nahjulbalagah

800 اندراجات
حکمت (59) : جب (برائیوں سے) خوف دلائے، وہ تمہارے لیے مژدہ سنانے والے کے مانند ہے۔ (59- ناصح کی تلخ بیانی) حکمت حکمت 59

حکمت (59) : جب (برائیوں سے) خوف دلائے، وہ تمہارے لیے مژدہ سنانے والے کے مانند ہے۔ (59- ناصح کی تلخ بیانی)

جب (برائیوں سے) خوف دلائے وہ تمہارے لیے مژدہ سنانے والے کے مانند ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (28) : جب تم (دنیا کو) پیٹھ دکھا رہے ہو، اور موت تمہاری طرف رخ کیے ہوئے بڑھ رہی ہے تو پھر ملاقات میں دیر کیسی؟ (28- موت) حکمت حکمت 28

حکمت (28) : جب تم (دنیا کو) پیٹھ دکھا رہے ہو، اور موت تمہاری طرف رخ کیے ہوئے بڑھ رہی ہے تو پھر ملاقات میں دیر کیسی؟ (28- موت)

جب تم (دنیا کو) پیٹھ دکھا رہے ہو، اور موت تمہاری طرف رخ کیے ہوئے بڑھ رہی ہے تو پھر…

مزید پڑھیے
حکمت (44) : خوشا نصیب اس کے جس نے آخرت کو یاد رکھا، حساب و کتاب کے لیے عمل کیا۔ ضرورت بھر قناعت کی اور اللہ سے راضی و خوشنود رہا۔ (44- قابل مبارکباد) حکمت حکمت 44

حکمت (44) : خوشا نصیب اس کے جس نے آخرت کو یاد رکھا، حساب و کتاب کے لیے عمل کیا۔ ضرورت بھر قناعت کی اور اللہ سے راضی و خوشنود رہا۔ (44- قابل مبارکباد)

خوشا نصیب اُس کے جس نے آخرت کو یاد رکھا، حساب و کتاب کے لیے عمل کیا۔

مزید پڑھیے
حکمت (60) :  زَبان ایک ایسا دَرِندَہ ہے کہ اگر اَسے کھلا چھوڑ دِیا جائے تو پھاڑ کھائے۔ (60- زبان کی درندگی) حکمت حکمت 60

حکمت (60) : زَبان ایک ایسا دَرِندَہ ہے کہ اگر اَسے کھلا چھوڑ دِیا جائے تو پھاڑ کھائے۔ (60- زبان کی درندگی)

زبان ایک ایسا درندہ ہے کہ اگر اسے کھلا چھوڑ دیا جائے تو پھاڑ کھائے۔

مزید پڑھیے
حکمت (29) :  ڈرو !ڈرو !اس لیے کہ بخدا اس نے اس حد تک تمہاری پردہ پوشی کی ہے، کہ گویا تمہیں بخش دیا ہے۔ (29- پردہ پوشی) حکمت حکمت 29

حکمت (29) : ڈرو !ڈرو !اس لیے کہ بخدا اس نے اس حد تک تمہاری پردہ پوشی کی ہے، کہ گویا تمہیں بخش دیا ہے۔ (29- پردہ پوشی)

ڈرو! ڈرو! اس لیے کہ بخدا اس نے اس حد تک تمہاری پردہ پوشی کی ہے، کہ گویا تمہیں بخش…

مزید پڑھیے
حکمت (45) :  اگر میں مومن کی ناک پر تلواریں لگاؤں کہ وہ مجھے دشمن رکھے ،تو جب بھی وہ مجھ سے دشمنی نہ کرے گا۔اور اگر تمام متاعِ دنیا کافر کے آگے ڈھیر کر دوں کہ وہ مجھے دوست رکھے تو بھی وہ مجھے دوست نہ رکھے گا اس لیے کہ یہ وہ فیصلہ ہے جب پیغمبر امی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے ہو گیا ہے کہ آپ نے فرمایا :
اے علی علیہ السّلام ! کوئی مومن تم سے دشمنی نہ رکھے گا اور کوئی منافق تم سے محبت نہ کرے گا۔ (45- مومن و منافق) حکمت حکمت 45

