حکمت
حکمت 92
حکمت (92) : وہ علم بہت بے قدر و قیمت ہے جب زبان تک رہ جائے، اور وہ علم بہت بلند مرتبہ ہے جو اعضا و جوارح سے نمودار ہو۔ (92- علم بے عمل)
وہ علم بہت بے قدر و قیمت ہے جب زبان تک رہ جائے، اور وہ علم بہت بلند مرتبہ ہے…
حکمت
حکمت 93
حکمت (93) : تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ »اے اللہ! میں تجھ سے فتنہ و آزمائش سے پناہ چاہتا ہوں اس لیے کہ کوئی شخص ایسا نہیں جب فتنہ کی لپیٹ میں نہ ہو، بلکہ جب پناہ مانگے وہ گمراہ کرنے والے فتنوں سے پناہ مانگے کیونکہ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے اور اس بات کو جانے رہو کہ تمہارا مال اور اولاد فتنہ ہے اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ لوگوں کو مال اور اولاد کے ذریعے آزماتا ہے تاکہ یہ ظاہر ہو جائے کہ کون اپنی قسمت پر شاکر ہے اگرچہ اللہ سبحانہ ان کو اتنا جانتا ہے کہ وہ خود بھی اپنے کو اتنا نہیں جانتے۔ لیکن یہ آزمائش اس لیے ہے کہ وہ افعال سامنے آئیں جن سے ثواب و عذاب کا استحقاق پیدا ہوتا ہے کیونکہ بعض اولاد نرینہ کو چاہتے ہیں، اور لڑکیوں سے کبیدہ خاطر ہوتے ہیں اور بعض مال بڑھانے کو پسند کرتے ہیں اور بعض شکستہ حالی کو برا سمجھتے ہیں۔ (93- فتنہ کی تفسیر)
تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ »اے اللہ! میں تجھ سے فتنہ و آزمائش سے پناہ چاہتا…
حکمت
حکمت 94
حکمت (94) : آپ سے دریافت کیا گیا کہ نیکی کیا چیز ہے تو آپ نے فرمایا کہ نیکی یہ نہیں کہ تمہارے مال و اولاد میں فراوانی ہو جائے۔ بلکہ خوبی یہ ہے کہ تمہارا علم زیادہ اور حلم بڑا ہو، اور تم اپنے پروردگار کی عبادت پر ناز کرسکو۔ اب اگر اچھا کام کرو تو اللہ کا شکر بجا لاؤ، اور اگر کسی برائی کا ارتکاب کرو تو توبہ و استغفار کرو، اور دنیا میں صرف دو شخصوں کے لیے بھلائی ہے۔ ایک وہ جو گناہ کرے تو توبہ سے اس کی تلافی کرے اور دوسرا وہ جو نیک کام میں تیز گام ہو۔ (94- خیر کی تشریح)
نیکی کا مفہوم علم اور حلم کی اہمیت ہے، نہ کہ مال و دولت کی فراوانی۔
حکمت
حکمت 95
حکمت (95) : جب عمل تقویٰ کے ساتھ انجام دیا جائے وہ تھوڑا نہیں سمجھا جا سکتا، اور مقبول ہونے والا عمل تھوڑا کیوں کر ہو سکتا ہے ؟ (95- معیار عمل)
جب عمل تقویٰ کے ساتھ انجام دیا جائے وہ تھوڑا نہیں سمجھا جا سکتا۔
حکمت
حکمت 96
حکمت (96) : انبیاء سے زیادہ خصوصیت ان لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو ان کی لائی ہوئی چیزوں کا زیادہ علم رکھتے ہوں (پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی) ابراہیم سے زیادہ خصوصیت ان لوگوں کی تھی جو ان کے فرمانبردار تھے۔ اور اب اس نبی اور ایمان لانے والوں کو خصوصیت ہے۔ (پھر فرمایا) حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دوست وہ ہے جو اللہ کی اطاعت کرے اگرچہ ان سے کوئی قرابت نہ رکھتا ہو، اور ان کا دشمن وہ ہے جو اللہ کی نافرمانی کرے، اگرچہ نزدیکی قرابت رکھتا ہو۔ (96- معیار تقرب)
انبیاء سے زیادہ خصوصیت ان لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جب ان کی لائی ہوئی چیزوں کا زیادہ علم رکھتے…
حکمت
حکمت 97
حکمت (97) : ایک خارجی کے متعلق آپ علیہ السّلام نے سنا کہ وہ نمازِ شب پڑھتا ہے اور قرآن کی تلاوت کرتا ہے تو آپ نے فرمایا: یقین کی حالت میں سونا، شک کی حالت میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔ (97- ایک خارجی کی عبادت)
ایک خارجی کے متعلق آپ علیہ السّلام نے سنا کہ وہ نمازِ شب پڑھتا ہے اور قرآن کی تلاوت کرتا…
حکمت
حکمت 98
حکمت (98) : جب کوئی حدیث سنو تو اسے عقل کے معیار پر پرکھ لو، صرف نقل الفاظ پر بس نہ کرو، کیونکہ علم کے نقل کرنے والے تو بہت ہیں اور اس میں غور کرنے والے کم ہیں۔ (98- روایت و درایت)
جب کوئی حَدِیث سُنُو تو اُسے عَقَل کے مِیَار پر پَرکھ لو، صرف نَقْلِ الفاظ پر بَس نہ کَرُو۔
حکمت
حکمت 99
حکمت (99) : ایک شخص کو اِنَا لِلّٰہِ وَ اِنَا اِلَیْهِ رَاجِعُونَ، (ہم اللہ کے ہیں اور اللہ کی طرف پلٹنا ہے) کہتے سنا تو فرمایا کہ ہمارا یہ کہنا کہ »ہم اللہ کے ہیں«۔ اس کے مالک ہونے کا اعتراف ہے اور یہ کہنا کہ ہمیں اسی کی طرف پلٹنا ہے۔ یہ اپنے لیے فنا کا اقرار ہے۔ (99- ﴿ اِنَّا لِلہِ وَاِنَّآ اِلَيْہِ رٰجِعُوْنَ﴾ کی تفسیر)
ہم ٱللَّهِ کے ہیں اور ٱللَّهِ کی طرف پلٹنا ہے۔ یہ فَنَا کا اقرار ہے۔
حکمت
حکمت 100
حکمت (100) : کچھ لوگوں نے آپ علیہ السّلام کے روبرو آپ علیہ السّلام کی مدح و ستائش کی، تو فرمایا۔ اے اللہ! تو مجھے مجھ سے بھی زیادہ جانتا ہے، اور ان لوگوں سے زیادہ اپنے نفس کو میں پہچانتا ہوں۔ اے خدا جب ان لوگوں کا خیال ہے ہمیں اس سے بہتر قرار دے اور ان (لغزشوں) کو بخش دے جن کا انہیں علم نہیں۔ (100- جواب مدح)
کچھ لوگوں نے آپ علیہ السّلام کے روبرو آپ علیہ السّلام کی مدح و ستائش کی، تو فرمایا۔
حکمت
حکمت 101
حکمت (101) : حاجت روائی تین چیزوں کے بغیر پائدار نہیں ہوتی۔ اسے چھوٹا سمجھا جائے تاکہ وہ بڑی قرار پائے، اسے چھپایا جائے تاکہ وہ خود بخود ظاہر ہو، اور اس میں جلدی کی جائے تاکہ وہ خوش گوار ہوں۔ (101- حاجت روائی)
حاجَت رَوائی تین چیزوں کے بغیر پائِدار نہیں ہوتی۔
