nahjul balagah

800 اندراجات
حکمت (478) :  اللہ نے جاہلوں سے اس وقت تک سیکھنے کا عہد نہیں لیا جب تک جاننے والوں سے یہ عہد نہیں لیا کہ وہ سکھانے میں دریغ نہ کریں۔ (478- تعلیم و تعلّم) حکمت حکمت 478

حکمت (478) : اللہ نے جاہلوں سے اس وقت تک سیکھنے کا عہد نہیں لیا جب تک جاننے والوں سے یہ عہد نہیں لیا کہ وہ سکھانے میں دریغ نہ کریں۔ (478- تعلیم و تعلّم)

اللہ نے جاہلوں سے سیکھنے کا عہد نہیں لیا جب تک جاننے والوں سے یہ عہد نہیں لیا کہ وہ…

مزید پڑھیے
حکمت (463) :  دنیا ایک دوسری منزل کے لیے پیدا کی گئی ہے نہ اپنے (بقا و دوام کے) لیے۔ (463- دُنیا) حکمت حکمت 463

حکمت (463) : دنیا ایک دوسری منزل کے لیے پیدا کی گئی ہے نہ اپنے (بقا و دوام کے) لیے۔ (463- دُنیا)

دنیا ایک دوسری منزل کے لیے پیدا کی گئی ہے نہ اپنے (بقا و دوام کے) لیے۔

مزید پڑھیے
حکمت (479) :  بدترین بھائی وہ ہے جس کے لیے زحمت اٹھانا پڑے۔
سید رضی کہتے ہیں کہ یہ اس لیے کہ مقدور سے زیادہ تکلیف، رنج و مشقت کا سبب ہوتی ہے اور جس بھائی کے لیے تکلف کیا جائے، اُس سے لازمی طور پر زحمت پہنچے گی۔ لہذا وہ بُرا بھائی ہوا۔ (479- تکلّف) حکمت حکمت 479

حکمت (479) : بدترین بھائی وہ ہے جس کے لیے زحمت اٹھانا پڑے۔ سید رضی کہتے ہیں کہ یہ اس لیے کہ مقدور سے زیادہ تکلیف، رنج و مشقت کا سبب ہوتی ہے اور جس بھائی کے لیے تکلف کیا جائے، اُس سے لازمی طور پر زحمت پہنچے گی۔ لہذا وہ بُرا بھائی ہوا۔ (479- تکلّف)

بدترین بھائی وہ ہے جس کے لیے زحمت اٹھانا پڑے۔

مزید پڑھیے
حکمت (464) :  بنی امیہ کے لیے ایک مرودارواد (مہلت کا میدان )ہے جس میں وہ دوڑ لگا رہے ہیں جب ان میں باہمی اختلاف رونما ہو تو پھر بجو بھی ان پر حملہ کریں تو ان پر غالب آ جائیں گے۔
(سید رضی فرماتے ہیں کہ)مرودار واد مفعل کے وزن پر ہے اور اس کے معنی مہلت و فرصت دینے کے ہیں اور یہ بہت فصیح اور عجیب و غریب کلام ہے گویا آپ علیہ السّلام نے ان کے زمانہ مہلت کو ایک میدان سے تشبیہہ دی ہے جس میں انتہا کی حد تک پہنچنے کے لیے دوڑے جائیں گے تو ان کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ (464- بنی اُمیہ) حکمت حکمت 464

حکمت (464) : بنی امیہ کے لیے ایک مرودارواد (مہلت کا میدان )ہے جس میں وہ دوڑ لگا رہے ہیں جب ان میں باہمی اختلاف رونما ہو تو پھر بجو بھی ان پر حملہ کریں تو ان پر غالب آ جائیں گے۔ (سید رضی فرماتے ہیں کہ)مرودار واد مفعل کے وزن پر ہے اور اس کے معنی مہلت و فرصت دینے کے ہیں اور یہ بہت فصیح اور عجیب و غریب کلام ہے گویا آپ علیہ السّلام نے ان کے زمانہ مہلت کو ایک میدان سے تشبیہہ دی ہے جس میں انتہا کی حد تک پہنچنے کے لیے دوڑے جائیں گے تو ان کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ (464- بنی اُمیہ)

