب

483 اندراجات
حکمت (125) :  میں اسلام کی ایسی صحیح تعریف بیان کرتا ہوں جب مجھ سے پہلے کسی نے بیان نہیں کی۔ اسلام سر تسلیم خم کرنا ہے اور سر تسلیم جھکانا یقین ہے اور یقین تصدیق ہے اور تصدیق اعتراف فرض کی بجا آوری ہے اور فرض کی بجا آوری عمل ہے۔ (125- حقیقی اسلام) حکمت حکمت 125

حکمت (125) : میں اسلام کی ایسی صحیح تعریف بیان کرتا ہوں جب مجھ سے پہلے کسی نے بیان نہیں کی۔ اسلام سر تسلیم خم کرنا ہے اور سر تسلیم جھکانا یقین ہے اور یقین تصدیق ہے اور تصدیق اعتراف فرض کی بجا آوری ہے اور فرض کی بجا آوری عمل ہے۔ (125- حقیقی اسلام)

میں اسلام کی ایسی صحیح تعریف بیان کر تا ہوں جب مجھ سے پہلے کسی نے بیان نہیں کی۔

مزید پڑھیے
حکمت (126) :  مجھے تعجب ہوتا ہے بخیل پر کہ وہ جس فقرو ناداری سے بھاگنا چاہتا ہے، اس کی طرف تیزی سے بڑھتا ہے اور جس ثروت و خوش حالی کا طالب ہوتا ہے وہی اس کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔ وہ دنیا میں فقیروں کی سی زندگی بسر کرتا ہے اور آخرت میں دولت مندوں کا سا اس سے محاسبہ ہو گا، اور مجھے تعجب ہوتا ہے۔ متکبر و مغرور پر کہ جس کل ایک نطفہ تھا، اور کل کو مردار ہو گا۔ اور مجھے تعجب ہے اس پر جو اللہ کی پیدا کی ہوئی کائنات کو دیکھتا ہے اور پھر اس کے وجود میں شک کرتا ہے، اور تعجب ہے اس پر جو مرنے والوں کو دیکھتا ہے اور پھر موت کو بھولے ہوئے ہے۔ اور تعجب ہے اس پر کہ جو پہلی پیدائش کو دیکھتا ہے اور پھر دوبارہ اٹھائے جانے سے انکار کرتا ہے، اور تعجب ہے اس پر جو سرائے فانی کو آباد کرتا ہے اور منزل جاودانی کو چھوڑ دیتا ہے۔ (126- تعجب انگیز چیزیں) حکمت حکمت 126

حکمت (126) : مجھے تعجب ہوتا ہے بخیل پر کہ وہ جس فقرو ناداری سے بھاگنا چاہتا ہے، اس کی طرف تیزی سے بڑھتا ہے اور جس ثروت و خوش حالی کا طالب ہوتا ہے وہی اس کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔ وہ دنیا میں فقیروں کی سی زندگی بسر کرتا ہے اور آخرت میں دولت مندوں کا سا اس سے محاسبہ ہو گا، اور مجھے تعجب ہوتا ہے۔ متکبر و مغرور پر کہ جس کل ایک نطفہ تھا، اور کل کو مردار ہو گا۔ اور مجھے تعجب ہے اس پر جو اللہ کی پیدا کی ہوئی کائنات کو دیکھتا ہے اور پھر اس کے وجود میں شک کرتا ہے، اور تعجب ہے اس پر جو مرنے والوں کو دیکھتا ہے اور پھر موت کو بھولے ہوئے ہے۔ اور تعجب ہے اس پر کہ جو پہلی پیدائش کو دیکھتا ہے اور پھر دوبارہ اٹھائے جانے سے انکار کرتا ہے، اور تعجب ہے اس پر جو سرائے فانی کو آباد کرتا ہے اور منزل جاودانی کو چھوڑ دیتا ہے۔ (126- تعجب انگیز چیزیں)

مجھے تعجب ہوتا ہے بخیل پر کہ وہ جب فقرو ناداری سے بھاگنا چاہتا ہے، اس کی طرف تیزی سے…

مزید پڑھیے
حکمت (127) : جب عمل میں کوتاہی کرتا ہے، وہ رنج و اندوہ میں مبتلا رہتا ہے اور جس کے مال و جان میں اللہ کا کچھ حصہ نہ ہو، اللہ کو ایسے کی کوئی ضرورت نہیں۔ (127- کوتاہی اعمال کا نتیجہ) حکمت حکمت 127

حکمت (127) : جب عمل میں کوتاہی کرتا ہے، وہ رنج و اندوہ میں مبتلا رہتا ہے اور جس کے مال و جان میں اللہ کا کچھ حصہ نہ ہو، اللہ کو ایسے کی کوئی ضرورت نہیں۔ (127- کوتاہی اعمال کا نتیجہ)