حکمت (45) : اگر میں مومن کی ناک پر تلواریں لگاؤں کہ وہ مجھے دشمن رکھے ،تو جب بھی وہ مجھ سے دشمنی نہ کرے گا۔اور اگر تمام متاعِ دنیا کافر کے آگے ڈھیر کر دوں کہ وہ مجھے دوست رکھے تو بھی وہ مجھے دوست نہ رکھے گا اس لیے کہ یہ وہ فیصلہ ہے جب پیغمبر امی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے ہو گیا ہے کہ آپ نے فرمایا : اے علی علیہ السّلام ! کوئی مومن تم سے دشمنی نہ رکھے گا اور کوئی منافق تم سے محبت نہ کرے گا۔ (45- مومن و منافق)

اگر میں مومن کی ناک پر تلواریں لگاؤں کہ وہ مجھے دشمن رکھے، تو جب بھی وہ مجھ سے دشمنی…

مزید پڑھیے
حکمت (30) :  ایمان چار ستونوں پر قائم ہے۔صبر ،یقین ،عدل اور جہاد۔ پھر صبر کی چار شاخیں ہیں۔اشتیاق، خوف ، دنیا سے بے اعتنائی اور انتظار۔اس لیے کہ جب جنت کا مشتاق ہو گا ،وہ خواہشوں کو بھلا دے گا اور جب دوزخ سے خوف کھائے گا وہ محرمات سے کنارہ کشی کرے گا اور جب دنیا سے بے اعتنائی اختیار کرے گا ،وہ مصیبتوں کو سہل سمجھے گا اور جسے موت کا انتظار ہو گا ،وہ نیک کاموں میں جلدی کرے گا۔اور یقین کی بھی چار شاخیں ہیں۔روشن نگاہی ،حقیقت رسی ،عبرت اندوزی اور اگلوں کا طور طریقہ۔چنانچہ جو دانش و آگہی حاصل کرے گا اس کے سامنے علم و عمل کی راہیں واضح ہو جائیں گی۔اور جس کے لیے علم و عمل آشکار ہو جائے گا ،وہ عبرت سے آشنا ہو گا وہ ایسا ہے جیسے وہ پہلے لوگوں میں موجود رہا ہو اور عدل کی بھی چار شاخیں ہیں ،تہوں تک پہنچنے والی فکر اور علمی گہرائی اور فیصلہ کی خوبی اور عقل کی پائیداری۔چنانچہ جس نے غور و فکر کیا ،وہ علم کی گہرائیوں میں اترا ،وہ فیصلہ کے سر چشموں سے سیراب ہو کر پلٹا اور جس نے حلم و بردباری اختیار کی۔اس نے اپنے معاملات میں کوئی کمی نہیں کی اور لوگوں میں نیک نام رہ کر زندگی بسر کی اور جہاد کی بھی چار شاخیں ہیں۔امر بالمعروف ،نہی عن المنکر ،تمام موقعوں پر راست گفتاری اور بد کرداروں سے نفرت۔چنانچہ جس نے امر بالمعروف کیا ،اس نے مومنین کی پشت مضبوط کی ،اور جس نے نہی عن المنکر کیا اس نے کافروں کو ذلیل کیا اور جس نے تمام موقعوں پر سچ بولا ،اس نے اپنا فرض ادا کر دیا اور جس نے فاسقوں کو برا سمجھا اور اللہ کے لیے غضبناک ہوا اللہ بھی اس کے لیے دوسروں پر غضبناک ہو گا اور قیامت کے دن اس کی خوشی کا سامان کرے گا۔ (30- ایمان) حکمت حکمت 30

