0 اندراجات
حکمت (329) :  سچاعذر پیش کرنے سے یہ زیادہ وقیع ہے کہ عذر کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ (329- عذر خواہی) حکمت حکمت 329

حکمت (329) : سچاعذر پیش کرنے سے یہ زیادہ وقیع ہے کہ عذر کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ (329- عذر خواہی)

سچاعذر پیش کرنے سے یہ زیادہ وقیع ہے کہ عذر کی ضرورت ہی نہ پڑے۔

مزید پڑھیے
حکمت (330) :  اللہ کا کم سے کم حق جو تم پر عائد ہوتا ہے یہ ہے کہ اس کی نعمتوں سے گناہوں میں مدد نہ لو۔ (330- نعمت کا صرف بے جا) حکمت حکمت 330

حکمت (330) : اللہ کا کم سے کم حق جو تم پر عائد ہوتا ہے یہ ہے کہ اس کی نعمتوں سے گناہوں میں مدد نہ لو۔ (330- نعمت کا صرف بے جا)

اللہ کا کم سے کم حق جو تم پر عائد ہوتا ہے یہ ہے کہ اس کی نعمتوں سے گناہوں…

مزید پڑھیے
حکمت (331) :  جب کاہل اور ناکارہ افراد عمل میں کوتاہی کرتے ہیں تو اللہ کی طرف سے یہ عقلمندوں کے لیے ادائے فرض کا ایک بہترین موقع ہوتا ہے۔ (331- ادائے فرض کا موقعہ) حکمت حکمت 331

حکمت (331) : جب کاہل اور ناکارہ افراد عمل میں کوتاہی کرتے ہیں تو اللہ کی طرف سے یہ عقلمندوں کے لیے ادائے فرض کا ایک بہترین موقع ہوتا ہے۔ (331- ادائے فرض کا موقعہ)

کاہل اور ناکارہ افراد کی کوتاہی سے عقلمندوں کے لیے ادائے فرض کا موقع ملتا ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (332) :  حکام اللہ کی سر زمین میں اس کے پاسبان ہیں۔ (332- بادشاہ کی حیثیت) حکمت حکمت 332

حکمت (332) : حکام اللہ کی سر زمین میں اس کے پاسبان ہیں۔ (332- بادشاہ کی حیثیت)

حکام اللہ کی سر زمین میں اس کے پاسبان ہیں۔

مزید پڑھیے
حکمت (333) :  مومن کے متعلق فرمایا! مومن کے چہرے پر بشاشت اور دل میں غم و اندوہ ہوتا ہے۔ ہمت اس کی بلند ہے اور اپنے دل میں وہ اپنے کو ذلیل سمجھتا ہے سر بلندی کو برا سمجھتا ہے اور شہرت سے نفرت کرتا ہے اس کا غم بے پایاں اور ہمت بلند ہوتی ہے۔ بہت خاموش ہمہ وقت مشغول، شاکر، صابر، فکر میں غرق، دست طلب بڑھانے میں بخیل، خوش خلق اور نرم طبیعت ہوتا ہے اور اس کا نفس پتھر سے زیادہ سخت اور خود غلام سے زیادہ متواضع ہوتا ہے۔ (333- مومن کے اوصاف) حکمت حکمت 333

حکمت (333) : مومن کے متعلق فرمایا! مومن کے چہرے پر بشاشت اور دل میں غم و اندوہ ہوتا ہے۔ ہمت اس کی بلند ہے اور اپنے دل میں وہ اپنے کو ذلیل سمجھتا ہے سر بلندی کو برا سمجھتا ہے اور شہرت سے نفرت کرتا ہے اس کا غم بے پایاں اور ہمت بلند ہوتی ہے۔ بہت خاموش ہمہ وقت مشغول، شاکر، صابر، فکر میں غرق، دست طلب بڑھانے میں بخیل، خوش خلق اور نرم طبیعت ہوتا ہے اور اس کا نفس پتھر سے زیادہ سخت اور خود غلام سے زیادہ متواضع ہوتا ہے۔ (333- مومن کے اوصاف)

مومن کے چہرے پر بشاشت اور دل میں غم و اندوہ ہوتا ہے۔ ہمت اس کی بلند ہے اور اپنے…

مزید پڑھیے
حکمت (334) :  اگر کوئی بندہ مدت حیات اور اس کے انجام کو دیکھے تو امیدوں اور ان کے فریب سے نفرت کرنے لگے۔ (334- فریب آرزو) حکمت حکمت 334