جب عمل میں کوتاہی کرتا ہے، وہ رنج و اندوہ میں مبتلا رہتا ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (96) : انبیاء سے زیادہ خصوصیت ان لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو ان کی لائی ہوئی چیزوں کا زیادہ علم رکھتے ہوں (پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی) ابراہیم سے زیادہ خصوصیت ان لوگوں کی تھی جو ان کے فرمانبردار تھے۔ اور اب اس نبی اور ایمان لانے والوں کو خصوصیت ہے۔ (پھر فرمایا) حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دوست وہ ہے جو اللہ کی اطاعت کرے اگرچہ ان سے کوئی قرابت نہ رکھتا ہو، اور ان کا دشمن وہ ہے جو اللہ کی نافرمانی کرے، اگرچہ نزدیکی قرابت رکھتا ہو۔ (96- معیار تقرب) حکمت حکمت 96

حکمت (96) : انبیاء سے زیادہ خصوصیت ان لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو ان کی لائی ہوئی چیزوں کا زیادہ علم رکھتے ہوں (پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی) ابراہیم سے زیادہ خصوصیت ان لوگوں کی تھی جو ان کے فرمانبردار تھے۔ اور اب اس نبی اور ایمان لانے والوں کو خصوصیت ہے۔ (پھر فرمایا) حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دوست وہ ہے جو اللہ کی اطاعت کرے اگرچہ ان سے کوئی قرابت نہ رکھتا ہو، اور ان کا دشمن وہ ہے جو اللہ کی نافرمانی کرے، اگرچہ نزدیکی قرابت رکھتا ہو۔ (96- معیار تقرب)

انبیاء سے زیادہ خصوصیت ان لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جب ان کی لائی ہوئی چیزوں کا زیادہ علم رکھتے…

مزید پڑھیے
حکمت (112) : جب ہم اہل بیت سے محبت کرے اسے جامہ فقر پہننے کے لیے آمادہ رہنا چاہیے۔ (112- محبت اہل بیتؑ) حکمت حکمت 112

حکمت (112) : جب ہم اہل بیت سے محبت کرے اسے جامہ فقر پہننے کے لیے آمادہ رہنا چاہیے۔ (112- محبت اہل بیتؑ)

جب ہم اہل بیت سے محبت کرے اسے جامہ فقر پہننے کے لیے آمادہ رہنا چاہیے۔

مزید پڑھیے
حکمت (81) : ہر شَخص کی قِیمت وہ ہُنر ہے، جب اس شَخص میں ہے۔ (81- ہنر کی قدر و قیمت) حکمت حکمت 81

حکمت (81) : ہر شَخص کی قِیمت وہ ہُنر ہے، جب اس شَخص میں ہے۔ (81- ہنر کی قدر و قیمت)

ہر شَخص کی قِیمت وہ ہنر ہے، جب اس شَخص میں ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (97) :  ایک خارجی کے متعلق آپ علیہ السّلام نے سنا کہ وہ نمازِ شب پڑھتا ہے اور قرآن کی تلاوت کرتا ہے تو آپ نے فرمایا: یقین کی حالت میں سونا، شک کی حالت میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔ (97- ایک خارجی کی عبادت) حکمت حکمت 97

حکمت (97) : ایک خارجی کے متعلق آپ علیہ السّلام نے سنا کہ وہ نمازِ شب پڑھتا ہے اور قرآن کی تلاوت کرتا ہے تو آپ نے فرمایا: یقین کی حالت میں سونا، شک کی حالت میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔ (97- ایک خارجی کی عبادت)

ایک خارجی کے متعلق آپ علیہ السّلام نے سنا کہ وہ نمازِ شب پڑھتا ہے اور قرآن کی تلاوت کرتا…

مزید پڑھیے
حکمت (113) :  عقل سے بڑھ کر کوئی مال سود مند اور خود بینی سے بڑھ کر کوئی تنہائی وحشتناک نہیں اور تدبر سے بڑھ کر کوئی عقل کی بات نہیں اور کوئی بزرگی تقویٰ کے مثل نہیں اور خوش خلقی سے بہتر کوئی ساتھی اور ادب کے مانند کوئی میراث نہیں اور توفیق کے مانند کوئی پیشرو اور اعمال خیر سے بڑھ کر کوئی تجارت نہیں اور ثواب کا ایسا کوئی نفع نہیں اور کوئی پرہیز گاری شبہات میں توقف سے بڑھ کر نہیں اور حرام کی طرف بے رغبتی سے بڑھ کر کوئی زہد اور تفکر اور پیش بینی سے بڑھ کر کوئی علم نہیں اور ادائے فرائض کے مانند کوئی عبادت اور حیا و صبر سے بڑھ کر کوئی ایمان نہیں اور فروتنی سے بڑھ کر کوئی سرفرازی نہیں اور علم کے مانند کوئی بزرگی و شرافت نہیں حلم کے مانند کوئی عزت اور مشورہ سے مضبوط کوئی پشت پناہ نہیں (113- پسندیدہ اوصاف) حکمت حکمت 113