حکمت (30) : ایمان چار ستونوں پر قائم ہے۔صبر ،یقین ،عدل اور جہاد۔ پھر صبر کی چار شاخیں ہیں۔اشتیاق، خوف ، دنیا سے بے اعتنائی اور انتظار۔اس لیے کہ جب جنت کا مشتاق ہو گا ،وہ خواہشوں کو بھلا دے گا اور جب دوزخ سے خوف کھائے گا وہ محرمات سے کنارہ کشی کرے گا اور جب دنیا سے بے اعتنائی اختیار کرے گا ،وہ مصیبتوں کو سہل سمجھے گا اور جسے موت کا انتظار ہو گا ،وہ نیک کاموں میں جلدی کرے گا۔اور یقین کی بھی چار شاخیں ہیں۔روشن نگاہی ،حقیقت رسی ،عبرت اندوزی اور اگلوں کا طور طریقہ۔چنانچہ جو دانش و آگہی حاصل کرے گا اس کے سامنے علم و عمل کی راہیں واضح ہو جائیں گی۔اور جس کے لیے علم و عمل آشکار ہو جائے گا ،وہ عبرت سے آشنا ہو گا وہ ایسا ہے جیسے وہ پہلے لوگوں میں موجود رہا ہو اور عدل کی بھی چار شاخیں ہیں ،تہوں تک پہنچنے والی فکر اور علمی گہرائی اور فیصلہ کی خوبی اور عقل کی پائیداری۔چنانچہ جس نے غور و فکر کیا ،وہ علم کی گہرائیوں میں اترا ،وہ فیصلہ کے سر چشموں سے سیراب ہو کر پلٹا اور جس نے حلم و بردباری اختیار کی۔اس نے اپنے معاملات میں کوئی کمی نہیں کی اور لوگوں میں نیک نام رہ کر زندگی بسر کی اور جہاد کی بھی چار شاخیں ہیں۔امر بالمعروف ،نہی عن المنکر ،تمام موقعوں پر راست گفتاری اور بد کرداروں سے نفرت۔چنانچہ جس نے امر بالمعروف کیا ،اس نے مومنین کی پشت مضبوط کی ،اور جس نے نہی عن المنکر کیا اس نے کافروں کو ذلیل کیا اور جس نے تمام موقعوں پر سچ بولا ،اس نے اپنا فرض ادا کر دیا اور جس نے فاسقوں کو برا سمجھا اور اللہ کے لیے غضبناک ہوا اللہ بھی اس کے لیے دوسروں پر غضبناک ہو گا اور قیامت کے دن اس کی خوشی کا سامان کرے گا۔ (30- ایمان)

ایمان چَار سُتونوں پر قَائِم ہے: صَبر، یَقین، عَدل اور جِہاد۔

مزید پڑھیے
حکمت (46) :  وہ گناہ جس کا تمہیں رنج ہو، اللہ کے نزدیک اس نیکی سے کہیں اچھا ہے جو تمہیں خود پسند بنا دے۔ (46- خود پسندی) حکمت حکمت 46

حکمت (46) : وہ گناہ جس کا تمہیں رنج ہو، اللہ کے نزدیک اس نیکی سے کہیں اچھا ہے جو تمہیں خود پسند بنا دے۔ (46- خود پسندی)

وہ گناہ جس کا تمہیں رنج ہو، اللہ کے نزدیک اس نیکی سے کہیں اچھا ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (31) :  کفر بھی چار ستونوں پر قائم ہے۔ حد سے بڑھی ہوئی کاوش، جھگڑا، لُو پن، کج روی اور اختلاف۔ تو جب بے جا تعمق و کاوش کرتا ہے، وہ حق کی طرف رجوع نہیں ہوتا اور جب جہالت کی وجہ سے آئے دن جھگڑے کرتا ہے، وہ حق سے ہمیشہ اندھا رہتا ہے اور جب حق سے منہ موڑ لیتا ہے، وہ اچھائی کو برائی اور برائی کو اچھائی سمجھنے لگتا ہے اور گمراہی کے نشہ میں مدہوش پڑا رہتا ہے اور جب حق کی خلاف ورزی کرتا ہے، اس کے راستے بہت دشوار اور اس کے معاملات سخت پیچیدہ ہو جاتے ہیں اور بچ نکلنے کی راہ اس کے لیے تنگ ہو جاتی ہے۔ شک کی بھی چار شاخیں ہیں، کٹھ حجتی، خوف، سرگردانی اور باطل کے آگے جبیں سائی۔ چنانچہ جس نے لڑائی جھگڑے کو شیوہ بنا لیا، اس کی رات کبھی صبح سے ہمکنار نہیں ہو سکتی اور جس کو سامنے کی چیزوں نے ہول میں ڈال دیا، وہ الٹے پیر پلٹ جاتا ہے اور جب شک و شبہہ میں سرگرداں رہتا ہے، اسے شیاطین اپنے پنجوں سے روند ڈالتے ہیں اور جس نے دنیا و آخرت کی تباہی کے آگے سر تسلیم خم کر دیا، وہ دوجہاں میں تباہ و برباد ہوا۔ سید رضی فرماتے ہیں کہ ہم نے طوالت کے خوف اور اس خیال سے کہ اصل مقصد جب اس بات کا ہے فوت نہ ہو، بقیہ کلام کو چھوڑ دیا ہے۔ (31- کفر) حکمت حکمت 31