حکمت (334) : اگر کوئی بندہ مدت حیات اور اس کے انجام کو دیکھے تو امیدوں اور ان کے فریب سے نفرت کرنے لگے۔ (334- فریب آرزو)

اگر کوئی بندہ مدت حیات اور اس کے انجام کو دیکھے تو امیدوں اور ان کے فریب سے نفرت کرنے…

مزید پڑھیے
حکمت (335) :  ہر شخص کے مال میں دو حصہ دار ہوتے ہیں۔ ایک وارث اور دوسرے حوادث۔ (335- دوحصہ دار) حکمت حکمت 335

حکمت (335) : ہر شخص کے مال میں دو حصہ دار ہوتے ہیں۔ ایک وارث اور دوسرے حوادث۔ (335- دوحصہ دار)

ہر شخص کے مال میں دو حصہ دار ہوتے ہیں۔ ایک وارث اور دوسرے حوادث۔

مزید پڑھیے
حکمت (336) :  جس سے مانگا جائے وہ اس وقت تک آزاد ہے، جب تک وعدہ نہ کرے۔ (336- وعدہ وفائی) حکمت حکمت 336

حکمت (336) : جس سے مانگا جائے وہ اس وقت تک آزاد ہے، جب تک وعدہ نہ کرے۔ (336- وعدہ وفائی)

جس سے مانگا جائے وہ اس وقت تک آزاد ہے، جب تک وعدہ نہ کرے۔

مزید پڑھیے
حکمت (337) :  جو عمل نہیں کرتا اور دعا مانگتا ہے وہ ایسا ہے جیسے بغیر حلیہ کمان کے تیر چلانے والا۔ (337- بےعمل کی دُعا) حکمت حکمت 337

حکمت (337) : جو عمل نہیں کرتا اور دعا مانگتا ہے وہ ایسا ہے جیسے بغیر حلیہ کمان کے تیر چلانے والا۔ (337- بےعمل کی دُعا)

جو عمل نہیں کرتا اور دعا مانگتا ہے وہ ایسا ہے جیسے بغیر حلیہ کمان کے تیر چلانے والا۔

مزید پڑھیے
حکمت (317) :  ایک یہودی نے آپ سے کہا کہ ابھی تم لوگوں نے اپنے نبی کو دفن نہیں کیا تھا کہ ان کے بارے میں اختلاف شروع کر دیا۔ حضرت نے فرمایا ہم نے ان کے بارے میں اختلاف نہیں کیا۔ بلکہ ان کے بعد جانشینی کے سلسلہ میں اختلاف ہوا مگر تم تو وہ ہو کہ ابھی دریائے نیل سے نکل کر تمہارے پیر خشک بھی نہ ہوئے تھے کہ اپنے نبی سے کہنے لگے کہ ہمارے لیے بھی ایک ایسا خدا بنا دیجئے جیسے ان لوگوں کے خدا ہیں۔ توموسیٰ علیہ السّلام نے کہا کہ بیشک تم ایک جاہل قوم ہو۔ (317- ایک یہودی) حکمت حکمت 317

حکمت (317) : ایک یہودی نے آپ سے کہا کہ ابھی تم لوگوں نے اپنے نبی کو دفن نہیں کیا تھا کہ ان کے بارے میں اختلاف شروع کر دیا۔ حضرت نے فرمایا ہم نے ان کے بارے میں اختلاف نہیں کیا۔ بلکہ ان کے بعد جانشینی کے سلسلہ میں اختلاف ہوا مگر تم تو وہ ہو کہ ابھی دریائے نیل سے نکل کر تمہارے پیر خشک بھی نہ ہوئے تھے کہ اپنے نبی سے کہنے لگے کہ ہمارے لیے بھی ایک ایسا خدا بنا دیجئے جیسے ان لوگوں کے خدا ہیں۔ توموسیٰ علیہ السّلام نے کہا کہ بیشک تم ایک جاہل قوم ہو۔ (317- ایک یہودی)

ایک یہودی نے آپ سے کہا کہ ابھی تم لوگوں نے اپنے نبی کو دفن نہیں کیا تھا کہ ان…

مزید پڑھیے