بنی امیہ کے لیے ایک مرودارواد (مہلت کا میدان) ہے جس میں وہ دوڑ لگا رہے ہیں۔

مزید پڑھیے
حکمت (480) :  جب کوئی مومن اپنے کسی بھائی کا احتشام کرے تو یہ اُس سے جدائی کا سبب ہو گا۔ (480- مفارقت) حکمت حکمت 480

حکمت (480) : جب کوئی مومن اپنے کسی بھائی کا احتشام کرے تو یہ اُس سے جدائی کا سبب ہو گا۔ (480- مفارقت)

جب کوئی مومن اپنے کسی بھائی کا احتشام کرے تو یہ اُس سے جدائی کا سبب ہو گا۔

مزید پڑھیے
حکمت (465) :  انصار کی مدح و توصیف میں فرمایا خدا کی قسم انہوں نے اپنی خوش حالی سے اسلام کی اس طرح تربیت کی، جس طرح یکسالہ بچھڑے کو پالا پوسا جاتا ہے۔ اپنے کریم ہاتھوں اور زبانوں کے ساتھ۔ (465- انصار) حکمت حکمت 465

حکمت (465) : انصار کی مدح و توصیف میں فرمایا خدا کی قسم انہوں نے اپنی خوش حالی سے اسلام کی اس طرح تربیت کی، جس طرح یکسالہ بچھڑے کو پالا پوسا جاتا ہے۔ اپنے کریم ہاتھوں اور زبانوں کے ساتھ۔ (465- انصار)

انصار کی مدح و توصیف میں فرمایا خدا کی قسم انہوں نے اپنی خوش حالی سے اسلام کی اس طرح…

مزید پڑھیے
حکمت (466) :  آنکھ عقب کے لیے تسمہ ہے۔
سید رضی فرماتے ہیں کہ یہ کلام عجیب و غریب استعارات میں سے ہے گویا آپ نے عقب کو ظرف سے اور آنکھ کو تسمہ سے تشبیہہ دی ہے اور تسمہ کھول دیا جائے تو برتن میں جو کچھ ہوتا ہے۔ رک نہیں سکتا مشہور واضح ہے کہ یہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے۔ مگر کچھ لوگوں نے اسے امیر المومنین علیہ السلام سے بھی روایت کیا ہے چنانچہ مبرد نے اس کا اپنی کتاب »المقتضب«باب اللفظ بالحروف میں ذکر کیا ہے اور ہم نے اپنی کتاب »مجازات الآثار النبویہ«میں اس استعار ہ کے متعلق بحث کی ہے (466- ایک استعارہ) حکمت حکمت 466

حکمت (466) : آنکھ عقب کے لیے تسمہ ہے۔ سید رضی فرماتے ہیں کہ یہ کلام عجیب و غریب استعارات میں سے ہے گویا آپ نے عقب کو ظرف سے اور آنکھ کو تسمہ سے تشبیہہ دی ہے اور تسمہ کھول دیا جائے تو برتن میں جو کچھ ہوتا ہے۔ رک نہیں سکتا مشہور واضح ہے کہ یہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے۔ مگر کچھ لوگوں نے اسے امیر المومنین علیہ السلام سے بھی روایت کیا ہے چنانچہ مبرد نے اس کا اپنی کتاب »المقتضب«باب اللفظ بالحروف میں ذکر کیا ہے اور ہم نے اپنی کتاب »مجازات الآثار النبویہ«میں اس استعار ہ کے متعلق بحث کی ہے (466- ایک استعارہ)