حکمت (113) : عقل سے بڑھ کر کوئی مال سود مند اور خود بینی سے بڑھ کر کوئی تنہائی وحشتناک نہیں اور تدبر سے بڑھ کر کوئی عقل کی بات نہیں اور کوئی بزرگی تقویٰ کے مثل نہیں اور خوش خلقی سے بہتر کوئی ساتھی اور ادب کے مانند کوئی میراث نہیں اور توفیق کے مانند کوئی پیشرو اور اعمال خیر سے بڑھ کر کوئی تجارت نہیں اور ثواب کا ایسا کوئی نفع نہیں اور کوئی پرہیز گاری شبہات میں توقف سے بڑھ کر نہیں اور حرام کی طرف بے رغبتی سے بڑھ کر کوئی زہد اور تفکر اور پیش بینی سے بڑھ کر کوئی علم نہیں اور ادائے فرائض کے مانند کوئی عبادت اور حیا و صبر سے بڑھ کر کوئی ایمان نہیں اور فروتنی سے بڑھ کر کوئی سرفرازی نہیں اور علم کے مانند کوئی بزرگی و شرافت نہیں حلم کے مانند کوئی عزت اور مشورہ سے مضبوط کوئی پشت پناہ نہیں (113- پسندیدہ اوصاف)

عقل سے بڑھ کر کوئی مالِ سودمند اور خودبینی سے بڑھ کر کوئی تنہائی وحشتناک نہیں۔

مزید پڑھیے
حکمت (82) : تمہیں ایسی پانچ باتوں کی ہدایت کی جاتی ہے۔ کہ اگر انہیں حاصل کرنے کے لیے اونٹوں کو ایڑ لگا کر تیز ہنکاؤ، تو وہ اسی قابل ہوں گی۔ تم میں سے کوئی شخص اللہ کے سوا کسی سے آس نہ لگائے اور اس کے گناہ کے علاوہ کسی شے سے خوف نہ کھائے اور اگر تم میں سے کسی سے کوئی ایسی بات پوچھی جائے کہ جسے وہ نہ جانتا ہو تو یہ کہنے میں نہ شرمائے کہ میں نہیں جانتا اور اگر کوئی شخص کسی بات کو نہیں جانتا تو اس کے سیکھنے میں شرمائے نہیں، اور صبر و شکیبائی اختیار کرو کیونکہ صبر کو ایمان سے وہی نسبت ہے جو سر کو بدن سے ہوتی ہے۔ اگر سر نہ ہو تو بدن بیکار ہے، یونہی ایمان کے ساتھ صبر نہ ہو تو ایمان میں کوئی خوبی نہیں۔ (82- پانچ نصیحتیں) حکمت حکمت 82

حکمت (82) : تمہیں ایسی پانچ باتوں کی ہدایت کی جاتی ہے۔ کہ اگر انہیں حاصل کرنے کے لیے اونٹوں کو ایڑ لگا کر تیز ہنکاؤ، تو وہ اسی قابل ہوں گی۔ تم میں سے کوئی شخص اللہ کے سوا کسی سے آس نہ لگائے اور اس کے گناہ کے علاوہ کسی شے سے خوف نہ کھائے اور اگر تم میں سے کسی سے کوئی ایسی بات پوچھی جائے کہ جسے وہ نہ جانتا ہو تو یہ کہنے میں نہ شرمائے کہ میں نہیں جانتا اور اگر کوئی شخص کسی بات کو نہیں جانتا تو اس کے سیکھنے میں شرمائے نہیں، اور صبر و شکیبائی اختیار کرو کیونکہ صبر کو ایمان سے وہی نسبت ہے جو سر کو بدن سے ہوتی ہے۔ اگر سر نہ ہو تو بدن بیکار ہے، یونہی ایمان کے ساتھ صبر نہ ہو تو ایمان میں کوئی خوبی نہیں۔ (82- پانچ نصیحتیں)

تمہیں ایسی پانچ باتوں کی ہدایت کی جاتی ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (98) : جب کوئی حدیث سنو تو اسے عقل کے معیار پر پرکھ لو، صرف نقل الفاظ پر بس نہ کرو، کیونکہ علم کے نقل کرنے والے تو بہت ہیں اور اس میں غور کرنے والے کم ہیں۔ (98- روایت و درایت) حکمت حکمت 98

حکمت (98) : جب کوئی حدیث سنو تو اسے عقل کے معیار پر پرکھ لو، صرف نقل الفاظ پر بس نہ کرو، کیونکہ علم کے نقل کرنے والے تو بہت ہیں اور اس میں غور کرنے والے کم ہیں۔ (98- روایت و درایت)

جب کوئی حَدِیث سُنُو تو اُسے عَقَل کے مِیَار پر پَرکھ لو، صرف نَقْلِ الفاظ پر بَس نہ کَرُو۔

مزید پڑھیے