حکمت (31) : کفر بھی چار ستونوں پر قائم ہے۔ حد سے بڑھی ہوئی کاوش، جھگڑا، لُو پن، کج روی اور اختلاف۔ تو جب بے جا تعمق و کاوش کرتا ہے، وہ حق کی طرف رجوع نہیں ہوتا اور جب جہالت کی وجہ سے آئے دن جھگڑے کرتا ہے، وہ حق سے ہمیشہ اندھا رہتا ہے اور جب حق سے منہ موڑ لیتا ہے، وہ اچھائی کو برائی اور برائی کو اچھائی سمجھنے لگتا ہے اور گمراہی کے نشہ میں مدہوش پڑا رہتا ہے اور جب حق کی خلاف ورزی کرتا ہے، اس کے راستے بہت دشوار اور اس کے معاملات سخت پیچیدہ ہو جاتے ہیں اور بچ نکلنے کی راہ اس کے لیے تنگ ہو جاتی ہے۔ شک کی بھی چار شاخیں ہیں، کٹھ حجتی، خوف، سرگردانی اور باطل کے آگے جبیں سائی۔ چنانچہ جس نے لڑائی جھگڑے کو شیوہ بنا لیا، اس کی رات کبھی صبح سے ہمکنار نہیں ہو سکتی اور جس کو سامنے کی چیزوں نے ہول میں ڈال دیا، وہ الٹے پیر پلٹ جاتا ہے اور جب شک و شبہہ میں سرگرداں رہتا ہے، اسے شیاطین اپنے پنجوں سے روند ڈالتے ہیں اور جس نے دنیا و آخرت کی تباہی کے آگے سر تسلیم خم کر دیا، وہ دوجہاں میں تباہ و برباد ہوا۔ سید رضی فرماتے ہیں کہ ہم نے طوالت کے خوف اور اس خیال سے کہ اصل مقصد جب اس بات کا ہے فوت نہ ہو، بقیہ کلام کو چھوڑ دیا ہے۔ (31- کفر)

کُفْر بھی چَار سُتُونوں پر قَائِم ہے۔ حَد سے بَڑھی ہوئی کَاوِش، جھَگڑا لُو پَن، کَج رَوِی اور اختِلاف۔

مزید پڑھیے
حکمت (47) :  انسان کی جتنی ہمت ہو اتنی ہی اس کی قدر و قیمت ہے اور جب جتنی مروت اور جوانمردی ہو گی اتنی ہی راست گوئی ہو گی ،اور جب جتنی حمیت و خود داری ہو گی اتنی ہی شجاعت ہو گی اور جب جتنی غیرت ہو گی اتنی ہی پاک دامنی ہو گی۔ (47- قدر ہر کس بقدر ہمت اوست) حکمت حکمت 47

حکمت (47) : انسان کی جتنی ہمت ہو اتنی ہی اس کی قدر و قیمت ہے اور جب جتنی مروت اور جوانمردی ہو گی اتنی ہی راست گوئی ہو گی ،اور جب جتنی حمیت و خود داری ہو گی اتنی ہی شجاعت ہو گی اور جب جتنی غیرت ہو گی اتنی ہی پاک دامنی ہو گی۔ (47- قدر ہر کس بقدر ہمت اوست)

انسان کی جتنی ہمت ہو اتنی ہی اس کی قدر و قیمت ہے۔

مزید پڑھیے