آنکھ عقب کے لیے تسمہ ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (467) :  ایک کلام کے ضمن آپ نے فرمایا
لوگوں کے امور کا ایک حاکم و فرماں روا ذمہ دار ہوا جو سیدھے پر چلا اور دوسروں کو اس راہ پر لگایا۔ یہاں تک کہ دین نے اپنا سینہ ٹیک دیا۔ (467- ایک والی) حکمت حکمت 467

حکمت (467) : ایک کلام کے ضمن آپ نے فرمایا لوگوں کے امور کا ایک حاکم و فرماں روا ذمہ دار ہوا جو سیدھے پر چلا اور دوسروں کو اس راہ پر لگایا۔ یہاں تک کہ دین نے اپنا سینہ ٹیک دیا۔ (467- ایک والی)

ایک کلام کے ضمن آپ نے فرمایا

مزید پڑھیے
حکمت (468) :  لوگوں پر ایک ایسا گزند پہنچانے والا دور آئے گا، جس میں مالدار اپنے مال میں بخل کرے گا حالانکہ اسے یہ حکم نہیں۔ چنانچہ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے کہ »آپس میں حسن سلوک کو فراموش نہ کرو «اس زمانہ میں شریر لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے اور نیکو کار ذلیل خوار سمجھے جائیں گے اور مجبور اور بے بس لوگوں سے خرید و فروخت کی جائے گی۔حالانکہ رسول اللہ صلی علیہ و آلہ وسلم نے مجبور و مضطر لوگوں سے (اونے پونے )خریدنے کو منع کیا ہے۔ (468- خریدو فروخت) حکمت حکمت 468

حکمت (468) : لوگوں پر ایک ایسا گزند پہنچانے والا دور آئے گا، جس میں مالدار اپنے مال میں بخل کرے گا حالانکہ اسے یہ حکم نہیں۔ چنانچہ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے کہ »آپس میں حسن سلوک کو فراموش نہ کرو «اس زمانہ میں شریر لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے اور نیکو کار ذلیل خوار سمجھے جائیں گے اور مجبور اور بے بس لوگوں سے خرید و فروخت کی جائے گی۔حالانکہ رسول اللہ صلی علیہ و آلہ وسلم نے مجبور و مضطر لوگوں سے (اونے پونے )خریدنے کو منع کیا ہے۔ (468- خریدو فروخت)

لوگوں پر ایک ایسا گزند پہنچانے والا دور آئے گا، جس میں مالدار اپنے مال میں بخل کرے گا حالانکہ…

مزید پڑھیے
حکمت (469) :  میرے بارے میں دوقسم کے لوگ ہلاکت میں مبتلا ہوں گے۔ ایک محبت میں حد سے بڑھ جانے والا اور دوسرا جھوٹ و افترا باندھنے والا۔
سید رضی کہتے ہیں کہ حضرت کایہ قول اس ارشاد کے مانند ہے کہ میرے بارے میں دوقسم کے لوگ ہلاک ہوئے ایک محبت میں غلو کرنے والا، اور دوسرا دشمنی و عناد رکھنے والا۔ (469- دشمن و دوست) حکمت حکمت 469

حکمت (469) : میرے بارے میں دوقسم کے لوگ ہلاکت میں مبتلا ہوں گے۔ ایک محبت میں حد سے بڑھ جانے والا اور دوسرا جھوٹ و افترا باندھنے والا۔ سید رضی کہتے ہیں کہ حضرت کایہ قول اس ارشاد کے مانند ہے کہ میرے بارے میں دوقسم کے لوگ ہلاک ہوئے ایک محبت میں غلو کرنے والا، اور دوسرا دشمنی و عناد رکھنے والا۔ (469- دشمن و دوست)

میرے بارے میں دوقسم کے لوگ ہلاکت میں مبتلا ہوں گے۔ ایک محبت میں حد سے بڑھ جانے والا اور…

مزید پڑھیے